Abd Add
 

دولت و ثروت

دنیا کی ۸۲ فیصد دولت پر ایک فیصد لوگ قابض

February 1, 2018 // 0 Comments

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے موقع پر Oxfam نے اپنی رپوٹ پیش کی، جس کے تحت سال ۲۰۱۷ء میں دنیا میں پیدا ہونے والی کُل دولت کا ۸۲ فیصد دنیا کے ایک فیصد امیر ترین افراد کے ہاتھوں میں رہا۔ جبکہ ۷ء۳؍ارب غریب ترین لوگ جو کہ دنیا کی آبادی کا نصف ہیں اپنے مالی حالات میں کوئی بہتری نہیں دیکھ سکے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح عالمی معیشت دولت مند اشرافیہ کو دولت کے خزانے جمع کرنے میں مدد کرتی ہے جبکہ کروڑوں افراد غربت اورمفلسی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ۱۔ سال ۲۰۱۰ ء سے ارب پتی افراد کی دولت میں سالانہ ۱۳فیصد کی اوسط سے اضافہ ہو رہاہے۔یہ ایک عام [مزید پڑھیے]

ایمان و معنویت سے عاری ترقی یافتہ علمی معاشروں کی مشکلات

June 16, 2005 // 0 Comments

ایک ایسے معاشرے میں جو ترقی کی طرف گامزن ہو اور اعلیٰ علمی‘ معاشرتی اور عالمی اہداف و مقاصد کا بھی حامل ہو‘ اگر ایک ایسا قومی و موثر ثقافتی چشمۂ فیض جاری ہو جو معاشرے کی کوشش و حرکت کی صحیح سمت میں رہنمائی کرتا رہے تو یہ معاشرہ خیر و ترقی اور کامیابی و کامرانی حاصل کر لے گا لیکن اگر اس طرح کا کوئی الٰہی و معنوی‘ مذہبی‘ ثقافتی چشمۂ فیض‘ علمی توسیع و ترقی کی طرف گامزن معاشرے میں موجود نہ ہو تو نتیجے میں وہی چیز دیکھنے کو ملتی ہے جو آج مغرب کے ترقی یافتہ معاشروں میں نظر آرہی ہے۔ یہ جس قدر زیادہ ترقی یافتہ ہیں‘ اتنا ہی زیادہ انسانیت‘ بھلائی اور عدل و انصاف سے دور ہیں۔ [مزید پڑھیے]