Abd Add
 

فلسطینی عوام

حماس کو عوام کا اعتماد حاصل ہے!

February 1, 2011 // 0 Comments

پروفیسر محمد شمعہ المعروف ابو الحسن اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے بانی ارکان میں سے ہیں۔ آجکل وہ غزہ میں دارِارقم اسکول سسٹم کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر ہیں۔ حماس کے قیام کے بعد اس کے تیئس سالہ تنظیمی سفر اور تنظیم کی کامیابیوں اور اہداف پر ان کی گہری نظر رہی ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین نے حماس کے تیئسویں یوم تاسیس کے موقع پر ان سے تنظیم کے اوائل دور کے بارے میں خصوصی گفتگو کی۔ الشیخ محمد الشمعہ نے کہا کہ حماس کے یوم تاسیس کے موقع پر غزہ کی پٹی میں عوام کے جم غفیر نے ثابت کیا ہے کہ تنظیم تمام تر مشکلات کے باوجود عوام کے دلوں میں اپنا مقام پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ یہ اس امر کی [مزید پڑھیے]

اسرائیلی سرحدوںمیں تبدیلی کی خواہش

January 16, 2011 // 0 Comments

اسرائیل کے وزیر خارجہ اَیوِگ دَور لِی بَرمَین اس وقت ملک کے مقبول ترین سیاست دان ہیں۔ انہوں نے ملک کی سرحدوں میں تبدیلی کی خواہش ظاہر کی ہے کہ تاکہ ملک کی عرب آبادی میں سے نصف سے گلوخلاصی ممکن ہو۔ زیر نظر انٹرویو سے اندازہ ہوگا کہ لی بَرمَین کیا سوچ رہے ہیں۔ ڈین ایفرون: آپ ’’زمین کے بدلے امن‘‘ کے فلسفے پر زیادہ یقین نہیں رکھتے۔ اَیوِگ دَور لی بَرمَین: ہم نے ۱۹۹۳ء میں اوسلو مذاکرات کے ذریعے امن عمل شروع کیا تھا۔ اور اب تک تعطل برقرار ہے ہم اس کی زَد میں ہیں۔ زمین کے بدلے امن کا نظریہ درست نہیں۔ بہتر ہے کہ علاقوں اور آبادیوں کا تبادلہ کیا جائے۔ ڈین ایفرون: کیا آپ کے تصورات کو وزیر اعظم [مزید پڑھیے]

غزہ ناکہ بندی: حماس کو بلیک میل نہیں کیا جاسکتا!

August 16, 2010 // 0 Comments

فلسطینی تنظیم ’حماس‘ کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے اردن کے ایک کثیر الاشاعت روزنامہ ’السبیل‘ کو دیے گئے اپنے ایک خاص انٹرویو میں غزہ کی معاشی ناکہ بندی سمیت مسئلہ فلسطین اور اس سے متعلق ملکی و بین الاقوامی پالیسی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اس کی تلخیص یہاں پیش کی جارہی ہے۔ س: آپ کیا سمجھتے ہیں کہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی کے ختم ہونے میں مزید کتنے دن لگیں گے؟ اور معاشی ناکہ بندی کو ختم کرنے سے متعلق فلسطین کی سطح پر ہونے والی کوششیں کیا کافی ہیں؟ ج: یہ بات میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، تاہم ناکہ بندی کو [مزید پڑھیے]

قومی اہداف کیلئے فلسطینیوں کا سیاسی اشتراکِ عمل ضروری ہے

May 16, 2009 // 0 Comments

جنوری ۲۰۰۶ء میں پورے فلسطین میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا تو حماس اکثریتی پارلیمانی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔ حماس نے وزارتِ عظمیٰ کے لیے اسمٰعیل ھنیہ کو نامزد کیا۔ انہیں فلسطین کی منتخب قومی حکومت کی قیادت کرنے کا اعزاز ملا۔ لیکن فلسطینیوں کا اپنے معاملات چلانے کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھنا اور تحریک مزاحمت جاری رکھنے کے لیے کوشاں رہنا پہلے اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کو گوارا نہ تھا۔ بعد ازاں اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کا یہ جادو صدر محمود عباس اور ان کی جماعت پر بھی چل گیا اور منتخب قومی فلسطینی حکومت کو توڑنے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ یہ کوششیں فلسطینی اتھارٹی نے اپنے تئیں آسانی سے کامیاب بنائیں البتہ غزہ میں آج بھی [مزید پڑھیے]

الفتح اسرائیل کا ساتھ نہ دے

December 16, 2007 // 0 Comments

منیٰ منصور مغربی کنارے سے فلسطینی قانون ساز اسمبلی کی رکن ہیں۔ وہ حماس کے شہید رہنما جمال منصور کی بیوہ ہیں۔ جمال منصور کو چھ سال قبل اسرائیلی حکومت نے شہید کر دیا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی کی مخالفانہ پالیسیوں اور اسرائیلی دبائو کے باوجود منی منصور نے اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹائے ۔ وہ حماس کے ان بیسیوں ارکان پارلیمنٹ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کوشاں ہیں جنہیں اسرائیلی نے جیلوں میں ڈالا ہواہے وہ فلسطینی عوام میں سر گرم عمل ہیں۔ مرکز اطلاعات فلسطین نے اسرائیلی اور فلسطینی سیکورٹی فورسز کی ہم آہنگی سے مسئلہ فلسطین اور فلسطینی قومی وحدت کو پہنچے والے نقصانات اور حماس کی حکومت کے خلاف کی جانے والی مشترکہ اسرائیل امریکی فلسطینی سازشوں کے حوالے سے [مزید پڑھیے]