Abd Add
 

امریکا اور اتحادی

اب امریکا کے بڑے بینکوں کی باری؟

January 1, 2011 // 0 Comments

وکی لیکس وہ ویب سائٹ ہے جس نے قیامت ہی ڈھا دی ہے۔ پہلے عراق سے متعلق ۳ لاکھ ۹۲ ہزار اور اس کے بعد افغانستان کے بارے میں امریکا کی ۷۶ ہزار خفیہ دستاویزات جاری کیں اور امریکا اور اس کے اتحادی ممالک میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ اب وکی لیکس نے ڈھائی لاکھ سے زائد خفیہ امریکی دستاویزات جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے تو پھر بحرانوں کے آثار ہیں۔ وکی لیکس کے بانی جولین اسانچ کے بارے میں دنیا جانتی ہے کہ وہ امریکا کی خفیہ دستاویزات جاری کرنے کے مشن پر نکلے ہوئے ہیں۔ اب تک ماہرین یہ طے نہیں کرسکے کہ وکی لیکس کے بانی اس میدان میں تنہا کھڑے ہیں یا ان کے ساتھ کوئی اور نادیدہ قوت بھی [مزید پڑھیے]

افغان باشندے ملک کے مستقبل سے نا اُمید

December 16, 2010 // 0 Comments

افغانستان کے باشندوں میں وطن کے مستقبل کے حوالے سے مایوسی کا گراف بلند ہوتا جارہا ہے۔ دو سال کے دوران بیرونِ ملک سیاسی پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کی تعداد میں تیزی سے نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تعلیم یافتہ اور بظاہر خوش حال زندگی بسر کرنے والے افغان بھی بیرونِ ملک قیام کو ترجیح دے رہے ہیں۔ افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ بیرونِ ملک تعلیم اور روزگار کے مواقع تلاش کرنے والے افغانوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ دنیا بھر میں سیاسی پناہ کے خواہش مند افراد میں سب سے زیادہ تعداد افغانوں کی ہے۔ صومالیہ اور عراق جیسے تباہ حال ممالک کے لوگ بھی اپنے ملک سے اس حد تک مایوس نہیں جس قدر افغان [مزید پڑھیے]

امریکا ’’کرزئی طالبان مذاکرات‘‘ کی کامیابی کے لیے کوشاں

November 1, 2010 // 0 Comments

امریکا نے افغانستان میں اتحادی فوجیوں کی ہلاکت کا دائرہ وسیع ہوتا ہوا دیکھ کر ایک بار پھر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے لیے اقدامات شروع کردیے ہیں۔ برسلز میں نیٹو حکام نے بتایا کہ طالبان رہنماؤں کو مذاکرات میں شرکت کے لیے نقل و حرکت کی مکمل آزادی دی جارہی ہے۔ افغانستان میں بعض طالبان رہنماؤں کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ نیٹو کی بھرپور معاونت کے بغیر کابل تک پہنچ سکیں۔ نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سیکورٹی اسسٹنس فورس کے تعاون کے بغیر مذاکرات کی کامیابی ممکن نہیں۔ نیٹو کے حکام نے جو کچھ بتایا ہے اس کی روشنی میں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ امریکا اب افغان جنگ کو جلد از جلد [مزید پڑھیے]

افریقا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرات

September 1, 2010 // 0 Comments

چین جس تیزی سے عالمی معیشت میں اپنا کردار وسیع کرتا جارہا ہے اس سے امریکا اور اس کے تمام اتحادیوں کی راتوں کی نیند اڑ گئی ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ چین کو کسی نہ کسی طرح دبوچ کر رکھا جائے تاکہ وہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت نہ بن سکے۔ امریکا اس منصب پر تادیر فائز رہنا چاہتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا امریکا ایسا کر پائے گا؟ کیا امریکا محض خواہش کرلینے سے چین کو روک سکے گا؟ یقیناً نہیں۔ چین کا مقابلہ میدان میں آکر کرنے کے بجائے امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر مختلف ہتھکنڈے اپنا رہا ہے جن کا بنیادی مقصد چین کو روکنے والی مصنوعی فضا پیدا کرنا ہے۔ چین اب افریقا میں بھی [مزید پڑھیے]

افغانستان سے انخلا، امریکا کی دہری پالیسی

August 16, 2010 // 0 Comments

افغانستان میں صورت حال جتنی تیزی سے تبدیل ہوتی جارہی ہے، امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے مشکلات میں بھی اسی قدر اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور ہالینڈ نے جلد از جلد انخلا کی ضرورت پر زور دینا جاری رکھا ہے۔ امریکی صدر بارک اوباما کے لیے افغانستان سے جلد از جلد انخلا بہت سود مند امر ثابت ہوسکتا ہے۔ ۲۰۱۲ء میں صدارتی انتخاب ہونا ہے اور اس سے قبل افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی غیر معمولی طور پر مثبت نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ افغانستان سے انخلا تو خیر امریکی صدر اور ان کے ساتھیوں کی خواہش ہے مگر امریکی فوج کچھ اور سوچ رہی ہے۔ اس نے اشارہ دیا ہے کہ ابھی بہت کچھ ادھورا پڑا ہے لہٰذا افغانستان [مزید پڑھیے]

1 2 3