Abd Add
 

زین العابدین بن علی

تیونس کے اسلامی عناصر اقتدار میں!

April 16, 2012 // 0 Comments

تیونس میں النہضہ نے اقتدار میں ابتدائی ۱۰۰؍دن عمدگی سے مکمل کرلیے ہیں۔ پارٹی کو چند ایک مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے فکر و عمل کے اعتبار سے لوگوں کے ذہنوں میں پائے جانے والے خدشات کو دور کرنے میں مصروف رہی ہے۔ تیونس کی نئی حکومت کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ اس کی کابینہ کے دس ارکان سابق سیاسی قیدی ہیں۔ خود وزیراعظم حمادی جبالی (Hamadi Jebali) ۱۴؍سال جیل میں رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر قیدیوں کو قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا رہا ہے۔ تیونس پر ۲۳ سال تک حکمرانی کرنے والے زین العابدین بن علی کے دور میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑنے والے ان لوگوں کو قرآن کے [مزید پڑھیے]

تیونس: النہضہ الاسلامی کی کامیابی

November 1, 2011 // 0 Comments

۲۳؍اکتوبر ۲۰۱۱ء کو تیونس کے پہلے آزادانہ، جمہوری شفاف انتخابات کا انعقاد ہوا۔ اسلامی جماعت نہضت پارٹی نے ۵۲ فیصد ووٹ لے کر واضح کامیابی حاصل کی۔ غیرسرکاری طور پر اس نے ۲۱۷ میں سے ۱۱۷ ؍نشستیں حاصل کی ہیں۔مدمقابل سیکولر جماعت پی ڈی پی نے شکست تسلیم کرتے ہوئے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔انتخابات میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی شرح ۹۰ فیصد رہی۔ عالمی مبصرین نے انتخابات کے لیے کیے جانے والے انتظامات کو بہترین قرار دیا۔ سابق صدر زین العابدین کے اقتدار کے خاتمے کے بعد تیونس کے عوام نے پہلی بار اپنا حق رائے دہی آزادانہ استعمال کرتے ہوئے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ ایک کروڑ چار لاکھ کی آبادی میں سے ۵۶ لاکھ رائے دہندگان نے ۱۱۰؍پارٹیوں [مزید پڑھیے]

ہم جمہوریت اور استحکام چاہتے ہیں!

October 1, 2011 // 0 Comments

تیونس کی النہضہ پارٹی الیکشن جیتنے کی صورت میں صرف حکومت کرنا نہیں چاہتی بلکہ ملک کو بہتر انداز سے چلانے اور اس کی تعمیر نو سے متعلق سرگرمیوں میں تمام شہریوں کو شریک کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ تیونس کے عوام نے سال رواں کے اوائل میں زین العابدین بن علی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ (پہلے جمہوری الیکشن ۲۳؍اکتوبر ۲۰۱۱ء کو منعقد ہونے جارہے ہیں)۔ النہضہ پارٹی کے قائد راشد الغنوشی کہتے ہیں کہ اگر عام انتخابات میں ان کی پارٹی واضح اکثریت سے کامیاب ہو جائے تب بھی وہ قومی اتفاق رائے پر مبنی حکومت قائم کرنا چاہیں گے۔ وہ کہتے ہیں ’’ہم اپنی اجتماعی شناخت کے ایک بڑے حصے (اسلام) کو حکومتی امور سے الگ تھلگ [مزید پڑھیے]

حسنی مبارک کا عروج و زوال

March 1, 2011 // 0 Comments

مصر کے صدر حسنی مبارک نے مستعفی ہونے سے ایک دن قبل رات کو قوم سے جو خطاب کیا اس میں سب کو بیٹے اور بیٹیاں کہہ کر مخاطب کیا۔ یہ خطاب بھی جھوٹ کا پلندہ تھا۔ ان میں سے چند ایک جھوٹ ایسے تھے جن پر خود حسنی مبارک کو بھی یقین رہا ہوگا۔ اس خطاب میں حسنی مبارک نے کہا کہ وہ ستمبر میں صدارتی انتخاب تک اپنے منصب پر فائز رہیں گے، اس لیے کہ قوم کو ان کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں تیس سال گزارنے کے بعد بھی حسنی مبارک کی اقتدار پرستی کا عالم دیکھیے! لوگ تو حسنی مبارک سے صرف دو الفاظ سننا چاہتے تھے۔۔ خدا حافظ! حسنی مبارک کی تقریر کے دوران ایک عورت کو ٹیلی فون پر [مزید پڑھیے]

عرب حکمران ’’سبسڈی‘‘ کی راہ پر گامزن

February 16, 2011 // 0 Comments

تیونس میں عوامی انقلاب کے نتیجے میں صدر زین العابدین بن علی کے ملک سے فرار ہو جانے اور مصر میں تیس سال سے اقتدار پر قابض حسنی مبارک کے مستعفی ہو جانے کے بعد عرب دنیا میں کھلبلی مچی ہوئی ہے اور حکمرانوں نے عوام کو مختلف معاملات میں سہولتیں دینا شروع کردی ہیں۔ کھانے پینے کی اشیا کو سستا کیا جارہا ہے۔ روزمرہ استعمال کی بہت سی اشیا پر سبسڈی دی جارہی ہے۔ تنخواہوں میں اضافہ کیا جارہا ہے اور پنشن بھی بڑھائی جارہی ہے۔ لندن میں قائم تھنک ٹینک کیپٹل اکنامکس کے تجزیہ کار سعید کا کہنا ہے کہ مختصر میعاد کے لیے سبسڈی دی جاسکتی ہے۔ اگر یہ طوالت اختیار کر گئی تو معیشت پر دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ سبسڈی کا [مزید پڑھیے]

تیونس جاگ اٹھا ہے!

February 1, 2011 // 0 Comments

کسی عرب ملک کا آمریت کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا حیرت انگیز امر ہے کیونکہ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ مفرور صدر زین العابدین بن علی کی تمام کرپشن کے باوجود تیونس نے معاشرے میں کھلے پن کو اپنانے اور معیشت کو بہتر بنانے کے حوالے سے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تعلیم کا معیار بلند ہوا ہے، خواتین کو قدرے آزادی ملی ہے اور انفرادی سطح پر معاشی استحکام کے اثرات دکھائی دیئے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اپوزیشن کا روایتی کردار ادا کرنے والے مذہبی عناصر حالیہ ہنگامہ آرائی اور تبدیلی کے دوران منظر سے غائب رہے ہیں۔ اگر ایک کروڑ چھ لاکھ نفوس پر مشتمل یہ ملک چند ماہ کے دوران صورت حال کو معمول پر لاکر [مزید پڑھیے]