Abd Add
 

پروفیسر غلام اعظم

پروفیسر غلام اعظم کا بنگلا دیش کی جیل سے پیغام

November 1, 2014 // 0 Comments

بنگلا دیش اس وقت شدید بحران سے گزر رہاہے۔ قوم کے جو اہم مسائل ہیں، اگر ان پر اتفاق واتحاد نہ ہو تو قوم کی ترقی ناممکن ہوتی ہے۔ اس لیے میں تمام پارٹیوں اور تمام گروہوں کو یہ کہنا ضروری سمجھتاہوں کہ سب مل کر بنگلا دیش کو ان بحرانوں سے نکالنے کی کوشش کریں۔ بحران کے اس دور میں انتشار نہیں، اتحاد چاہیے۔ اگر ہم صحیح معنوں میں کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں پیچھے مڑکر دیکھنے کے بجائے آگے کی طرف دیکھنا اور بڑھنا چاہیے

غلام اعظم کے خلاف غیرانسانی کارروائی

May 1, 2012 // 0 Comments

اگر مقدمے کی کارروائی خامیوں سے پُر ہو تو انصاف کا خون ہوتا ہے اور اگر مقدمہ مذموم مقاصد کی بنیاد پر کھڑا ہو تو ناانصافی پر منتج ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سابق امیر پروفیسر غلام اعظم کے ساتھ نا انصافی کی حد یہ ہے کہ انہیں ۹۰ سال کی عمر میں جنوری میں گرفتار کیا گیا اور اب تک قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان پر ۱۹۷۱ء میں بنگلہ دیش کے قیام کی جنگ کے دوران انسانیت سوز مظالم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جو سراسر بے بنیاد ہیں۔ جنگی جرائم کے ایک ایسے ٹربیونل میں ان کے خلاف کارروائی کی جانے والی ہے جس کی قانونی حیثیت پر ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق [مزید پڑھیے]

جنگی مقدمات اور گرفتاریاں اسلامی لہر کو روکنے کے لیے ہیں!

March 16, 2012 // 0 Comments

بنگلہ دیش کے معروف نشریاتی ادارے ’’اے ٹی این نیوز‘‘ نے سابق امیر، بنگلہ دیش جماعت اسلامی، پروفیسر غلام اعظم کا تفصیلی انٹرویو ۱۲؍دسمبر ۲۰۱۱ء کو پیش کیا۔ گرفتاری سے قبل ’’اے ٹی این نیوز‘‘ نے انٹرویو کو بنگلہ اور انگریزی زبان میں اپنی ویب سائٹ میں شامل کیا۔ جسے مسئلہ کی پیچیدہ نوعیت اور بیگم حسینہ واجد حکومت کے ارادوں سے آگاہی کے لیے قارئینِ ’’معارف فیچر‘‘ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

پروفیسر غلام اعظم کی ضمانت پر رہائی سے عدالت کا انکار

March 1, 2012 // 0 Comments

بنگلہ دیش میں قائم انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سابق امیر پروفیسر غلام اعظم کی درخواست ضمانت دوسری مرتبہ مسترد کردی ہے۔ ٹریبونل کے سربراہ جسٹس نظام الحق نے ریمارکس میں کہا کہ ایسی کوئی بھی شہادت سامنے نہیں آئی جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ (۸۹ سالہ) پروفیسر غلام اعظم کی صحت خرابی کی طرف رواں ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کسی کا ۸۹ سال کا ہونا، بالخصوص الزامات کی سنگین نوعیت دیکھتے ہوئے، ضمانت کے لیے ضروری بنیاد فراہم نہیں کرتا۔ ٹریبونل کا یہ بھی کہنا ہے کہ پروفیسر غلام اعظم کو ۱۱ جنوری ۲۰۱۲ء کو حراست میں لیا گیا تھا۔ یعنی ابھی حراست کی مدت اتنی طویل نہیں ہوئی کہ ضمانت پر رہائی پر [مزید پڑھیے]