Abd Add
 

واشنگٹن

چین بالادستی کا خواہاں نہیں!

August 16, 2005 // 0 Comments

جس تیزی سے چین کی اقتصادی اور فوجی قوت میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے‘ اُس کے پیشِ نظر عالمی سیاست کے اسٹیج پر اس کے کردار میں توسیع پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ شمالی کوریا نے جب گذشتہ ہفتے یہ اشارہ دیا کہ وہ اس شش فریقی مذاکرات میں واپس آسکتا ہے جو اس کے جوہری پروگرام پر منعقد کیے جانے ہیں۔ پھر امریکی صدر جارج بش اور جنوبی کوریا کے صدر روہمو ہیون (Rohmoo-Hyun) کا واشنگٹن میں پیانگ یانگ کو اسے ایسا کرنے کی تاکید کرنا یہ واضح کرتا ہے کہ شمالی کوریا ایسا کرنے کے لیے بغیر چین کے دبائو کے ہرگز تیار نہیں ہو سکتا ہے جو کہ شمالی کوریا و جنوبی کوریا کا بہت ہی اہم تجارتی شریک [مزید پڑھیے]

میں ’’عالمی یک طرفہ پن‘‘ کا حامی نہیں ہوں!

April 16, 2005 // 0 Comments

گذشتہ ہفتے عالمی بینک کے سربراہ کے لیے اپنی نامزدگی کے ساتھ ہی Paul Wolfowitz (امریکی نائب وزیرِ دفاع) نے بیرونی تشویش و عدم اعتماد کو اپنے واضح بیان کے ذریعہ دور کرنے کی کوشش کی۔ نیوز ویک کے نمائندے لیلی ویمائوتھ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں انہوں نے امکانات سے بھرپور اپنی نئی ذمہ داری کے سلسلے میں اظہارِ خیال کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکا کی عراق پالیسی تشکیل دینے کے حوالے سے اپنے ماضی اور حال کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انٹرویو کا اقتباس درج ذیل ہے: س: عالمی بینک کے ایک اچھے سربراہ ثابت ہونے سے متعلق آپ یورپی ممالک کو کس طرح مطمئن کریں گے؟ ج: میں یورپی ممالک کو یہ بتائوں گا کہ میں کیوں ایک [مزید پڑھیے]

دنیا میں اس وقت ۱۲۰۰۰ جوہری ہتھیار موجود ہیں!

March 1, 2005 // 0 Comments

اسلحوں سے متعلق ایک امریکی تحقیقی ادارہ کے مطابق دنیا میں اس وقت ۱۲۰۰۰ سے زائد جوہری اسلحے ہیں۔ ان میں سے ۳۰۰۰ اسلحوں کے علاوہ یہ تمام اسلحے تسلیم شدہ جوہری قوتوں کے پاس ہیں۔ واشنگٹن کے آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے اندازہ کے مطابق ۶۰۰۰ امریکا کے پاس‘ ۵۰۰۰ روس کے پاس‘ ۳۵۰ فرانس کے پاس‘ ۳۰۰ چین کے پاس اور ۲۲۰ سے کچھ کم برطانیہ کے پاس ہیں۔ یہ پانچوں ممالک ۱۹۶۸ء میں جوہری عدم توسیع کے معاہدے (NPT) کے تحت جوہری قوت تسلیم کیے گئے تھے۔ امریکا نے ۱۹۴۵ء میں ہی جوہری صلاحیت حاصل کر لی تھی جبکہ روس نے ۱۹۴۹ء میں‘ برطانیہ نے ۱۹۵۰ء میں‘ فرانس نے ۱۹۶۰ میں اور چین نے ۱۹۶۴ء میں حاصل کی تھی۔ امریکا کے بارے [مزید پڑھیے]

1 2