افغانستان

افغانستان میں بڑھتے ہوئے خطرات

June 1, 2017 // 0 Comments

افغانستان میں بڑھتی ہوئی شورش اور بے ہنگم سیاست عدم استحکام میں اضافہ کر رہی ہے، ۲۰۱۴ء میں بین الاقوامی فوجی انخلا کے بعد سے طالبان نے تیزی کے ساتھ ملک بھر میں اپنی موجودگی میں وسعت دی ہے، داعش سے وابستہ اسلامی اسٹیٹ خراساں بھی مشرقی اضلاع میں قدم جما چکی ہے، تلخی کے ساتھ لڑے گئے ۲۰۱۴ء کے صدارتی انتخابات نے ملک کو افراتفری میں دھکیل دیا ہے، قومی اتحادی حکومت کو اندرونی اختلافات اور غیر فعالیت نے گھیر لیا ہے جس کی وجہ سے افغان سیکورٹی فورسز کی شورش کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کمزور ہوگئی ہے اس کے ساتھ حکومت کی گورننس ، معاشی اور انسانی بحران کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت بھی کمزور ہوگئی ہے، شہری اور فوجی [مزید پڑھیے]

افغانستان: شکست سے بہتر ’’تعطل!‘‘

March 16, 2017 // 0 Comments

افغانستان کے معاملات کا سرسری جائزہ لینے کے لیے آنے والا کوئی بھی مبصر، تجزیہ کار یا صحافی کسی امریکی کمانڈر کو نئے امریکی صدر سے مزید فوجی بھیجنے کی فرمائش کرتا ہوا دیکھ کر کچھ عجیب محسوس کرسکتا ہے۔ ۲۰۰۹ء میں بھی یہی ہوا تھا جب امریکی کمانڈر جنرل اسٹینلے مک کرسٹل نے نومنتخب صدر براک اوباما کو خبردار کیا تھا کہ اگر فوری طور پر مزید ہزاروں فوجی افغانستان نہ بھیجے گئے تو ’’مشن‘‘ ناکامی سے دوچار ہو جائے گا۔ اور اب بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں سکونت اختیار کرلی ہے اور اُن سے مزید فوجی بھیجنے کی فرمائش کرنے سے گریز نہیں کیا جارہا۔ جنرل جان ڈبلیو مک نکلسن نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے [مزید پڑھیے]

مستقبل کی افغان ریاست اور طالبان | 5

March 1, 2017 // 0 Comments

فی زمانہ اقتدار میں شراکت طالبان کا سیاسی ونگ کہتا ہے کہ اب حالات بہت مختلف ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ طالبان بارگیننگ پوزیشن میں نہیں رہے، اس لیے اپنے موقف سے ہٹ رہے ہیں۔ اگر طالبان اب بھی عسکری فتح سے ہمکنار ہوں تب بھی سیاسی اجارہ داری قائم کرنا کسی بھی قرینِ دانش نہ ہوگا کیونکہ ایسا کرنے سے صرف خرابیاں پیدا ہوں گی، معاملات مزید الجھیں گے۔ فی زمانہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی حکمتِ عملی ہی بہترین آپشن ہے۔ بی کے کہتے ہیں کہ ۱۹۹۰ء کے عشرے میں طالبان قائدین کی اکثریت سیاسی اجارہ داری کے حق میں تھی مگر اب ایسا نہیں۔ فی زمانہ سیاسی اجارہ داری کے حق میں بولنے والے خال خال ہیں۔ طالبان قیادت سے [مزید پڑھیے]

مستقبل کی افغان ریاست اور طالبان | 4

February 16, 2017 // 0 Comments

سیاسی ونگ سے جامع گفتگو طالبان کے سیاسی ونگ سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے خیالات اور نظریات جاننے کے لیے ۱۹ شخصیات سے انٹرویو کیے گئے۔ ان میں سے ایک شخصیت کا چونکہ طالبان سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں تھا اس لیے اس کے خیالات اس رپورٹ میں شامل نہیں کیے گئے۔ اسی طور جن دو دو شخصیات نے دوسروں کے خیالات کی محض تصدیق کی اور اپنے خیالات کے اظہار سے اجتناب برتا ان کی باتیں بھی اس رپورٹ کا حصہ نہیں بنائی گئیں۔ زیر نظر رپورٹ میں جن ۱۶ شخصیات سے کیے جانے والے انٹرویوز کے مندرجات پیش کیے جارہے ہیں ان کی شناخت پوشیدہ رکھی گئی ہے، تاہم انگریزی کے دو حروف پر مبنی نام ہر ایک کو [مزید پڑھیے]

مستقبل کی افغان ریاست اور طالبان | 3

February 1, 2017 // 0 Comments

اسلامی ریاست میں زندگی کس طور کی ہوگی؟ ٭ انٹرویوز سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ معاشرت کے حوالے سے طالبان کی سرکردہ شخصیات کے خیالات میں تبدیلی آئی ہے۔ یہ سب کچھ ۱۹۹۰ء کے عشرے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کا نتیجہ ہے۔ طالبان کے بیشتر قائدین ایک عشرے سے بھی زائد مدت سے پاکستان اور خلیج میں رہے ہیں۔ اس سے ان کی سوچ میں وسعت پیدا ہوئی ہے۔ معاملات کو سمجھنے اور اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرنے کی ان کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان کی بہت سی شخصیات نے مزید تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کا مطالعہ وسیع ہوا ہے جس کے نتیجے میں سوچ بھی گہری [مزید پڑھیے]

مستقبل کی افغان ریاست اور طالبان | 2

January 16, 2017 // 0 Comments

یہ رپورٹ سینٹر آن انٹرنیشنل کوآپریشن (CIC) کی تیار شدہ ہے۔ CIC نیویارک یونیورسٹی کے شعبۂ سماجی اور سائنسی علوم کے تحت قائم تحقیقی مرکز ہے۔ CIC کی ویب گاہ کے مطابق اِس کا بنیادی مقصد عالمی تنازعات اور مسائل میں بین الاقوامی تعاون اور اشتراکِ عمل کو فروغ دینا ہے۔ CIC آسٹریلیا، برازیل، انڈیا، چائنا، قطر، دبئی، امریکا اور یورپ سمیت دنیا بھر کے تحقیقی مراکز اور مجلسِ دانش وراں (Think Tank) سے قریبی تعلقات رکھتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون کی پہلی قسط یکم دسمبر ۲۰۱۶ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔[مزید پڑھیے]

اسلامی جمہوریہ افغانستان اور حزب اسلامی افغانستان کے مابین امن معاہدہ کا متن

December 16, 2016 // 1 Comment

مقدمہ چونکہ جنگ کا خاتمہ، پائیدار امن و صلح اور ملک میں عدل و انصاف کا قیام پوری افغان قوم کا بنیادی تقاضا ہے اور یہی سربلند، آزاد، خودمختار اور ترقی یافتہ افغانستان کی بقا اور ارتقا کی ضمانت دیتا ہے۔ اس لیے ملک کے ہر فرد، سارے اسٹیک ہولڈرز (Stake Holders) اور تمام جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ باہم دست و بازو ہو کر ان مشکل اہداف کی تکمیل کے لیے مل کر کام کریں۔ ملک کے موجودہ حالات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ مسلط کردہ جنگ، بدامنی، عدم استحکام اور بے انصافی کے عوامل کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ ضرورت ہے کہ سب لوگ باہم مل کر ان تمام عوامل کا مقابلہ کریں جو افغانستان کی ملی وحدت، خودمختاری، قومی [مزید پڑھیے]

مستقبل کی افغان ریاست اور طالبان

December 1, 2016 // 0 Comments

یہ رپورٹ سینٹر آن انٹرنیشنل کوآپریشن (CIC) کی تیار شدہ ہے۔ CIC نیویارک یونیورسٹی کے شعبۂ سماجی اور سائنسی علوم کے تحت قائم تحقیقی مرکز ہے۔ CIC کی ویب گاہ کے مطابق اِس کا بنیادی مقصد عالمی تنازعات اور مسائل میں بین الاقوامی تعاون اور اشتراکِ عمل کو فروغ دینا ہے۔ CIC آسٹریلیا، برازیل، انڈیا، چائنا، قطر، دبئی، امریکا اور یورپ سمیت دنیا بھر کے تحقیقی مراکز اور مجلسِ دانش وراں (Think Tank) سے قریبی تعلقات رکھتی ہے۔ افغانستان میں مستقبل کے ریاستی ڈھانچے کے بارے میں طالبان کے سرکردہ ارکان اور رہنماؤں کے خیالات جاننے سے متعلق اس رپورٹ کے مصنفین بنیادی خیال کے لیے ایڈمنڈ ہیلے کے اور تعاون کے لیے فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس (یو کے) کے شکر گزار ہیں۔ نیو [مزید پڑھیے]

1 2 3