Abd Add
 

نائن الیون کے بعد

امریکی مسلمان مایوس نہیں!

December 1, 2011 // 0 Comments

نائن الیون کے بعد کی صورت حال نے امریکا بھر میں مسلمانوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کیں۔ انہیں قدم قدم پر دل برداشتہ کرنے والے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے امتیازی سلوک برداشت کیا اور اس کے خلاف آواز بھی اٹھائی۔ ایک بات خاصی خوش آئند ہے، یہ کہ امریکی میڈیا بھی اب اس بات کو تسلیم کر رہا ہے کہ حالات کی خرابی کے باوجود امریکی مسلمان دیگر مذہبی گروپوں کے مقابلے میں زیادہ پرامید ہیں۔ نائن الیون کے دس سال مکمل ہونے کی مناسبت سے ایک سروے کا اہتمام کیا گیا تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے شروع کیے جانے سے اب تک کا زمانہ مسلمانوں پر کیسا گزرا ہے، وہ اس حوالے سے کیا [مزید پڑھیے]

کسی بھی قیمت پر!

October 16, 2011 // 0 Comments

پاک آرمی کی گیارہویں کور (پشاور) کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آصف یاسین ملک سے ’’نیوز ویک‘‘ کے نذر الاسلام نے راولپنڈی میں انٹرویو کیا جو ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ ٭ ریاست ہائے متحدہ امریکا کی سربراہی میں لڑی جانے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کا کیا کردار ہے؟ آصف یاسین ملک: پاکستانی فوج اور نیم فوجی ادارے دہشت گردی کے خلاف طویل مدت سے لڑ رہے ہیں۔ یہ لڑائی ۱۱ ستمبر ۲۰۱۱ء سے بھی پہلے سے جاری ہے۔ نائن الیون کے بعد تو ہمیں بس حالات کے مطابق خود کو بدلنا تھا۔ پہلے ہم جنگ کے روایتی طریقوں کو اپنائے ہوئے تھے۔ اب ہم کہیں بھی قانون نافذ کرنے سے متعلق کارروائی کی اہلیت رکھتے ہیں۔ [مزید پڑھیے]

امریکا کو محفوظ رکھنے کی لاگت

October 1, 2011 // 0 Comments

القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن نے ایک بار کہا تھا کہ وہ ایک امریکا کو دیوالیہ کرکے دم لیں گے۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ ایسا ہی ہو رہے گا! دس برسوں کے دوران امریکی خفیہ اداروں اور افواج نے دہشت گردی کی درجنوں کوششیں اور منصوبے ناکام بنائے ہیں۔ اس ’’حسن کارکردگی‘‘ کی قیمت پوری امریکی قوم کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر جو کچھ کیا جارہا ہے اس کے نتیجے میں امریکیوں کو اپنی محنت کی کمائی کا بڑا حصہ ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دہشت گردوں سے لڑنے اور امریکا کو ہر حال میں محفوظ رکھنے کی قیمت کیا ہے؟ آئیے، اعداد و شمار کی شکل میں اِس [مزید پڑھیے]

القاعدہ نے حکمت عملی تبدیل کرلی!

October 16, 2010 // 0 Comments

ایک بار پھر القاعدہ خبروں میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ القاعدہ خبروں میں کب نہیں تھی؟ نائن الیون کے بعد سے القاعدہ متواتر خبروں میں رہی ہے۔ اور اس کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ مغربی میڈیا سے القاعدہ کا بھوت اترتا ہی نہیں۔ کیا واقعی القاعدہ اتنا بڑا خطرہ ہے کہ اس کا راگ ہر وقت الاپا جائے؟ یہ سوال بحث طلب ہے۔ القاعدہ کے نام پر مغربی حکومتوں نے سیکورٹی کے اقدامات کی مد میں بڑے بجٹ اِدھر سے اْدھر کردیے ہیں۔ اور اب تک کیے جارہی ہیں۔ حال ہی میں القاعدہ کی جانب سے دی جانے والی حملوں کی دھمکیوں نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں ہائی الرٹ کی کیفیت پیدا کی ہے اور متعلقہ حکومتیں سیکورٹی بڑھانے پر مجبور [مزید پڑھیے]

امریکا میں سیکورٹی فوبیا کی کرشمہ سازی

October 1, 2004 // 0 Comments

بہت سارے والدین نے اپنے بچوں کو امریکا میں تعلیم حاصل کرنے سے منع کر دیا ہے‘ اُس خوف اور نفرت کے پیشِ نظر جو گیارہ ستمبر کے بعد سے وہاں سایہ کیے ہوئے ہیں۔ سمیرہ درانی جنہوں نے حال ہی میں یونیورسٹی آف ٹورانٹو میں داخلہ لیا ہے کہتی ہیں کہ کینیڈا میں تعلیم کبھی بھی میری پہلی پسند نہیں تھی لیکن میرے والدین نے مجھے امریکا میں Apply کرنے سے منع کر دیا تھا۔ بہت سارے پاکستانی جو امریکا میں پڑھتے ہیں‘ گیارہ ستمبر کے بعد سے پیش آنے والے آئے دن ناخوشگوار واقعات کے قصے سنتے رہے تھے لیکن کم از کم کالج کی حد تک انہوں نے کبھی خود کسی ناخوشگوار واقعات کا کوئی تجربہ نہیں کیا تھا۔ ’’ابتدا میں یہ [مزید پڑھیے]

1 2