Abd Add
 

افغانستان

ہمارا مقصد عراق پر حکومت کرنا نہیں ہے!

December 1, 2005 // 0 Comments

زلمے خلیل زاد امریکا کو درپیش بہت ہی اہم چیلنجز کے لیے راہِ حل نکالتے رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں سفیر برائے افغانستان کی حیثیت سے اپنی مدت ختم کی ہے جس کے دوران انہیں ان کی عظیم الشان سرکاری خدمات کے عوض امریکی وزارت ِدفاع کی جانب سے میڈل سے نوازا گیا۔ ۲۱ جون ۲۰۰۵ء سے وہ امریکی سفیر برائے افغانستان کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے نیوز ویک کے نمائندے مائیکل ہرش (Michael Hirsh) سے گفتگو کی ہے جس کا متن درج ذیل ہے: ہَرش: ہم پہلے آئین کے لیے ووٹنگ سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔ اس حوالے سے آپ کا مشاہدہ کیا ہے؟ خیل زاد: آئین کو عظیم الشان حمایت حاصل ہوئی [مزید پڑھیے]

کابل کے ساتھ تعلقات کی نوعیت

October 1, 2005 // 0 Comments

جبکہ عالمی توجہات کا نقطہ ارتکاز اب بھی دہشت گردی ہے امریکا واضح طور سے افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کی کامیاب تکمیل پر تکیہ کئے ہوئے ہے جسے ۱۸ ستمبر کو منعقد ہونا ہے۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے ۲۹۔۲۸ اگست کو افغانستان کا دو روزہ دورہ کیا۔ ۳۰ سالوں میں ہندوستان کے کسی سربراہ مملکت کا یہ پہلا دورہ تھا۔ بہرحال افغانستان کی صورت اب بھی مستحکم نہیں ہے۔ ۲۰۰۵ء کے آغاز سے ہی امریکی سپاہیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ القاعدہ کی قیادت ہنوز پاکستان افغان سرحد سے متصل پہاڑوں میں روپوش ہے قبائلی علاقوں میں ۷ ہزار سے زائد افواج کی تعیناتی کے باوجود پاکستان پر یہ وقتاً فوقتاً الزما عائد کیا جاتا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف [مزید پڑھیے]

ناجائز ادویہ

August 1, 2005 // 0 Comments

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ: ٭ اقوامِ متحدہ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں ۱۵ سال سے ۶۴ سال تک کے ۲۰ کروڑ لوگ جنہوں نے دنیا بھر میں گذشتہ ۱۲ ماہ میں ناجائز ادویات کا استعمال کیا ہے‘ کی تعداد قبل کے سال کے مقابلے میں ۸ فیصد زیادہ ہے۔ ٭ عالمی خوردہ منڈی میں ناجائز ادویات کی مالیت ۳۲۲ بلین ڈالر کے برابر ہے جو کہ دنیا بھر کے ۸۸ فیصد ممالک کے کے جی ڈی پی سے زیادہ ہے۔ ٭ طالبان کے ذریعہ چی نوک (Chinook) ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنائے جانے کے سبب ۱۶ امریکی فوجی گذشتہ ہفتہ ہلاک ہو گئے۔ اکتوبر ۲۰۰۱ء میں جب اتحادی افواج نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو اس کے بعد سے [مزید پڑھیے]

1 3 4 5 6