Abd Add
 

افغان فوج

افغانستان میں بدلتی امریکی حکمت عملی

March 16, 2018 // 0 Comments

نوٹ: نئے سال کے آغاز کے موقع پر Enhancing Security and Stability in Afghanistan کے عنوان سے ایک رپورٹ امریکی وزارت دفاع کی جانب سے کانگریس کو پیش کی گئی ہے ۔یہ رپورٹ ۱۱۵صفحات مشتمل ہے۔اس کی ایگزیکٹو سمری اور رپورٹ میں دیے گئے کچھ اعداد و شمار پیش کیے جارہے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ پاک افغان مسائل پر نئی امریکی حکمت عملی کی جانب قارئین کی توجہ مبذول کرائی جائے۔
[مزید پڑھیے]

طالبان کام کر گئے!

October 16, 2012 // 0 Comments

افغانستان میں افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں اتحادی فوجیوں کی ہلاکت کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روشنی میں نیٹو کمانڈر جنرل جان ایلن نے مشترکہ گشت محدود کرنے کا حکم دے کر اس نوعیت کے واقعات کی سنگینی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ۱۶؍ستمبر کو مشترکہ گشت محدود کرنے کا جو حکم دیا اس سے ایک دن قبل بھی افغان فوجیوں کے حملے میں چار امریکی اور دو برطانوی فوجی مارے گئے۔ سال رواں کے دوران فائرنگ سے مارے جانے والے فوجیوں کی تعداد ۵۱ ہوگئی۔ ۲۰۱۱ء میں یہ تعداد ۳۵ اور ۲۰۰۸ء میں صرف ۲ تھی۔ مشترکہ گشت محدود کرنے کا حکم جنگ کے میدان میں مصروف افسران اور برطانیہ میں ایوان اقتدار دونوں کے لیے انتہائی حیرت کا باعث بنا، [مزید پڑھیے]

افغانستان میں نیٹو پر ’’اپنوں‘‘ کے حملے!

September 16, 2012 // 0 Comments

افغانستان میں نیٹو افواج نے دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر جو جنگ چھیڑ رکھی ہے اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے مختلف طریقے ہیں۔ کئی زاویوں سے اس جنگ کے اثرات کو جانچا اور پرکھا جاتا ہے تاکہ عوامی حمایت برقرار رکھنے کے لیے طریقے سوچے جاسکیں۔ نیٹو افواج کو افغانستان میں دس برسوں کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک بڑی مشکل ’’اپنوں‘‘ کے حملے بھی ہیں۔ افغان فوج اور پولیس کے بہت سے اہلکار آئے دن نیٹو افواج پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ برس ان حملوں میں ۳۵؍افراد مارے گئے تھے مگر اس سال یہ رجحان مزید پختہ ہوا ہے اور اب تک ۴۵ نیٹو فوجی اور اہلکار مارے جاچکے ہیں۔ ۶۹؍اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ [مزید پڑھیے]

افغانستان سے انخلا میں امریکی عجلت!

February 16, 2012 // 0 Comments

امریکا نے دس سال سے بھی زائد مدت سے افغانستان میں مخالفین کے سر جھکانے کی بھرپور کوشش کی ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اب اس کی ہمت جواب دے گئی ہے اور وہ کسی نہ کسی طور افغان سرزمین سے پنڈ چھڑانا چاہتا ہے۔ یکم فروری کو بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں نیٹو کے وزارتی اجلاس سے قبل امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے ایک ایسا بیان داغا جس نے بم ہی گرادیا۔ پنیٹا نے کہا کہ امریکا نے افغانستان سے انخلا کی جو حتمی تاریخ مقرر کی ہے اس میں ڈیڑھ سال کی کمی کی جارہی ہے یعنی اب امریکی افواج کو افغانستان سے ۲۰۱۴ء کے آخر کے بجائے ۲۰۱۳ء کے وسط تک نکال لیا جائے گا۔ سابق ڈیڈ لائن پرتگال کے [مزید پڑھیے]

اتحادیوں کے بعد کا افغانستان۔۔۔

September 1, 2011 // 0 Comments

امریکی تھنک ٹینک پیس انسٹی ٹیوٹ اور پاکستان کے جناح انسٹی ٹیوٹ کی ایک مشترکہ سروے رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے مابین کشیدگی ختم نہ ہوئی تو افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے۔ اور اس خانہ جنگی کے اثرات سے پاکستان بھی محفوظ نہ رہ سکے گا۔ امریکا نے افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کے کردار کو محدود یا ختم کرنے کی کوشش کی تو یہ ایک سنگین غلطی ہوگی، جس کا ردعمل شدید ہوسکتا ہے۔ بھارت کو افغانستان میں اپنے آپ کو معاشی سرگرمیوں تک محدود رکھنا ہوگا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر معید یوسف کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بھارت کی سرگرمیوں پر پاکستان کے تحفظات برقرار ہیں۔ بھارت نے مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر [مزید پڑھیے]