Abd Add
 

افغانستان

اتحادیوں کے بعد کا افغانستان۔۔۔

September 1, 2011 // 0 Comments

امریکی تھنک ٹینک پیس انسٹی ٹیوٹ اور پاکستان کے جناح انسٹی ٹیوٹ کی ایک مشترکہ سروے رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے مابین کشیدگی ختم نہ ہوئی تو افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے۔ اور اس خانہ جنگی کے اثرات سے پاکستان بھی محفوظ نہ رہ سکے گا۔ امریکا نے افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کے کردار کو محدود یا ختم کرنے کی کوشش کی تو یہ ایک سنگین غلطی ہوگی، جس کا ردعمل شدید ہوسکتا ہے۔ بھارت کو افغانستان میں اپنے آپ کو معاشی سرگرمیوں تک محدود رکھنا ہوگا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر معید یوسف کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بھارت کی سرگرمیوں پر پاکستان کے تحفظات برقرار ہیں۔ بھارت نے مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر [مزید پڑھیے]

ہمارا مقصد عراق پر حکومت کرنا نہیں ہے!

December 1, 2005 // 0 Comments

زلمے خلیل زاد امریکا کو درپیش بہت ہی اہم چیلنجز کے لیے راہِ حل نکالتے رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں سفیر برائے افغانستان کی حیثیت سے اپنی مدت ختم کی ہے جس کے دوران انہیں ان کی عظیم الشان سرکاری خدمات کے عوض امریکی وزارت ِدفاع کی جانب سے میڈل سے نوازا گیا۔ ۲۱ جون ۲۰۰۵ء سے وہ امریکی سفیر برائے افغانستان کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے نیوز ویک کے نمائندے مائیکل ہرش (Michael Hirsh) سے گفتگو کی ہے جس کا متن درج ذیل ہے: ہَرش: ہم پہلے آئین کے لیے ووٹنگ سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔ اس حوالے سے آپ کا مشاہدہ کیا ہے؟ خیل زاد: آئین کو عظیم الشان حمایت حاصل ہوئی [مزید پڑھیے]

کابل کے ساتھ تعلقات کی نوعیت

October 1, 2005 // 0 Comments

جبکہ عالمی توجہات کا نقطہ ارتکاز اب بھی دہشت گردی ہے امریکا واضح طور سے افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کی کامیاب تکمیل پر تکیہ کئے ہوئے ہے جسے ۱۸ ستمبر کو منعقد ہونا ہے۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے ۲۹۔۲۸ اگست کو افغانستان کا دو روزہ دورہ کیا۔ ۳۰ سالوں میں ہندوستان کے کسی سربراہ مملکت کا یہ پہلا دورہ تھا۔ بہرحال افغانستان کی صورت اب بھی مستحکم نہیں ہے۔ ۲۰۰۵ء کے آغاز سے ہی امریکی سپاہیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ القاعدہ کی قیادت ہنوز پاکستان افغان سرحد سے متصل پہاڑوں میں روپوش ہے قبائلی علاقوں میں ۷ ہزار سے زائد افواج کی تعیناتی کے باوجود پاکستان پر یہ وقتاً فوقتاً الزما عائد کیا جاتا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف [مزید پڑھیے]

1 3 4 5 6