Abd Add
 

افغانستان

افغانستان میں نیا بادشاہ گر

May 1, 2013 // 0 Comments

افغانستان میں بہت کچھ تبدیل ہو رہا ہے۔ ایک متوقع بادشاہ گر نے بہتوں کو قیاس آرائیوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ افغانستان میں کابل سے باہر کم ہی لوگ اتنے طاقتور ہیں جتنے بلخ کے گورنر ہیں۔ عطا محمد نور سے ملاقات کیجیے اور کچھ ہی دیر کی گفتگو میں آپ کو اچھی طرح اندازہ ہو جائے گا کہ ان کی پوزیشن اگر اس قدر مستحکم ہے تو کیوں ہے۔ وہ اپنے مہمانوں کا ایک بڑے ہال میں سنہرے تخت پر استقبال کرتے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت مزار شریف پر ان کی مکمل گرفت ہے اور ازبکستان سے ملنے والی سرحد کے علاقے ہیراتن پر بھی ان کا خاصا تصرف ہے۔ عطا محمد نور استاد رہ چکے ہیں، اس لیے انہیں استاد عطا کہا [مزید پڑھیے]

NATO کا افغانستان سے انخلا چند حقائق

March 16, 2013 // 0 Comments

افغانستان سے امریکا اور ناٹو کے نکلنے کے اعلان شدہ وقت (دسمبر ۲۰۱۴ء) کے آنے میں اب صرف ۲۲ ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ جبکہ لاکھوں ٹن سامان انہی ۲۲ مہینوں میں نکال کر لے جانا ہے۔ اس سامان سے متعلق چند دلچسپ حقائق درج ذیل ہیں: ۔ اتحادی افواج کے پاس موجود ابلاغی آلات (Communications Equipments) حساس سمجھے جاتے ہیں، یہ لازماً امریکا واپس لے جائے جائیں گے۔ ۔ استعمال شدہ بیٹریوں کو ری سائیکل کیا جائے گا یا ضائع کر دیا جائے گا۔ ۔ لکڑی کا بیشتر سامان افغانیوں کوایندھن کے لیے دے دیا جائے گا۔ ۔ دھات سے بنے پرزے، چھری کانٹے اور عام استعمال کی دیگر دھاتی اشیا میں سے کچھ امریکا لے جائی جائیں گی، کچھ ری سائیکل ہوں گی [مزید پڑھیے]

افغانستان میں نیٹو پر ’’اپنوں‘‘ کے حملے!

September 16, 2012 // 0 Comments

افغانستان میں نیٹو افواج نے دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر جو جنگ چھیڑ رکھی ہے اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے مختلف طریقے ہیں۔ کئی زاویوں سے اس جنگ کے اثرات کو جانچا اور پرکھا جاتا ہے تاکہ عوامی حمایت برقرار رکھنے کے لیے طریقے سوچے جاسکیں۔ نیٹو افواج کو افغانستان میں دس برسوں کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک بڑی مشکل ’’اپنوں‘‘ کے حملے بھی ہیں۔ افغان فوج اور پولیس کے بہت سے اہلکار آئے دن نیٹو افواج پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ برس ان حملوں میں ۳۵؍افراد مارے گئے تھے مگر اس سال یہ رجحان مزید پختہ ہوا ہے اور اب تک ۴۵ نیٹو فوجی اور اہلکار مارے جاچکے ہیں۔ ۶۹؍اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ [مزید پڑھیے]

افغانستان: وعدے اور عالمی امداد

August 1, 2012 // 0 Comments

عالمی برادری نے افغانستان کے لیے مزید امداد کا اعلان کیا ہے۔ مگر کیا امداد سے افغانستان کے تمام مسائل عمدگی سے حل ہو جائیں گے؟ یقینا نہیں۔ ۸ جولائی کو ٹوکیو میں افغانستان پر کانفرنس منعقد ہوئی جس میں عالمی برادری نے عہد کیا کہ وہ جنگ سے تباہ حال اس ملک کو چار برسوں میں مزید ۱۶؍ ارب ڈالر دے گی۔ افغان فوج اور پولیس کو سیکورٹی کی ذمہ داری مکمل طور پر سنبھالنے کے قابل بنانے کے لیے جو کچھ دیا اور کیا جائے گا وہ اس کے علاوہ ہے۔ امریکا میں یہ صدارتی انتخاب کا سال ہے۔ چند ایک اعلانات خاصے مبہم ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ امریکا نے جو رقم دینے کا اعلان کیا ہے وہ ساری کی ساری نئی نہ [مزید پڑھیے]

اتحادیوں کے بعد کا افغانستان۔۔۔

September 1, 2011 // 0 Comments

امریکی تھنک ٹینک پیس انسٹی ٹیوٹ اور پاکستان کے جناح انسٹی ٹیوٹ کی ایک مشترکہ سروے رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے مابین کشیدگی ختم نہ ہوئی تو افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے۔ اور اس خانہ جنگی کے اثرات سے پاکستان بھی محفوظ نہ رہ سکے گا۔ امریکا نے افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کے کردار کو محدود یا ختم کرنے کی کوشش کی تو یہ ایک سنگین غلطی ہوگی، جس کا ردعمل شدید ہوسکتا ہے۔ بھارت کو افغانستان میں اپنے آپ کو معاشی سرگرمیوں تک محدود رکھنا ہوگا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر معید یوسف کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بھارت کی سرگرمیوں پر پاکستان کے تحفظات برقرار ہیں۔ بھارت نے مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر [مزید پڑھیے]

1 2 3 4 5 6