Abd Add
 

امریکی معیشت

سوشل نیٹ ورکنگ نے اربوں ڈالر چُرالیے!

July 1, 2013 // 0 Comments

دنیا بھر میں سوشل نیٹ ورکنگ کو بُرائیوں اور خرابیوں کی جڑ مانا جارہا ہے۔ یہ لوگوں کو لائیو کمیونی کیشن سے دور کرتی ہے، انہیں انٹرنیٹ کا زیادہ اور خطرناک حد تک عادی بناتی ہے اور چند ایک شدید نوعیت کے نفسیاتی عوارض بھی پیدا کرتی ہے۔ یہ بات بھی پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ سے معیشت کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور ہر سال معیشتوں سے اربوں ڈالر نکل جاتے ہیں۔ روس میں آڈیٹنگ فرم ایف بی کے نے رائے عامہ کے مختلف جائزوں سے اندازہ لگایا ہے کہ روسیوں میں سوشل نیٹ ورکنگ پر انحصار بڑھتا جارہا ہے۔ ایک محتاط ترین اندازے کے مطابق روس میں سوشل نیٹ ورکنگ پر خرچ کیا جانے والا انفرادی وقت ۲۵ [مزید پڑھیے]

اوباما کے دوبارہ انتخاب میں حائل ۱۰؍ رکاوٹیں

June 1, 2012 // 0 Comments

اگر آپ کے ذہن میں اس حوالے سے کوئی شک پایا جاتا ہے کہ اوباما دوبارہ صدر منتخب نہیں ہوسکیں گے تو لیجیے، ۱۰ وجوہ بیان کی جاتی ہیں۔ ان وجوہ کو پڑھ کر آپ کو اندازہ ہوگا کہ براک اوباما کے لیے دوبارہ امریکی صدر منتخب ہونا کس قدر دشوار ہوگا۔ پہلی رکاوٹ : براک اوباما امریکیوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے معاملے میں خاصے نا اہل ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں بیروزگاری کا تناسب صرف ۸ فیصد ہے جبکہ در حقیقت بے روزگاری کا تناسب کہیں زیادہ ہے۔ اوباما انتظامیہ ملازمت کے نئے مواقع پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ دوسری رکاوٹ : سپریم کورٹ افورڈیبل کیئر ایکٹ پر دستخط کی تیاری میں مصروف ہے۔ [مزید پڑھیے]

امریکی مسلمان مایوس نہیں!

December 1, 2011 // 0 Comments

نائن الیون کے بعد کی صورت حال نے امریکا بھر میں مسلمانوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کیں۔ انہیں قدم قدم پر دل برداشتہ کرنے والے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے امتیازی سلوک برداشت کیا اور اس کے خلاف آواز بھی اٹھائی۔ ایک بات خاصی خوش آئند ہے، یہ کہ امریکی میڈیا بھی اب اس بات کو تسلیم کر رہا ہے کہ حالات کی خرابی کے باوجود امریکی مسلمان دیگر مذہبی گروپوں کے مقابلے میں زیادہ پرامید ہیں۔ نائن الیون کے دس سال مکمل ہونے کی مناسبت سے ایک سروے کا اہتمام کیا گیا تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے شروع کیے جانے سے اب تک کا زمانہ مسلمانوں پر کیسا گزرا ہے، وہ اس حوالے سے کیا [مزید پڑھیے]

’’عراق مشن‘‘ ختم ہوا؟

September 16, 2010 // 0 Comments

ڈیموکریٹک پارٹی نے عراق جنگ کی مخالفت کے ذریعے امریکی ووٹروں کی توجہ حاصل کی تھی۔ بارک اوباما کو اندازہ تھا کہ عراق جنگ نے امریکیوں کو نفسیاتی خلجان میں مبتلا کر رکھا ہے اور ایسے میں اس جنگ کی شدید مخالفت کرکے ہی ان کا اعتماد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران عراق جنگ کے خلاف بڑھ چڑھ کر خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے ووٹروں کو یاد دلایا کہ وہ ابتدا ہی سے اس جنگ کے خلاف تھے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارت کے منصب کے لیے امیدواری کی امیدوار (اور موجودہ وزیر خارجہ) ہلیری کلنٹن نے عراق جنگ کی مخالفت میں کچھ زیادہ بولنے سے گریز کیا جس کا خمیازہ بھی [مزید پڑھیے]

1 2