Abd Add
 

بنگلا دیش انتخابات

بنگلا دیش کے مضحکہ خیز انتخابات

January 16, 2019 // 0 Comments

شیخ حسینہ کے ۱۰ سالہ دور حکومت میں بنگلا دیش نے زبردست ترقی حاصل کی۔اس دوران غریب ترین ممالک میں شمار ہونے والے بنگلادیش کی فی کس آمدنی میں ۱۵۰؍فیصد اضافہ ہوا، ملک میں انتہائی غریب افراد کی تعداد۱۹ فیصد سے کم ہوکر۹ فیصد رہ گئی،ان ساری اچھی باتوں میں افسوسناک یہ ہے کہ شیخ حسینہ نے آمرانہ ہتھکنڈے استعمال کیے اورحالیہ انتخابات میں پارلیمان کی۳۰۰ میں سے۲۸۸ نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی،ان کی کامیابی کا تناسب۹۶ فیصد بنتا ہے۔۳۰ دسمبر کے انتخابات سے کچھ ہفتوں اور مہینوں قبل انسانی حقوق کی مقامی اور بین اقوامی تنظیموں کی جانب سے مسلسل بنگلا دیشی حکومت کے آمرانہ ہتھکنڈوں کی نشاندہی کی گئی۔ جس میں لوگوں کو دھمکانے کی مہم،حزب اختلاف کے امیدواروں اور مظاہرین کی گرفتاریاں [مزید پڑھیے]

جماعتِ اسلامی کی فتح کا ڈَراوا

December 16, 2013 // 0 Comments

سجاتا سنگھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر جاتیہ پارٹی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تو جماعتِ اسلامی کے اقتدار میں آ جانے کا احتمال ہے۔ حسین محمد ارشاد نے بتایا کہ انہوں نے بھارتی سیکرٹری خارجہ سے کہا کہ اُن (حسین محمد ارشاد) کے لیے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ کون اقتدار میں آتا ہے

بنگلا دیش میں وسط مدتی انتخابات کا مطالبہ

July 1, 2011 // 0 Comments

بنگلا دیش میں مڈٹرم الیکشن کے مطالبے کے حامل ایک زور دار اور کامیاب تحریک کے آغاز سے پہلے بیگم خالدہ ضیا نے برطانیہ اور امریکا کا ۱۵ روزہ دورہ مکمل کرلیا۔ ۱۴ مئی ۲۰۱۱ء کو وہ لندن کے لیے روانہ ہوئیں جہاں انہوں نے حکمران اور اپوزیشن کی قیادت سے بنگلا دیش کے مختلف معاملات پر بات چیت کی۔ بنگلا دیش کی سیاست بالخصوص ہیومن رائٹس کی تیزی سے گرتی ہوئی صورت حال جیسے موضوعات ہر جگہ سرفہرست رہے۔ علاوہ ازیں خالدہ ضیا نے برطانیہ میں مقیم بنگلا دیشیوں کے مختلف پرہجوم پروگرامات میں شرکت کی۔ خالدہ ضیا اور وفد کے اراکین کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا یہ سفر بہت کامیاب رہا۔ ۲۱ مئی ۲۰۱۱ء کو خالدہ ضیا امریکا کے [مزید پڑھیے]