Abd Add
 

پاکستان

گڑھے کو تکتے رہیے۔۔۔

February 1, 2011 // 0 Comments

پاکستان میں لبرل ازم کے لیے پنپنے کی گنجائش ویسے ہی کم ہے اور ایسے میں پنجاب کے گورنر اور ملک میں مذہبی انتہا پسندی کے ایک کٹر مخالف سلمان تاثیر کا قتل لبرل عناصر کے لیے مشکلات میں اضافے کا نقیب ہے۔ لبرل سوچ رکھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے بھی یہ قتل پریشان کن ہے۔ ۲؍ جنوری کو حکومت کے لیے شدید مشکلات پیدا ہوئیں جب متحدہ قومی موومنٹ نے حکومت کو دی جانے والی حمایت واپس لے لی۔ سلمان تاثیر کے قتل نے تین سال قبل رونما ہونے والے بے نظیر بھٹو کے قتل کی یاد بھی تازہ کردی۔ پاکستان شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ اسلامی شدت پسندی عروج پر ہے۔ ایسے میں اگر حکومت کمزور ہو تو ان دونوں [مزید پڑھیے]

پاکستان ’’ناکام ریاست‘‘ نہیں ہے!

January 16, 2011 // 0 Comments

پیٹرک کوک برن نے برطانوی اخبار انڈی پینڈنٹ میں لکھا ہے: ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان بہت مشکل حالات اور خرابی سے دوچار ہے۔ مگر مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ملک ڈوبنے والا ہے یا بم کی طرح پھٹ پڑے گا بلکہ یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے رونما ہونے والے بحران کوئی انقلابی لہر پیدا نہیں کرتے۔ فوجی حکمرانوں اور کمزور سیاست دانوں کے درمیان میری گو راؤنڈ کی طرز کا کھیل ہو رہا ہے۔ جب سویلین حکومت کمزور پڑتی ہے تو فوجی حکمران آ جاتے ہیں۔ طاقت اب تک انگریزی بولنے والی اشرافیہ کے ہاتھ میں ہے جو خود کو ملک کے باقی لوگوں سے واضح طور پر برتر تصور کرتی ہے۔‘‘ (بشکریہ: ’’ٹائم‘‘۔ ۲۵؍ اکتوبر ۲۰۱۰ء)

پاکستان میں ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کا استعمال

January 16, 2011 // 0 Comments

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ۱ء۱۱ ملین (ایک کروڑ گیارہ لاکھ) افراد اے ٹی ایم، ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ استعمال کرتے ہیں۔ یہ تعداد ۲۰۰۹ء میں ۳ء۹ ملین (۹۳ لاکھ) تھی۔ (بحوالہ ’’نیوزویک پاکستان‘‘۔ ۱۰ جنوری ۲۰۱۱ء)

ملک میں تعلیمی مراکز کی کل تعداد

February 1, 2007 // 0 Comments

نیشنل ایجوکیشن سینسس (NEC-2005) کے مطابق پاکستان میں تعلیم کے زمرے میں آنے والے تمام اداروں کی تعداد ۲۴۵۶۸۲ ہے۔ ان اداروں میں ۱۶۴۵۷۹ (۶۷%) کا تعلق پبلک سیکٹر سے ہے جبکہ ۸۱۱۰۳ (۳۳%) کا تعلق پرائیویٹ سیکٹر سے ہے۔ سروے جس کا اہتمام وزارتِ تعلیم، اکیڈمی آف ایجوکیسنل پلاننگ اینڈ مینجمنٹ (AEPAM) اور فیڈرل بیورو آف اسٹیٹسٹکس (FBS) نے مل کر کیا تھا

1 4 5 6 7 8