Abd Add
 

امریکی حکام

پاکستانی میڈیا میں نقب لگانے کا امریکی فیصلہ

March 16, 2010 // 0 Comments

ایک ایسے مرحلے پر کہ جب نظریہ سازش پوری آب و تاب کے ساتھ بیشتر معاملات میں کارفرما ہے ، امریکی صدر بارک اوباما نے افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردی سے بہتر طور پر نمٹنے کے لیے ’’میسیج مشین‘‘ کی اوور ہالنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں طالبان اور القاعدہ کو اس اعتبار سے بالا دستی حاصل رہی ہے کہ وہ امریکا کے خلاف پروپیگنڈا کسی رکاوٹ اور تاخیر کے بغیر کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکی حکام کو اپنا ہر پیغام پہلے واشنگٹن سے کلیئر کرانا پڑتا ہے۔ امریکی حکام دہشت گردوں کے خلاف اپنا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے ایس ایم ایس، معاشرتی روابط اور دیگر غیر روایتی میڈیا سے استفادے کا سوچ [مزید پڑھیے]

طالبان کو بلینک چیک؟

March 1, 2010 // 0 Comments

مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ افغانستان کی تحریک طالبان نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکا کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرنے سے روکا تھا۔ امریکا میں ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ ملا محمد عمر مجاہد نے ۱۹۹۸ء سے القاعدہ کے سربراہ کو اس بات کا پابند کیا تھا کہ وہ پیشگی اجازت کے بغیر میڈیا سے بات نہیں کریں گے اور امریکا کے خلاف کسی بھی نوعیت کے حملوں کی منصوبہ بندی نہیں کریں گے۔ امریکا کی ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات سے ملنے والے شواہد اوباما انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے اس دعوے سے متصادم ہیں جو انہوں نے ۱۱ ؍ستمبر ۲۰۰۱ء کے حملوں میں طالبان کے ملوث ہونے کے حوالے سے [مزید پڑھیے]