Abd Add
 

حسنی مبارک

’’اخوان المسلمون عوام کے دِلوں پر راج کرتی ہے!‘‘

March 1, 2013 // 0 Comments

کائنات عرب بیدار ہو رہی ہے، اور عالم اسلام تو ایک طرف، دنیا بھر کی نظریں عرب بہار اور اس کے ثمرات پر مرکوز ہیں، حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اگر تبدیلیاں عوامی امنگوں کے مطابق رہیں تو یہ نہ صرف اس ملک کی بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے بھی نشاۃ ثانیہ ثابت ہوں گی۔ مصر میں آنے والی تبدیلی نے مغرب، خصوصاً اسرائیل اور امریکا کے پالیسی سازوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ اپنے تاریخی پس منظر اور محلِ وقوع کی اہمیت کی وجہ سے مصر میں ہونے والی معمولی تبدیلی کے جھٹکے بھی دنیا بھر میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ اور خصوصاً جب معاملہ اسلام پسندوں کی کامیابی کا [مزید پڑھیے]

۲۰۱۲ء کا مصری جمہوری آئین

February 1, 2013 // 0 Comments

مصر میں حسنی مبارک کے تیس سالہ ظالمانہ دَور کے عوامی جدوجہد کے نتیجے میں اختتام اور مختلف مراحل میں ہونے والے عام انتخابات میں اخوان المسلمون نے بے مثال کامیابی حاصل کی۔ اس کے اگلے مرحلے میں صدارتی انتخابات میں بھی اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد مرسی کامیاب ہوئے اور جون ۲۰۱۲ء میں صدارتی حلف اٹھایا۔ ملک میں دستور ساز کمیٹی قائم کی گئی، جس نے دستور سازی کا عمل مکمل کیا، اس دستور پر دو مرحلوں میں ریفرنڈم کروایا گیا، تاکہ عوامی رائے معلوم کی جاسکے۔ ۱۵؍دسمبر اور ۲۲؍دسمبر ۲۰۱۲ء کو ہونے والے اس ریفرنڈم میں عوام کی بڑی تعداد نے آئین کے حق میں ووٹ دیا اور اس طرح مصر میں جمہوری آئین کی تشکیل کا عمل مکمل ہوا۔ [مزید پڑھیے]

اخوان المسلمون، مصر کو جدید فلاحی ریاست بنائے گی!

May 16, 2012 // 0 Comments

اخوان المسلمون کی سیاسی شاخ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے صدارتی امیدوار محمد مرسی ۱۹۵۱ء میں شرقیہ گورنریٹ میں پیدا ہوئے۔ قاہرہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف انجینئرنگ سے آنرز کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا گئے۔ ۱۹۸۲ء میں یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا سے انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ آپ نے کیلی فورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی (North Ridge) میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے پڑھانا شروع کیا اور ۱۹۸۵ء میں مصر واپس آگئے۔ مصر واپسی کے بعد محمد مرسی نے زغازغ (Zagazig) یونیورسٹی کی فیکلٹی آف انجینئرنگ کے مٹیریلز انجینئرنگ کے شعبے میں سربراہ کی حیثیت سے تدریس شروع کی۔ پروفیسر کی حیثیت سے وہ ۲۰۱۰ء تک وہاں خدمات انجام دیتے رہے۔ اس دوران انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی میں بھی تدریس کے [مزید پڑھیے]

مصر میں نئے صدر کی تلاش!

April 1, 2012 // 0 Comments

گزشتہ سال مصریوں نے تاریخی انتخابات میں ووٹ ڈالے تھے۔ وہ نیا آئین چاہتے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ جمہوریت پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہو۔ حسنی مبارک کی آمریت کا خاتمہ ہونے کے بعد بیشتر مصریوں کی آنکھوں میں کچھ خواب تھے اور وہ ان خوابوں کو شرمندۂ تعبیر دیکھنا چاہتے تھے۔ بیشتر مصریوں کو یقین تھا کہ فوج جمہوریت کی طرف لے جانے والے راستے پر رہنمائی کرے گی۔ مگر تمام امیدیں بار آور ثابت نہیں ہوئی ہیں۔ گزشتہ ماہ جب پارلیمنٹ کے نسبتاً کمزور ایوان بالا شورٰی کونسل کے انتخابات ہوئے تو عوام نے برائے نام دلچسپی لی اور ٹرن آؤٹ ۵ء۶ فیصد رہا۔ جنوری ۲۰۱۱ء میں مصر میں انقلابی لہر اٹھی۔ عوام بیدار ہوئے اور تین [مزید پڑھیے]

ترکی کی تقلید آسان نہیں!

September 1, 2011 // 0 Comments

بہت سے معاملات میں محسوس ہوتا ہے کہ ترکی کے اسلام پسند عناصر اپنی بات منوانے اور سب کچھ درست کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ فوج کی مشاورت سے تقویت پانے والے سیکولر ازم کے سائے سے الگ ہوکر ابھرنے میں انہیں خاصا وقت لگا۔ استنبول کی کامرس یونیورسٹی کے جواں سال پروفیسر باقر بیرت اوزیپیک کو مصر میں عوامی انقلاب کی لہر نے بہت متاثر کیا ہے۔ انہوں نے دو ساتھیوں کے ساتھ حال ہی میں قاہرہ یونیورسٹی کے تحت منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت کی جس میں سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے ان کے خیالات کا خیر مقدم کیا گیا۔ ایک رات وہ قاہرہ کے مشہور زمانہ تحریر اسکوائر گئے اور وہاں انہوں نے دیکھا کہ نوجوان ٹریفک کنٹرول کر رہے ہیں۔ [مزید پڑھیے]

1 2