Abd Add
 

امریکا اور افغانستان

طالبان کام کر گئے!

October 16, 2012 // 0 Comments

افغانستان میں افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں اتحادی فوجیوں کی ہلاکت کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روشنی میں نیٹو کمانڈر جنرل جان ایلن نے مشترکہ گشت محدود کرنے کا حکم دے کر اس نوعیت کے واقعات کی سنگینی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ۱۶؍ستمبر کو مشترکہ گشت محدود کرنے کا جو حکم دیا اس سے ایک دن قبل بھی افغان فوجیوں کے حملے میں چار امریکی اور دو برطانوی فوجی مارے گئے۔ سال رواں کے دوران فائرنگ سے مارے جانے والے فوجیوں کی تعداد ۵۱ ہوگئی۔ ۲۰۱۱ء میں یہ تعداد ۳۵ اور ۲۰۰۸ء میں صرف ۲ تھی۔ مشترکہ گشت محدود کرنے کا حکم جنگ کے میدان میں مصروف افسران اور برطانیہ میں ایوان اقتدار دونوں کے لیے انتہائی حیرت کا باعث بنا، [مزید پڑھیے]

افغانستان میں نیٹو پر ’’اپنوں‘‘ کے حملے!

September 16, 2012 // 0 Comments

افغانستان میں نیٹو افواج نے دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر جو جنگ چھیڑ رکھی ہے اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے مختلف طریقے ہیں۔ کئی زاویوں سے اس جنگ کے اثرات کو جانچا اور پرکھا جاتا ہے تاکہ عوامی حمایت برقرار رکھنے کے لیے طریقے سوچے جاسکیں۔ نیٹو افواج کو افغانستان میں دس برسوں کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک بڑی مشکل ’’اپنوں‘‘ کے حملے بھی ہیں۔ افغان فوج اور پولیس کے بہت سے اہلکار آئے دن نیٹو افواج پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ برس ان حملوں میں ۳۵؍افراد مارے گئے تھے مگر اس سال یہ رجحان مزید پختہ ہوا ہے اور اب تک ۴۵ نیٹو فوجی اور اہلکار مارے جاچکے ہیں۔ ۶۹؍اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ [مزید پڑھیے]

افغانستان میں امریکی فوجیوں کی اموات

August 16, 2012 // 0 Comments

پینٹاگون کے مطابق ۱۱؍سالہ افغان جنگ میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں دو ہزار سے تجاوز کر گئی ہیں۔ انڈی پینڈنٹ انٹرنیٹ سائٹ نے آپریشن (Enduring Freedom) کے آغاز سے جو اعداد و شمار جمع کیے ہیں، اس کے مطابق مرنے والے امریکیوں کی تعداد دو ہزار آٹھ ہے۔ پینٹاگون کی شمار کردہ ۲۰۰۰؍اموات میں ۱۵۷۷؍اموات مقابلے (Combat) میں ہوئیں جن میں ۳۴ خواتین فوجی بھی شامل ہیں جبکہ ۱۶۴۰۲؍فوجی زخمی بھی ہوئے۔ سال ۲۰۱۲ء کے آغاز سے ابھی تک ۱۵۰ ؍سے زائد امریکی فوجی مارے جاچکے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سال ۲۰۱۰ء میں امریکی فوجیوں کا سب سے زیادہ نقصان ہوا جس میں ۴۹۹ فوجی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ ۲۰۱۱ء میں ۴۱۴ فوجی مارے گئے۔ واضح رہے کہ افغانستان میں امریکی [مزید پڑھیے]

افغانستان سے انخلا کے لیے نیٹو کا پُرخطر منصوبہ

June 1, 2012 // 0 Comments

افغانستان پر امریکا کی سربراہی میں لشکر کشی ہر مرحلے پر متنازع اور قابل تنقید رہی ہے۔ یورپ نے بہت جلد اندازہ لگالیا تھا کہ امریکا نے اسے اپنے ساتھ دلدل میں کھینچ لیا ہے۔ فرانس، برطانیہ، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک نے افغانستان سے انخلا کے لیے دباؤ بڑھایا تو امریکا کو ڈیڈ لائن کا اعلان کرنا پڑا۔ مگر اب ایسا لگتا ہے کہ انخلا کے معاملے میں عجلت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اور جامع منصوبہ بندی سے اب تک گریز کیا جارہا ہے۔ کسی بھی سربراہ کانفرنس میں ایجنڈے پر کئی نکات ہوسکتے ہیں مگر کسی ایک نکتے ہی پر غیر معمولی توجہ کا ارتکاز ممکن ہے۔ حال ہی میں شکاگو میں منعقدہ نیٹو سربراہ کانفرنس کا ایک ہی ایجنڈا تھا کہ [مزید پڑھیے]

افغانستان سے انخلا میں امریکی عجلت!

February 16, 2012 // 0 Comments

امریکا نے دس سال سے بھی زائد مدت سے افغانستان میں مخالفین کے سر جھکانے کی بھرپور کوشش کی ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اب اس کی ہمت جواب دے گئی ہے اور وہ کسی نہ کسی طور افغان سرزمین سے پنڈ چھڑانا چاہتا ہے۔ یکم فروری کو بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں نیٹو کے وزارتی اجلاس سے قبل امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے ایک ایسا بیان داغا جس نے بم ہی گرادیا۔ پنیٹا نے کہا کہ امریکا نے افغانستان سے انخلا کی جو حتمی تاریخ مقرر کی ہے اس میں ڈیڑھ سال کی کمی کی جارہی ہے یعنی اب امریکی افواج کو افغانستان سے ۲۰۱۴ء کے آخر کے بجائے ۲۰۱۳ء کے وسط تک نکال لیا جائے گا۔ سابق ڈیڈ لائن پرتگال کے [مزید پڑھیے]

1 2