Abd Add
 

فلسطینی اتھارٹی

غرب اردن۔۔۔ سلام فیاض کے بعد!

May 1, 2013 // 0 Comments

فلسطینی اتھارٹی کے وزیراعظم سلام فیاض نے ۱۳؍اپریل کو استعفیٰ دے دیا۔ یہ استعفیٰ حماس اور فتح گروپ کے درمیان امن معاہدے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ سلام فیاض کے استعفے کو فلسطینی علاقوں میں امن کے قیام کے حوالے سے ایک اور دھچکا ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ سلام فیاض آئی ایم ایف کے افسر رہ چکے تھے۔ ایم بی اے کے ساتھ ساتھ انہوں نے معاشیات میں پی ایچ ڈی بھی کر رکھی ہے۔ کسی زمانے میں وہ سینٹ لوئی فیڈرل ریزرو فنڈ سے وابستہ تھے۔ مغربی سفارت کاروں کو سلام فیاض سے رابطے میں آسانی تھی اور بات سمجھانے میں دیر نہیں لگتی تھی۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے ملٹری بینڈز کو ختم کرکے اردن سے تربیت یافتہ آٹھ بٹالینز تعینات کیں۔ [مزید پڑھیے]

فلسطین کی آزادی اور حماس کا وژن

April 16, 2013 // 0 Comments

الزیتونہ سینٹر فار اسٹڈیز اینڈ کنسلٹیشنز نے حماس کے سیاسی بازو کے سربراہ خالد مشعل کے ایک مقالے پر مبنی دستاویز شائع کی ہے جس سے عرب دنیا میں عوامی بیداری کی لہر کے تناظر میں حماس کے سیاسی فکر کی از سرِ نو تشکیل کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بیروت میں ۲۸ اور ۲۹ نومبر ۲۰۱۲ء کو الزیتونہ سینٹر کے زیراہتمام عرب دنیا میں عوامی بیداری کی لہر کے تناظر میں ’’اسلامی تحاریک اور فلسطینی کاز‘‘ کے زیر عنوان ایک کانفرنس ہوئی، جس میں خالد مشعل نے مقالہ پیش کیا۔ کانفرنس کے بعد خالد مشعل نے خود اس مقالے کی نئے سِرے سے تدوین کی اور اشاعت کے لیے الزیتونہ سینٹر کو بھیجا۔ اس مقالے کو حماس کے سیاسی فکر کے حوالے سے ایک [مزید پڑھیے]

فلسطینیوں میں مصالحت: کیا واقعی ایسا ہوسکتا ہے؟

April 16, 2013 // 0 Comments

جو لوگ فلسطینی دھڑوں کا اتحاد چاہتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ گزری ہوئی باتوں کو بھول کر مستقبل پر نظر رکھی جائے، ان کے دل خوشی سے جھوم رہے ہیں۔ ۲؍اپریل کو حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ خالد مشعل نے دوسری بار تنظیم کا سربراہ ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ حماس (جو غزہ کی پٹی پر حکمران ہے) اور مغربی کنارے پر متصرف الفتح گروپ کے درمیان امن معاہدے کے لیے کوشاں رہے ہیں۔ جب خالد مشعل کے دوبارہ انتخاب کے حوالے سے پولنگ ہو رہی تھی تب اسرائیل کی سخت نگرانی میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے شہروں کا نظم و نسق چلانے والی فلسطینی اتھارٹی کے ٹیکنوکریٹ وزیر اعظم سلام فیاض کے پیٹ میں مروڑ اٹھا اور انہیں [مزید پڑھیے]

غزہ کے حالات معمول پر آ سکیں گے؟

July 1, 2012 // 0 Comments

غزہ کا پانچ سالہ محاصرہ تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ لڑائی ختم ہوچکی ہے۔ بمباری کا اب نشان نہیں۔ یہ بجائے خود خوشی کا موقع ہے۔ مگر حماس کے حلقوں میں دور دور تک حقیقی مسرت کے آثار نہیں۔ حماس نے ۱۴؍جون کو ملٹری ٹیک اوور کی سالگرہ منانا بھی گوارا نہ کیا۔ غزہ شہر کی انتظامیہ معاملات درست کرنے میں مصروف ہے۔ داخلی سلامتی کو بہتر بنانے پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ انتظامی امور کو بہتر انداز سے انجام تک پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مصر سے تجارتی روابط بڑھائے جارہے ہیں تاکہ مشکلات کم ہوں اور معیشت رواں ہوں۔ ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ حماس اب سیاسی سمت کے اعتبار سے مخمصے میں ہے۔ چند ماہ کے دوران حماس نے الفتح [مزید پڑھیے]

فلسطینی دھڑوں میں اتحاد ہوسکتا ہے؟

December 16, 2011 // 0 Comments

فلسطینی دھڑوں میں صلح کی بات چیت ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہوسکے گا؟ اگر سب کچھ درست چلتا رہا تو بہت جلد فلسطین کو، کم از کم دستاویز اور نظریے کی حد تک، دو بلاکس کی شکل میں متحد ہو جانا چاہیے۔ غزہ کی پٹی پر اسلامی تحریک حماس کی حکمرانی ہوگی اور غرب اردن پر فلسطینیوں کی سیکولر قومی تحریک فتح کا تصرف ہوگا۔ حماس کے سربراہ خالد مشعل اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے ۲۴ نومبر کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد مئی میں انجام پانے والے ایک معاہدے کے تحت عبوری حکومت کے قیام کے معاملے کو حتمی شکل دینا، انتخابات کی تاریخ [مزید پڑھیے]

اُمید کا دامن تھام رکھا ہے!

January 16, 2011 // 0 Comments

سابق اسرائیلی وزیر اعظم بن گوریان نے ۱۹۴۸ء میں ملک کے قیام کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ اب فلسطینی اتھارٹی کے وزیراعظم سلام فیاض وہی کردار کر رہے ہیں۔ وہ فلسطینی ریاست کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹام سیگیو: آپ آج بھی فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اب ڈیڈ لائن کے مطابق صرف نو ماہ رہ گئے ہیں۔ کیا تب تک ریاست معرض وجود میں آ جائے گی؟ سلام فیاض: میں پوری کوشش کر رہا ہوں کہ ریاست کے لیے مستحکم ادارے معرضِ وجود میں آ جائیں۔ ایک مضبوط ریاست کے لیے بہتر انفرا اسٹرکچر اور اعلیٰ درجے کی خدمات درکار ہوتی ہیں۔ ٹام سیگیو: کوئی خاص تاریخ بھی مقرر [مزید پڑھیے]

ارضِ مقدس کی تقسیم

January 1, 2011 // 0 Comments

اسرائیلی حکومت اور فلسطینی اتھارٹی کے حکام کے درمیان بات چیت تھم گئی ہے۔ ایسے میں اسرائیل میں نئے انتخابات کی باتیں ہو رہی ہیں جو ۲۰۱۱ء میں ہونے ہیں۔ ان انتخابات کا بنیادی نکتہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کا قیام ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بظاہر اپنی پارٹی پر غیر معمولی گرفت کے حامل دکھائی دیتے ہیں۔ ایہود بارک ۹ برسوں میں لیبر پارٹی کے پانچویں لیڈر ہیں۔ اور ان کی پوزیشن بھی بہت نازک ہے کیونکہ ۱۲۰ رکنی ایوان میں لیبر پارٹی کی نشستیں صرف ۱۳ رہ گئی ہیں۔ ایوشے بریورمین ممکنہ طور پر لیبر پارٹی کے لیڈر بن سکتے ہیں۔ وہ ماہر معاشیات ہیں اور بنیامین نیتن یاہو کی کابینہ میں اقلیتی امور کے وزیر کی حیثیت سے خدمات [مزید پڑھیے]