Abd Add
 

حسنی مبارک

حسنی مبارک کا عروج و زوال

March 1, 2011 // 0 Comments

مصر کے صدر حسنی مبارک نے مستعفی ہونے سے ایک دن قبل رات کو قوم سے جو خطاب کیا اس میں سب کو بیٹے اور بیٹیاں کہہ کر مخاطب کیا۔ یہ خطاب بھی جھوٹ کا پلندہ تھا۔ ان میں سے چند ایک جھوٹ ایسے تھے جن پر خود حسنی مبارک کو بھی یقین رہا ہوگا۔ اس خطاب میں حسنی مبارک نے کہا کہ وہ ستمبر میں صدارتی انتخاب تک اپنے منصب پر فائز رہیں گے، اس لیے کہ قوم کو ان کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں تیس سال گزارنے کے بعد بھی حسنی مبارک کی اقتدار پرستی کا عالم دیکھیے! لوگ تو حسنی مبارک سے صرف دو الفاظ سننا چاہتے تھے۔۔ خدا حافظ! حسنی مبارک کی تقریر کے دوران ایک عورت کو ٹیلی فون پر [مزید پڑھیے]

عرب حکمران ’’سبسڈی‘‘ کی راہ پر گامزن

February 16, 2011 // 0 Comments

تیونس میں عوامی انقلاب کے نتیجے میں صدر زین العابدین بن علی کے ملک سے فرار ہو جانے اور مصر میں تیس سال سے اقتدار پر قابض حسنی مبارک کے مستعفی ہو جانے کے بعد عرب دنیا میں کھلبلی مچی ہوئی ہے اور حکمرانوں نے عوام کو مختلف معاملات میں سہولتیں دینا شروع کردی ہیں۔ کھانے پینے کی اشیا کو سستا کیا جارہا ہے۔ روزمرہ استعمال کی بہت سی اشیا پر سبسڈی دی جارہی ہے۔ تنخواہوں میں اضافہ کیا جارہا ہے اور پنشن بھی بڑھائی جارہی ہے۔ لندن میں قائم تھنک ٹینک کیپٹل اکنامکس کے تجزیہ کار سعید کا کہنا ہے کہ مختصر میعاد کے لیے سبسڈی دی جاسکتی ہے۔ اگر یہ طوالت اختیار کر گئی تو معیشت پر دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ سبسڈی کا [مزید پڑھیے]

اخوان المسلمون وقت کے انتظار میں!

November 16, 2010 // 0 Comments

اخوان المسلمون ۵ سال قبل مصری پارلیمنٹ میں ۲۰ فیصد نشستیں حاصل کر کے طاقتور حزب اختلاف کے روپ میں سامنے آئی تھی۔ کسی سیاسی جماعت کے لیے ایسے وقت میں، جب کہ اس پر سیاست میں حصہ لینے پر مکمل پابندی عائد ہو اور یہ کہ گزشتہ ۱۰ برسوں میں ’’جمہوریہ مصر‘‘ میں ہونے والے انتخابات آزادانہ اور شفافیت سے کوسوں دور رہے ہوں، ایک متاثر کن کارنامہ ہوتا ہے۔ مصر کے صدر حسنی مبارک کی جانب سے عدلیہ کو انتخابات کی نگرانی کے عمل سے الگ کرنے کے اقدام پر تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ نومبر کے عام انتخابات میں ووٹوں کا تناسب بہت زیادہ ہو گا۔ اس کے باوجود حزب اختلاف نے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا اور اخوان المسلمون نے [مزید پڑھیے]

شکریہ۔۔۔ اور خدا حافظ!

September 1, 2010 // 0 Comments

نتیجہ اچھا نکلے گا یا برا یہ تو کوئی نہیں جانتا تاہم اتنا ضرور ہے کہ مصر اور سعودی عرب میں بہت جلد بڑے پیمانے پر اور بنیادی نوعیت کی تبدیلی آ رہی ہے۔ عرب دنیا کی دو بڑی ریاستوں کا مقدر معمر اور مطلق العنان حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے۔ ۸۲ سالہ حسنی مبارک ۱۹۸۱ء سے مصر پر حکومت کر رہے ہیں۔ اب ان کی صحت جواب دیتی جارہی ہے۔ شاہ عبداللہ نے پانچ سال قبل عرب دنیا کی امیر ترین ریاست کی باگ ڈور سنبھالی۔ ویسے وہ اس سے بہت پہلے سے حکمرانی کرتے آ رہے تھے۔ شاہ عبداللہ بھی اب خاصے معمر ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان کی عمر ۸۶ سال ہے۔ ان دونوں حکمرانوں کے بعد اب ان کے ملک [مزید پڑھیے]

1 2