Abd Add
 

تیونس انتخابات

راشد الغنوشی۔۔۔ ایک تعارف

November 16, 2011 // 0 Comments

حال ہی میں تیونس کے عام انتخابات میں غیرمعمولی کامیابی حاصل کرنے والی جماعت النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی تیونس کے صوبے قبیس کے شہر الحمہ میں ۱۹۴۱ء میں پیدا ہوئے۔ تیونس کی زیتونہ یونیورسٹی کے علاوہ قاہرہ یونیورسٹی اور دمشق یونیورسٹی سے بھی تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۶۲ء میں زیتونہ یونیورسٹی سے گریجویشن کے مساوی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۶۴ء میں قاہرہ یونیورسٹی کے اسکول آف ایگریکلچر میں داخلہ لیا۔ جب مصر کے حکمران جمال عبدالناصر اور تیونس کے لیڈر حبیب بورَقیِبہ کے درمیان اختلافات کے باعث مصر سے تیونس کے باشندوں کو نکالا گیا تو راشد الغنوشی کو بھی مصر چھوڑنا پڑا، آپ شام چلے گئے جہاں آپ نے دمشق یونیورسٹی سے ۱۹۶۸ء میں فلسفے میں گریجویشن کیا۔ دمشق ہی میں سیاسی کیریئر کی ابتدا [مزید پڑھیے]

تیونس کی حقیقی آزمائش

November 16, 2011 // 0 Comments

تیونس کے انتخابات میں اسلامی جماعت النہضہ نے کامیابی تو حاصل کرلی ہے تاہم وہ چند سیکولر جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنا سکے گی۔ بحیرہ روم کی آب و ہوا کے حوالے سے جہاں اوروں کے متعلق ایک تاثر پایا جاتا ہے وہیں تیونسی عوام کے بارے میں بھی یہ رائے پائی جاتی ہے کہ وہ خوشی میں زیادہ خوش اور غم میں زیادہ غمگین ہوتے ہیں۔ عام انتخابات میں جب لوگوں کو کھل کر رائے دینے کا موقع ملا تو انہوں نے بھرپور جوش و خروش سے پولنگ میں حصہ لیا اور اسلامی جماعت کو اپنی بھرپور حمایت سے نوازا جو کسی بھی طور حیرت کا باعث نہیں۔ اسلامی نشاۃ ثانیہ کے لیے کام کرنے والی جماعت النہضہ نے عام انتخابات میں [مزید پڑھیے]

تیونس: النہضہ الاسلامی کی کامیابی

November 1, 2011 // 0 Comments

۲۳؍اکتوبر ۲۰۱۱ء کو تیونس کے پہلے آزادانہ، جمہوری شفاف انتخابات کا انعقاد ہوا۔ اسلامی جماعت نہضت پارٹی نے ۵۲ فیصد ووٹ لے کر واضح کامیابی حاصل کی۔ غیرسرکاری طور پر اس نے ۲۱۷ میں سے ۱۱۷ ؍نشستیں حاصل کی ہیں۔مدمقابل سیکولر جماعت پی ڈی پی نے شکست تسلیم کرتے ہوئے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔انتخابات میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی شرح ۹۰ فیصد رہی۔ عالمی مبصرین نے انتخابات کے لیے کیے جانے والے انتظامات کو بہترین قرار دیا۔ سابق صدر زین العابدین کے اقتدار کے خاتمے کے بعد تیونس کے عوام نے پہلی بار اپنا حق رائے دہی آزادانہ استعمال کرتے ہوئے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ ایک کروڑ چار لاکھ کی آبادی میں سے ۵۶ لاکھ رائے دہندگان نے ۱۱۰؍پارٹیوں [مزید پڑھیے]

ہم جمہوریت اور استحکام چاہتے ہیں!

October 1, 2011 // 0 Comments

تیونس کی النہضہ پارٹی الیکشن جیتنے کی صورت میں صرف حکومت کرنا نہیں چاہتی بلکہ ملک کو بہتر انداز سے چلانے اور اس کی تعمیر نو سے متعلق سرگرمیوں میں تمام شہریوں کو شریک کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ تیونس کے عوام نے سال رواں کے اوائل میں زین العابدین بن علی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ (پہلے جمہوری الیکشن ۲۳؍اکتوبر ۲۰۱۱ء کو منعقد ہونے جارہے ہیں)۔ النہضہ پارٹی کے قائد راشد الغنوشی کہتے ہیں کہ اگر عام انتخابات میں ان کی پارٹی واضح اکثریت سے کامیاب ہو جائے تب بھی وہ قومی اتفاق رائے پر مبنی حکومت قائم کرنا چاہیں گے۔ وہ کہتے ہیں ’’ہم اپنی اجتماعی شناخت کے ایک بڑے حصے (اسلام) کو حکومتی امور سے الگ تھلگ [مزید پڑھیے]