Abd Add
 

جوہری پروگرام

مغرب نے دہرا معیار اپنا رکھا ہے!

September 16, 2010 // 0 Comments

پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی اور مرکزی کردار ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ۲۰۰۴ء میں ٹیلی وژن پر اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کی۔ اعتراف کے بعد انہوں نے خاصی خاموش زندگی بسر کی ہے۔ وہ تقاریب میں شرکت سے گریز کرتے ہیں۔ میڈیا پر انہیں کم ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ اپنے ملک میں ہیرو اور بیرون ملک عالمی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے فصیح احمد نے ای میل کے ذریعے انٹرویو کیا ہے۔ o پاکستان کے جوہری اثاثوں کو اسلامی بم قرار دیا جاتا ہے۔ کسی بھی دوسرے اسلامی ملک کے پاس جوہری بم نہیں، تو کیا پاکستانی جوہری اثاثوں کو اسلامی بم قرار دینا درست ہے؟ عبدالقدیر [مزید پڑھیے]

جوہری دھمک

April 16, 2005 // 0 Comments

گزشتہ ہفتے ۷۴ ممالک کے حکومتی اہلکار پیرس میں جمع ہوئے تاکہ جوہری توانائی کے مستقبل کا جائزہ لیں۔ درج ذیل اعداد و شمار سے ایٹمی ری ایکٹرز کی کچھ تفصیل واضح ہوتی ہے: (بحوالہ: ’’نیوز ویک‘‘۔ ۴ اپریل ۲۰۰۵ء)

ایران کے پاس جوہری فنی مہارت موجود ہے!

March 16, 2005 // 0 Comments

واشنگٹن پوسٹ کے حوالے سے خبر ہے کہ ’’نیوز ویک‘‘ کے نامہ نگار لالی ویموت (Lally Weymouth) نے البرادی سے مصاحبہ (Interview) کیا جس کے سوال و جواب کی تفصیل درج ذیل ہے: س: کیا آپ ایجنسی کی سربراہی کے تیسرے دور کی سربراہی کے لیے بھی امیدوار ہوں گے؟ ج: میں اکیلا کینڈیڈیٹ ہوں۔ س: امریکا آپ سے کیوں نجات چاہتا ہے؟ ج: ان کا خیال ہے کہ میں دو بار انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن کا سربراہ رہا ہوں اس لیے مجھے نہیں رہنا چاہیے۔ جبکہ بہت سارے ممالک مجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس منصب پر باقی رہوں۔ اس لیے ہمارے درمیان تنازعہ ہے اور بہت سارے اہم مسائل ہیں‘ ایران بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے‘ اسی طرح شمالی کوریا۔ چنانچہ [مزید پڑھیے]

ہمارا نظامِ حکومت سابقہ نظاموں سے مختلف ہوگا

September 16, 2004 // 0 Comments

وزیراعظم شوکت عزیز نے اپوزیشن پارٹیوں کو اپنی جانب سے امن کی پیشکش کرتے ہوئے قومی مسائل پر اتفاقِ رائے کے حصول کے لیے بہت ہی سنجیدہ کوشش کیے جانے کا وعدہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ ملک کی اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کے لیے شوکت عزیز کے انتخاب کا بائیکاٹ کیا تھا۔ ۵ اگست کی شام روزنامہ ’’ڈان‘‘ کے ساتھ اپنے ایک پینل انٹرویو میں وزیراعظم نے اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے حکومتی اہداف کے حصول میں بہت ہی سخت واقع ہوں گے۔ وہ اپنی کابینہ کے تشکیلِ نو کے ساتھ حکومتی پالیسیوں کو نتیجہ خیزی کے اعتبار سے بہتر بنائیں گے۔ لہٰذا وزارتِ عظمیٰ کا ان کا آئندہ ۳ سال سے زائد کا عرصہ طرزِ حکومت کے معاملے میں [مزید پڑھیے]