Abd Add
 

افغانستان

کابل کے ساتھ تعلقات کی نوعیت

October 1, 2005 // 0 Comments

جبکہ عالمی توجہات کا نقطہ ارتکاز اب بھی دہشت گردی ہے امریکا واضح طور سے افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کی کامیاب تکمیل پر تکیہ کئے ہوئے ہے جسے ۱۸ ستمبر کو منعقد ہونا ہے۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے ۲۹۔۲۸ اگست کو افغانستان کا دو روزہ دورہ کیا۔ ۳۰ سالوں میں ہندوستان کے کسی سربراہ مملکت کا یہ پہلا دورہ تھا۔ بہرحال افغانستان کی صورت اب بھی مستحکم نہیں ہے۔ ۲۰۰۵ء کے آغاز سے ہی امریکی سپاہیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ القاعدہ کی قیادت ہنوز پاکستان افغان سرحد سے متصل پہاڑوں میں روپوش ہے قبائلی علاقوں میں ۷ ہزار سے زائد افواج کی تعیناتی کے باوجود پاکستان پر یہ وقتاً فوقتاً الزما عائد کیا جاتا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف [مزید پڑھیے]

ناجائز ادویہ

August 1, 2005 // 0 Comments

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ: ٭ اقوامِ متحدہ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں ۱۵ سال سے ۶۴ سال تک کے ۲۰ کروڑ لوگ جنہوں نے دنیا بھر میں گذشتہ ۱۲ ماہ میں ناجائز ادویات کا استعمال کیا ہے‘ کی تعداد قبل کے سال کے مقابلے میں ۸ فیصد زیادہ ہے۔ ٭ عالمی خوردہ منڈی میں ناجائز ادویات کی مالیت ۳۲۲ بلین ڈالر کے برابر ہے جو کہ دنیا بھر کے ۸۸ فیصد ممالک کے کے جی ڈی پی سے زیادہ ہے۔ ٭ طالبان کے ذریعہ چی نوک (Chinook) ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنائے جانے کے سبب ۱۶ امریکی فوجی گذشتہ ہفتہ ہلاک ہو گئے۔ اکتوبر ۲۰۰۱ء میں جب اتحادی افواج نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو اس کے بعد سے [مزید پڑھیے]

قرآن کی بے حرمتی

June 1, 2005 // 0 Comments

گوانتا ناموبے جیل میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن مجید اور اسلامی مقدسات کی بے حرمتی اور توہین کے خلاف افغانستان میں گذشتہ دنوں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا اور اطلاعات کے مطابق ان مظاہروں کو طاقت کے زور پر روکنے کی کوشش کی گئی‘ جس کے دوران درجنوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ اس سلسلے میں جمعہ کے روز بھی پورے افغانستان میں نماز کے بعد امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کی بے حرمتی کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہرے کیے گئے‘ جن میں مظاہرین نے امریکا کے خلاف نعرے لگائے اور قرآن کریم کی بے حرمتی کے ذمہ دار امریکی فوجیوں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ افغانستان میں امریکا مخالف مظاہروں کا سلسلہ دس مئی کو اس وقت [مزید پڑھیے]

فلسطین‘ عراق اور افغانستان کا دشمن ایک ہی ہے!

November 1, 2004 // 0 Comments

اس وقت ساری دنیا کمزوری و بے بسی اور بزدلی و بے حمیتی کے طعنے خاموشی سے سنتے ہوئے الزامات کے کٹہرے میں سرجھکائے کھڑی ہے۔ اس کے تمام حواس کے احساسات جامد ہو گئے ہیں۔ گویا اس کی کیفیت یہ ہے کہ نہ میں سن سکتا ہوں‘ نہ دیکھ سکتا ہوں اور نہ بول سکتا ہوں۔ لاپتا ہو جانے اور اغوا کر لیے جانے والے بے بس انسانوں کی چیخیں بلند ہوتی ہیں‘ تشدد سے دوچار مجبوروں کی سسکیاں آسمانوں تک پہنچتی ہیں‘ مگر انہیں اپنی ہی صداے بازگشت کے سوا کہیں سے کوئی جواب نہیں ملتا۔ بدترین خاموشی اور مایوس کن نظروں نے زبانوں کو گنگ کر رکھا ہے۔ فلسطین کے شہر غزہ میں یہودیوں کے راکٹ گرجتے اور عراق و افغانستان میں [مزید پڑھیے]

پاکستان میں کوئی غیرملکی جنگجو موجود نہیں!

October 16, 2004 // 0 Comments

جب انٹیلی جینس ایجنسیز نے ایک دہشت گردانہ سازش کے انکشاف کا دعوی کیا جس کا مقصد اسلام آباد اور اس کی اطراف میں واقع متعدد حکومتی تنصیبات کو تباہ کرنا تھا تو پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے کوہاٹ سے رکن قومی اسمبلی جاوید احمد پراچہ کا نام اس موقع پر اہم کردار کے طور پر سامنے آیا۔ پراچہ کوہاٹ میں اسی وقت سے گرفتار ہیں۔ ان پر یہ الزام ہے کہ ۲۰۰۱ء میں جب امریکا نے تورا بورا پہاڑی کا محاصرہ کیا تو وہاں سے فرار ہو کر سرحد آنے والے متعدد عرب و دیگر جنگجوئوں کا پراچہ نے دفاع کیا تھا۔ پراچہ نے ۱۹۷۷ء میں سیاست میں قدم رکھا تھا۔ ان کی سیاسی زندگی کا بیشتر دورانیہ غیرنمایاں رہا ہے۔ ان کے غیرمعروف [مزید پڑھیے]

1 3 4 5