Abd Add
 

ترک حکومت

ترکی کا مستقبل اور صدارت کے خواب

April 1, 2013 // 0 Comments

کرد کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی زہرہ کیکن (Zehra Cacan) ایک تازہ قبر کے سرہانے احترام سے بیٹھی ہے۔ قبر میں اس کا تیس سالہ بیٹا ہے جو ترک فوج سے تصادم میں مارا گیا تھا۔ یہ منظر دیار بکر کا ہے جو عراق سے ملحق سرحد پر واقع ہے۔ اس علاقے میں فوج سے تصادم میں کردستان ورکرز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں نوجوان مارے گئے ہیں۔ ان کی قبروں کو سُرخ، زرد اور سبز رنگوں کی پٹّی کے ذریعے نمایاں کیا گیا ہے۔ چند برس قبل تک کرد باغیوں کی قبروں کو یوں نمایاں کرنا ممکن نہ تھا اور کرد زبان بولنے پر بھی تقریباً پابندی تھی۔ شام سے آنے والے ایک کرد یارن ایبی (Yarin Abi) نے بتایا۔ ’’ہم بتا نہیں [مزید پڑھیے]

اسلام اور جمہوریت

September 1, 2011 // 0 Comments

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک خاتون نے انگریزی، عربی اور فرانسیسی کے ملغوبے سے تیار کردہ زبان میں بتایا کہ آج کل یہ لوگ بہت اچھی باتیں کر رہے ہیں مگر ان کی باتوں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ مصر، تیونس، لیبیا، مراکش رام اللہ (غزہ) میں بیداری کی جو لہر اٹھی ہے اور جس طور آمروں کی حکومتیں ختم ہو رہی ہیں اس کے تناظر میں ان ممالک کے سیکولر اور لبرل حلقوں میں اسلامی تحاریک کے بارے میں طرح طرح کے انتباہی کلمات عوام کی زبان سے سننے کو ملتے ہیں۔ اسلامی تحاریک کے قائدین اور ترجمان اور مرکزی دھارے کی تنظیموں مثلاً اخوان المسلمون کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی جارہی ہے کہ اقتدار میں آکر وہ حقیقی امن کے [مزید پڑھیے]

غزہ۔۔۔ ترکی کی پالیسی میں تبدیلی کا موڑ

October 16, 2010 // 0 Comments

دسمبر ۲۰۰۸ء کے آخر میں اسرائیل نے غزہ کے خلاف بمباری کے شدید حملہ میں ’’رصاص مصبوب‘‘ (Cast Lead) نامی جنگی مہم چھیڑی، جس کا علانیہ مقصد حماس کے زیر حکمرانی غزہ کے راکٹ حملوں کا مقابلہ تھا۔ تین ہفتے تک جاری حملہ میں بے حد و حساب عام تباہی و بربادی کے ساتھ چودہ سو فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے تھے۔ اس وقت ترکی کے وزیر خارجہ اور موجودہ وزیر اقتصادیات علی بابا جان نے کہا تھا: ’’میں نے اسرائیلی وزیر ایہود باراک کو متنبہ کیا تھا کہ اگر آپ نے غزہ کے خلاف کچھ کیا تو اسے سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس کے خلاف ہمارا سخت ردعمل ہوگا‘‘۔ اس وارننگ کی روشنی میں غزہ حملہ نے ثابت کر دیا کہ وہ [مزید پڑھیے]

کرد بحران: پُرامن حل کی جانب پیش قدمی

October 1, 2009 // 0 Comments

یکم مئی ۱۹۲۰ء کو ترکی کی نوزائیدہ پارلیمنٹ میں مصطفی کمال اتاترک نے اعلان کیا کہ ملک کے شمال میں آباد کرد بھی دوسروں کی مانند ترک باشندے ہیں اور ان سے کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آٹھ عشروں سے بھی زائد مدت کے دوران کردوں سے بدترین امتیاز برتا گیا ہے۔ ترکی کے ایک کروڑ ۴۰ لاکھ کردوں نے جب جب اپنی شناخت کا سوال اٹھایا ہے، انہیں کچلا گیا ہے، آبائی علاقوں سے نکال باہر کیا گیا ہے، تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، قید و بند کی صعوبتیں دی گئی ہیں اور قتل کیا گیا ہے۔ اپنے وجود کو منوانے کے لیے کردوں نے پے در پے بغاوتیں کی ہیں۔ ان میں سب سے خونریز [مزید پڑھیے]