Abd Add
 

پاکستان

پاکستان میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان

March 1, 2005 // 0 Comments

گزشتہ سال کے دوران اخبارات کے مطابق ملک بھر کے طول و عرض سے خودکشی کے ۲۵۰۷ واقعات درج ہوئے۔ خودکشی کے ان اعداد و شمار کے علاوہ ۱۶۳۴ افراد نے ملک کے مختلف علاقوں میں خودکشی کی کوشش کی‘ اس طرح ۴۱۴۱ افراد نے مجموعی طور پر خودکشی جیسا غیرانسانی اور مذہبی اقدار کے منافی عمل اختیار کرتے ہوئے انسانی جانیں ضائع کیں۔ پاکستان میں خودکشی آہستہ آہستہ مجموعی قومی صحت کا مسئلہ بنتی جارہی ہے کیونکہ ملک کے نوجوانوں میں معاشرتی و معاشی عوامل مثلاً غربت‘ بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی کا رجحان پروان چڑھ رہا ہے۔ براعظم ایشیا اور بالخصوص جنوبی ایشیا میں معاشرتی تبدیلیوں‘ غیرمستحکم معاشی نظام‘ ڈپریشن یا ذہنی دبائو‘ منشیات کا استعمال اور کمزور خاندانی رویے خودکشی کے [مزید پڑھیے]

امریکا پاکستان میں جمہوری نظام کا حامی ہے‘ نینسی پاول

December 16, 2004 // 0 Comments

حال ہی میں سبکدوش ہونے والی امریکی سفیر نینسی پاول نے کہا ہے کہ صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر بش جیتیں یا ڈیمو کریٹ امیدوار سینیٹر جان کیری‘ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔ امریکا کی دونوں جماعتیں ری پبلیکن اور ڈیمو کریٹ پاکستان کی امداد اور تعلقات جاری رکھنے پر متفق ہیں۔ نینسی پاول نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر پاکستان کے سینئر صحافیوں سے ایک ملاقات میں کیا۔ امریکی سفیر نے کہا کہ پاکستان کو نان نیٹو اتحادی کا درجہ دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکا کے ساتھ مل کر حصہ لیا ہے اس لیے [مزید پڑھیے]

پاکستان میں کوئی غیرملکی جنگجو موجود نہیں!

October 16, 2004 // 0 Comments

جب انٹیلی جینس ایجنسیز نے ایک دہشت گردانہ سازش کے انکشاف کا دعوی کیا جس کا مقصد اسلام آباد اور اس کی اطراف میں واقع متعدد حکومتی تنصیبات کو تباہ کرنا تھا تو پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے کوہاٹ سے رکن قومی اسمبلی جاوید احمد پراچہ کا نام اس موقع پر اہم کردار کے طور پر سامنے آیا۔ پراچہ کوہاٹ میں اسی وقت سے گرفتار ہیں۔ ان پر یہ الزام ہے کہ ۲۰۰۱ء میں جب امریکا نے تورا بورا پہاڑی کا محاصرہ کیا تو وہاں سے فرار ہو کر سرحد آنے والے متعدد عرب و دیگر جنگجوئوں کا پراچہ نے دفاع کیا تھا۔ پراچہ نے ۱۹۷۷ء میں سیاست میں قدم رکھا تھا۔ ان کی سیاسی زندگی کا بیشتر دورانیہ غیرنمایاں رہا ہے۔ ان کے غیرمعروف [مزید پڑھیے]

1 6 7 8