Abd Add
 

افغانستان سے انخلا

نائن الیون، القاعدہ اور امریکی پروپیگنڈا مشینری

September 1, 2010 // 0 Comments

نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر جس مقام پر تعمیر کیا گیا تھا اس کے نزدیک مسجد تعمیر کرنے کے منصوبے کی مخالفت امریکا بھر میں تجزیاتی فیشن کا درجہ اختیار کرگیا ہے۔ جو لوگ اظہار رائے کی آزادی کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور ہر وقت اس کی وکالت میں رطب اللسان رہتے ہیں وہ بھی گراؤنڈ زیرو مسجد کے خلاف میدان میں نکل آئے ہیں۔ مرکزی میڈیا میں اس قدر پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ ساتھ ہی ساتھ یہ ڈھول بھی پیٹا جارہا ہے کہ القاعدہ ایک بار پھر منظم ہوچکی ہے اور نائن الیون جیسا ایک اور واقعہ کسی بھی وقت رونما ہوسکتا ہے۔ جارج واکر بش، ڈک چینی اور ان کے رفقا نے نو [مزید پڑھیے]

افغانستان سے انخلا، امریکا کی دہری پالیسی

August 16, 2010 // 0 Comments

افغانستان میں صورت حال جتنی تیزی سے تبدیل ہوتی جارہی ہے، امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے مشکلات میں بھی اسی قدر اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور ہالینڈ نے جلد از جلد انخلا کی ضرورت پر زور دینا جاری رکھا ہے۔ امریکی صدر بارک اوباما کے لیے افغانستان سے جلد از جلد انخلا بہت سود مند امر ثابت ہوسکتا ہے۔ ۲۰۱۲ء میں صدارتی انتخاب ہونا ہے اور اس سے قبل افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی غیر معمولی طور پر مثبت نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ افغانستان سے انخلا تو خیر امریکی صدر اور ان کے ساتھیوں کی خواہش ہے مگر امریکی فوج کچھ اور سوچ رہی ہے۔ اس نے اشارہ دیا ہے کہ ابھی بہت کچھ ادھورا پڑا ہے لہٰذا افغانستان [مزید پڑھیے]

میک کرسٹل کے بعد

July 16, 2010 // 0 Comments

افغانستان میں امریکا کے سابق فوجی کمانڈر جنرل اسٹینلے میک کرسٹل اور ان کے ساتھیوں کا کہنا تھا کہ واحد سپر پاور کا مشیر برائے قومی سلامتی مسخرہ ہے، نائب صدر کچھ بھی نہیں اور صدر کا حال یہ ہے کہ وہ معاملات سے مطمئن نہیں اور خوفزدہ ہے۔ اس رائے کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکی صدر بارک اوباما نے قدرے بے خوفی کے ساتھ جنرل میک کرسٹل کو برطرف کرکے ان کا کیریئر ختم کردیا۔ ریاستی امور میں سویلین سیٹ اپ کی برتری ثابت کرنے کے لیے یہ اقدام ناگزیر تھا۔ میک کرسٹل اور ان کے ساتھیوں کی رائے سے امریکی خارجہ پالیسی پر وہی زد پڑ رہی تھی جو طالبان کے کسی بڑے حملے سے امریکی فوج پر پڑتی ہے۔ جنرل میک [مزید پڑھیے]

1 2 3