Abd Add
 

ایٹمی ٹیکنالوجی

امریکا سعودی عرب کی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے میں مدد کرے گا؟

April 1, 2018 // 0 Comments

مشرق وسطیٰ میں آخری چیز جس کی کسر باقی رہ گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک اور ملک جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر لے اور یہ ممکن بھی ہے اگر امریکا سعودی عرب کے جوہری توانائی کے کاروبار میں شامل ہونے کی منصوبہ بندی سے غلط انداز میں نمٹے اور پچیس سال میں بجلی پیدا کرنے کے لیے۱۶ ؍ایٹمی ری ایکٹرز بھی لگا کر دے۔ سعودی یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ وہ بدترین عدم استحکام کا شکار اس خطے میں اسرائیل کے بعد ایٹمی ہتھیار رکھنے والا دوسرا ملک بننا چاہتے ہیں، بلکہ ان کا اصرار ہے کہ ری ایکٹرز کو صرف بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاکہ وہ اپنے تیل کے ذخائر کو بیرون ملک فروخت [مزید پڑھیے]

لیزر سے ایٹمی ایندھن کی تیاری۔ نیا تنازع

October 1, 2011 // 0 Comments

ایٹمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں انقلاب برپا ہونے والا ہے۔ ایک زمانے سے دنیا بھر کے ماہرین اس کوشش میں مصروف تھے کہ یورینیم افزودہ کرنے کا کوئی ایسا طریقہ وضع کریں جو کم خرچ بھی ہو اور آسان بھی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے لیے وسیع و عریض تنصیبات کی ضرورت پیش نہ آئے۔ ماہرین اب اس منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ امریکی ماہرین نے ایٹمی ری ایکٹرز کے لیے کم خرچ ایندھن تیار کرنے کا آسان اور موزوں طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ جنرل الیکٹرک کے انجینئرز نے لیزر ٹیکنالوجی کی مدد سے یورینیم افزودہ کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ جنرل الیکٹرک کے ماہرین دو سال سے کامیاب تجربات کرتے آئے ہیں اور اب [مزید پڑھیے]

ایٹمی ہتھیاروں کا اب کوئی فائدہ نہیں!

September 1, 2011 // 0 Comments

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کا اصرار ہے کہ اس وقت ایرانی عوام کو جن حالات کا سامنا ہے اُن کے ذمہ دار یورپی قائدین ہیں۔ اگر ان کی پالیسیاں ذمہ دارانہ اور متوازن ہوتیں تو ایران کے لیے مشکلات پیدا نہ ہوئی ہوتیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ ایران پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا الزام عائد کرنے والوں پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایران ان ہتھیاروں کی تیاری کا ارادہ نہیں رکھتا اور اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ آج کی دنیا میں اِن کی کوئی اہمیت رہی نہیں۔ یورو نیوز کے جان ڈیویز نے ایرانی صدر سے حال ہی میں مختلف امور پر گفتگو کی جس کے اقتباسات ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ [مزید پڑھیے]

ایٹمی ٹیکنالوجی

January 1, 2006 // 0 Comments

پہلا ایٹم بم بنے ہوئے تقریباً نصف صدی گزر چکی ہے۔ ایک ایسا ہتھیار جس کی تباہ و بربادی کا کسی بھی اسلحے سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ درحقیقت ایٹمی ہتھیار وجود میں آنے کے بعد انسانوں کے قتلِ عام اور ملکوں کے حیاتی تنصیبات تباہ کرنے کی سمت اہم قدم اٹھایا گیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ خطرناک ترین جنگی ساز و سامان ان حکومتوں نے بنائے ہیں جو انتہائی شیطانی اور غیرانسانی اہداف و مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اسی بنا پر امریکا نے دنیا پر ظلم و ستم ڈھانے اور اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے پہلا ایٹم بم بنایا۔ واشنگٹن کے حکمرانوں نے ایٹم بم حاصل کرنے کے فوراً بعد اپنی بدنیتی کا بدترین شکل میں مظاہرہ کیا۔ ۶ [مزید پڑھیے]