Abd Add
 

عراق اور افغانستان

چین سے متعلق امریکی فوجی حکمتِ عملی

July 1, 2012 // 0 Comments

امریکا کے لیے سب سے بڑا مسئلہ چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنا ہے۔ اس سیلاب کے سامنے بند باندھنے کی کوششیں اب تک ملے جلے اثرات کی حامل رہی ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے چین کے خلاف بحری و فضائی جنگ کی سوچ اپنائی ہے مگر ناقدین نے اس میں خامیاں تلاش کی ہیں۔ گزشتہ عشرے کے بیشتر حصے میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات نے امریکا میں صنعتی سطح پر مقبولیت حاصل کی اور اس کے نتیجے میں اسٹریٹجک سوچ رکھنے والے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ مگر اب دفاعی امور میں ایک نئے فیشن کی آمد ہوئی ہے۔ گزشتہ ماہ سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ کے لیے جمع ہونے والے ایشیائی وزرائے دفاع کے سامنے امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے ایک [مزید پڑھیے]

امریکی ’’بلینک چیک‘‘ کسی بھی وقت منسوخ ہوسکتا ہے!

November 16, 2010 // 0 Comments

پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے بہت سی اور متضاد باتیں کہی جارہی ہیں۔ سرکاری سطح پر دعویٰ کیا جارہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات جتنے اچھے اس وقت ہیں ، کبھی نہیں رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک محض خوشگوار تعلقات کا ڈھونگ رچا رہے ہیں۔ اگر سطح سے ذرا بھی نیچے جاکر دیکھا جائے تو تعلقات کی نوعیت سب پر بے نقاب ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں جو سیاست دان خود کو جمہوریت کا سب سے بڑا علم بردار قرار دیتے ہیں ان کا یہ حال ہے کہ کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہیں۔ ان کی لائی ہوئی جمہوریت بہت سے نئے سیاست دانوں کے لیے ذرا بھی قابل قبول دکھائی نہیں دیتی۔ ناقدین کہتے ہیں کہ پاکستان پر [مزید پڑھیے]

’’عراق مشن‘‘ ختم ہوا؟

September 16, 2010 // 0 Comments

ڈیموکریٹک پارٹی نے عراق جنگ کی مخالفت کے ذریعے امریکی ووٹروں کی توجہ حاصل کی تھی۔ بارک اوباما کو اندازہ تھا کہ عراق جنگ نے امریکیوں کو نفسیاتی خلجان میں مبتلا کر رکھا ہے اور ایسے میں اس جنگ کی شدید مخالفت کرکے ہی ان کا اعتماد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران عراق جنگ کے خلاف بڑھ چڑھ کر خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے ووٹروں کو یاد دلایا کہ وہ ابتدا ہی سے اس جنگ کے خلاف تھے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارت کے منصب کے لیے امیدواری کی امیدوار (اور موجودہ وزیر خارجہ) ہلیری کلنٹن نے عراق جنگ کی مخالفت میں کچھ زیادہ بولنے سے گریز کیا جس کا خمیازہ بھی [مزید پڑھیے]

نائن الیون، القاعدہ اور امریکی پروپیگنڈا مشینری

September 1, 2010 // 0 Comments

نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر جس مقام پر تعمیر کیا گیا تھا اس کے نزدیک مسجد تعمیر کرنے کے منصوبے کی مخالفت امریکا بھر میں تجزیاتی فیشن کا درجہ اختیار کرگیا ہے۔ جو لوگ اظہار رائے کی آزادی کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور ہر وقت اس کی وکالت میں رطب اللسان رہتے ہیں وہ بھی گراؤنڈ زیرو مسجد کے خلاف میدان میں نکل آئے ہیں۔ مرکزی میڈیا میں اس قدر پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ ساتھ ہی ساتھ یہ ڈھول بھی پیٹا جارہا ہے کہ القاعدہ ایک بار پھر منظم ہوچکی ہے اور نائن الیون جیسا ایک اور واقعہ کسی بھی وقت رونما ہوسکتا ہے۔ جارج واکر بش، ڈک چینی اور ان کے رفقا نے نو [مزید پڑھیے]

مغربی استعمار کا مکروہ چہرہ

September 1, 2010 // 0 Comments

مغربی استعمار عالم اسلامی کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے ہر ممکن حربہ کو استعمال کرتا رہا ہے۔ صہیونی جنگوں کی شکست کا انتقام لینے کے لیے اس نے عالمِ اسلام کے ساتھ دو محاذ کھولے۔ ایک ثقافتی یلغار کا محاذ اور دوسرا عالم اسلام پر پے درپے جنگ مسلط کرنے کی پالیسی۔ اسی وقت مغربی طاقتوں کی جانب سے ان دونوں راستوں سے عالمِ اسلام کے خلاف محاذ آرائی کا سلسلہ جاری ہے۔ ثقافتی یلغار کے لیے یہودی میڈیا ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ میڈیا اور تعلیم کے راستہ سے عالمِ اسلام میں مغربی تہذیب کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ مسلم ممالک کے قدرتی وسائل کو ہتھیانے اور انہیں مادّی ترقیات [مزید پڑھیے]

1 2