Abd Add
 

صدر عمر البشیر

سوڈان: نقد، امداد اور سفارت کاری

May 1, 2013 // 0 Comments

کیا سوڈانیوں، اور بالخصوصی دارفر کے رہنے والوں، کو ایک نیا امن معاہدہ مل سکے گا؟ ملک میں آزادی کے ماحول کو تقویت پہنچانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے سوڈان کے صدر عمر البشیر نے یکم اپریل کو اعلان کیا کہ تمام سیاسی قیدی رہا کر دیے جائیں گے۔ سات سرکردہ سیاسی کارکن فوری طور پر رہا کر بھی دیے گئے۔ عمر البشیر کی کابینہ کے ارکان نے قطر میں منعقدہ کانفرنس میں شرکت کی جس میں دارفر کی ترقی اور استحکام کے لیے امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ دارفر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن اور قتل عام سے صدر عمر البشیر کے لیے مشکلات بڑھی ہیں۔ انٹر نیشنل کرمنل کورٹ نے ان پر فردِ جرم عائد کرتے ہوئے گرفتاری کے وارنٹ [مزید پڑھیے]

سوڈان کو تقسیم کرنے کی تیاری

December 16, 2010 // 0 Comments

سوڈان کے جنوب میں ابھرنے والی شورش اب رنگ لارہی ہے۔ امریکا اور یورپ نے مل کر سوڈان پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ جنوبی صوبے دارفر کے مکینوں کو آزادی دے۔ ۹؍جنوری کو ریفرنڈم ہونے والا ہے جس کے ذریعے یہ طے ہونا ہے کہ جنوبی سوڈان ملک کا حصہ رہے یا نہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ جنوبی سوڈان کے لوگوں کی اکثریت سوڈان سے علیٰحدگی کے حق میں ووٹ دے گی۔ سوڈان کے صدر عمر البشیر نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ریفرنڈم کے نتیجے کو خلوص دل سے قبول کریں گے اور اس کے مطابق عمل کریں گے۔ مگر مبصرین کو خدشہ ہے کہ عمر البشیر ایسے طریقے ضرور اختیار کریں گے جن کا مقصد تیل کی دولت سے مالا مال [مزید پڑھیے]

’’جنوبی سوڈان‘‘ ملک بن کر زندہ رہ سکے گا؟

November 1, 2010 // 0 Comments

ممکن ہے کہ آئندہ سال افریقا کو ایک اور ملک مل جائے۔ اس ملک کو جنوبی سوڈان کہا جائے گا۔ بیس سال سے تو اس کا یہی نام ہے۔ مگر یہ بات بھی یقینی ہے کہ یہ نیا ملک خاصا کمزور ہوگا۔ ۹؍ جنوری ۲۰۱۱ء یا اس کے آس پاس جنوبی سوڈان میں ریفرینڈم ہوگا جس میں وہاں کی عیسائی اکثریت کو شمالی سوڈان کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں رائے دینی ہے۔ اگر انہوں نے شمالی سوڈان کے ساتھ نہ رہنے کو ترجیح دی (جس کا واضح امکان ہے) تو ۲۰۱۱ء کے وسط تک جنوبی سوڈان ایک نئے ملک میں تبدیل ہو جائے گا۔ سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ (ایس پی ایل ایم) نصف صدی کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ سوڈان میں [مزید پڑھیے]

کیا سوڈان تقسیم ہو جائے گا؟

October 16, 2010 // 0 Comments

امریکی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ میں سوڈان سے متعلق اعلیٰ سطحی ذمہ داروں کی میٹنگ میں امریکی صدر باراک اوباما کے خصوصی ایلچی برائے سوڈان ریٹائرڈ کمانڈر جنرل اسکاٹ گرائشن اور اقوام متحدہ میں واشنگٹن کی سفیر سوزان رائس کے درمیان سخت اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں، اس میٹنگ میں سوزان رائس اس وقت غصے سے بھڑک اٹھیں اور آپے سے باہر ہو گئیں جب گرائشن نے یہ تجویز رکھی اور منصوبہ پیش کیا کہ جنوبی سوڈان کی علیحدگی کے لیے استصواب رائے کو فوقیت و اولیت دی جائے، رائس کا کہنا تھا کہ اس سے دارفور میں جاری بحران کی اہمیت گھٹ جائے گی، جبکہ استصواب رائے کے لیے خرطوم پر مزید دبائو ڈالنے کی فی الوقت کوئی ضرورت [مزید پڑھیے]