Abd Add
 

حماس اور فتح

غرب اردن۔۔۔ سلام فیاض کے بعد!

May 1, 2013 // 0 Comments

فلسطینی اتھارٹی کے وزیراعظم سلام فیاض نے ۱۳؍اپریل کو استعفیٰ دے دیا۔ یہ استعفیٰ حماس اور فتح گروپ کے درمیان امن معاہدے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ سلام فیاض کے استعفے کو فلسطینی علاقوں میں امن کے قیام کے حوالے سے ایک اور دھچکا ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ سلام فیاض آئی ایم ایف کے افسر رہ چکے تھے۔ ایم بی اے کے ساتھ ساتھ انہوں نے معاشیات میں پی ایچ ڈی بھی کر رکھی ہے۔ کسی زمانے میں وہ سینٹ لوئی فیڈرل ریزرو فنڈ سے وابستہ تھے۔ مغربی سفارت کاروں کو سلام فیاض سے رابطے میں آسانی تھی اور بات سمجھانے میں دیر نہیں لگتی تھی۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے ملٹری بینڈز کو ختم کرکے اردن سے تربیت یافتہ آٹھ بٹالینز تعینات کیں۔ [مزید پڑھیے]

فلسطینی دھڑوں میں اتحاد ہوسکتا ہے؟

December 16, 2011 // 0 Comments

فلسطینی دھڑوں میں صلح کی بات چیت ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہوسکے گا؟ اگر سب کچھ درست چلتا رہا تو بہت جلد فلسطین کو، کم از کم دستاویز اور نظریے کی حد تک، دو بلاکس کی شکل میں متحد ہو جانا چاہیے۔ غزہ کی پٹی پر اسلامی تحریک حماس کی حکمرانی ہوگی اور غرب اردن پر فلسطینیوں کی سیکولر قومی تحریک فتح کا تصرف ہوگا۔ حماس کے سربراہ خالد مشعل اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے ۲۴ نومبر کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد مئی میں انجام پانے والے ایک معاہدے کے تحت عبوری حکومت کے قیام کے معاملے کو حتمی شکل دینا، انتخابات کی تاریخ [مزید پڑھیے]

حماس کرپشن سے پاک مقبول عوامی جماعت ہے!

May 16, 2011 // 0 Comments

اسرائیل کے فلسطینی اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے امور کے ماہر اور سیاسی تجزیہ نگار پروفیسر شائول مشعل نے کہا ہے کہ فلسطین میں انتخابات چاہے ایک دن کے اندر ہوں یا ایک سال بعد ہوں، ہر صورت میں اکثریت کے ساتھ کامیاب ہونے والی جماعت صرف حماس ہوگی۔ صہیونی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ حماس کا دامن کرپشن اور بدعنوانی کی آلودگی سے پاک ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی تجزیہ نگار نے حال ہی میں ’’یافی صہیونی اسٹڈی سینٹر ‘‘ کے زیراہتمام ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں فلسطین میں انتخابی سیاست میں کامیاب اور ناکام ہونے والی سیاسی جماعتوں کا مفصل احوال بیان کیاگیا ہے۔ صہیونی تجزیہ نگار لکھتے ہیں کہ محمود عباس اور ان کی جماعت کی [مزید پڑھیے]

قومی اہداف کیلئے فلسطینیوں کا سیاسی اشتراکِ عمل ضروری ہے

May 16, 2009 // 0 Comments

جنوری ۲۰۰۶ء میں پورے فلسطین میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا تو حماس اکثریتی پارلیمانی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔ حماس نے وزارتِ عظمیٰ کے لیے اسمٰعیل ھنیہ کو نامزد کیا۔ انہیں فلسطین کی منتخب قومی حکومت کی قیادت کرنے کا اعزاز ملا۔ لیکن فلسطینیوں کا اپنے معاملات چلانے کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھنا اور تحریک مزاحمت جاری رکھنے کے لیے کوشاں رہنا پہلے اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کو گوارا نہ تھا۔ بعد ازاں اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کا یہ جادو صدر محمود عباس اور ان کی جماعت پر بھی چل گیا اور منتخب قومی فلسطینی حکومت کو توڑنے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ یہ کوششیں فلسطینی اتھارٹی نے اپنے تئیں آسانی سے کامیاب بنائیں البتہ غزہ میں آج بھی [مزید پڑھیے]

الفتح اسرائیل کا ساتھ نہ دے

December 16, 2007 // 0 Comments

منیٰ منصور مغربی کنارے سے فلسطینی قانون ساز اسمبلی کی رکن ہیں۔ وہ حماس کے شہید رہنما جمال منصور کی بیوہ ہیں۔ جمال منصور کو چھ سال قبل اسرائیلی حکومت نے شہید کر دیا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی کی مخالفانہ پالیسیوں اور اسرائیلی دبائو کے باوجود منی منصور نے اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹائے ۔ وہ حماس کے ان بیسیوں ارکان پارلیمنٹ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کوشاں ہیں جنہیں اسرائیلی نے جیلوں میں ڈالا ہواہے وہ فلسطینی عوام میں سر گرم عمل ہیں۔ مرکز اطلاعات فلسطین نے اسرائیلی اور فلسطینی سیکورٹی فورسز کی ہم آہنگی سے مسئلہ فلسطین اور فلسطینی قومی وحدت کو پہنچے والے نقصانات اور حماس کی حکومت کے خلاف کی جانے والی مشترکہ اسرائیل امریکی فلسطینی سازشوں کے حوالے سے [مزید پڑھیے]