Abd Add
 

امت مسلمہ

مسلم قائدین کی دو روزہ عالمی کانفرنس

October 1, 2013 // 0 Comments

لاہور میں ۲۵ ،۲۶ ستمبر ۲۰۱۳ء کو اسلامی تحریکوں کی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اُمت مسلمہ اور انسانیت کو درپیش سنگین بحرانوں کا جائزہ لینے، ان کے بارے میں ایک متفق علیہ مؤقف اور اُمت مسلمہ کے لیے عملی نقشۂ کار تجویز کرنے کے لیے کانفرنس میں ۲۰ ممالک کے چالیس سے زائد رہنمائوں نے شرکت کی۔ مراکش سے ملائیشیا تک اسلامی تحاریک کے ان اہم سیاسی اور فکری رہنمائوں کی پاکستان آمد بحیثیت قوم ہمارے لیے باعث اعزاز ہے۔ یہ رہنما افراد نہیں، کروڑوں انسانوں کے نمائندہ اور ترجمان ہیں۔ کئی ممالک کے عوام نے متعدد بار ان پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیاہے، اور اللہ کی توفیق سے ان سب رہنمائوں اور ان کی تحریکات کادامن ہر طرح کی لوٹ مار اور [مزید پڑھیے]

مختصر مختصر

July 16, 2011 // 0 Comments

پاکستانی کیا چاہتے ہیں؟ اگر ایک بین الاقوامی سروے ایجنسی کی رپورٹ پر اعتبار کیا جائے تو ۶۷ فیصد پاکستانی شہری پاکستانی سوسائٹی کے ’’اسلامائزیشن‘‘ کے حق میں ہیں۔ یہ سروے گیلپ انٹرنیشنل کے پاکستان چیپٹر نے کیا ہے۔ ایجنسی نے چاروں صوبوں کے شہری اور دیہی علاقوں میں ۷۳۸,۲؍افراد سے ایک سوالنامے کی بنیاد پر بات چیت کی۔ ان میں مرد و خواتین دونوں شامل تھے۔ ایک اہم سوال یہ تھا کہ کیا حکومت پاکستان کو پاکستانی معاشرے کو ’’اسلامیانے‘‘ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں؟ ۶۷ فیصد نے اثبات میں جواب دیا، صرف ۱۳ فیصد کا خیال تھا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں، جب کہ ۲۰ فیصد نے کوئی جواب نہیں دیا، یعنی ان کی کوئی رائے نہیں تھی۔ ایجنسی کے مطابق [مزید پڑھیے]

ہندوستانی مسلمانوں کا پیغام، انسانی دنیا کے نام

May 1, 2007 // 0 Comments

ہندوستانی مسلمانوں کی متفقہ تنظیم ’آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ‘ نے چنئی مدراس میں اپنے انیسویں اجلاس کے انعقاد پر پوری دنیاے انسانیت سے جو اپیل کی ہے، وہ ایک دعوتِ فکر بھی ہے اور دعوتِ عمل بھی۔ چونکہ یہ ایک ایسے ادارہ کی طرف سے دعوتِ فکر و عمل ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کے احساسات کا ترجمان ہے۔ اس لیے یہ پیغام پوری اُمتِ مسلمہ کے احساسات و جذبات کا ترجمان اور حالات کے تقاضے کے عین مطابق ہے۔ امید ہے وسیع پیمانے پر اس کی اشاعت کی جائے گی اور مساجد کے ائمہ اور خطبا اس دعوت کو عوام تک پہنچائیں گے۔ ’آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ‘ کا یہ نمائندہ اجلاس جس میں مسلمانوں کے مختلف مکاتبِ فکر، مختلف جماعتوں اور [مزید پڑھیے]