Abd Add
 

پرویز مشرف

امریکی ’’بلینک چیک‘‘ کسی بھی وقت منسوخ ہوسکتا ہے!

November 16, 2010 // 0 Comments

پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے بہت سی اور متضاد باتیں کہی جارہی ہیں۔ سرکاری سطح پر دعویٰ کیا جارہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات جتنے اچھے اس وقت ہیں ، کبھی نہیں رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک محض خوشگوار تعلقات کا ڈھونگ رچا رہے ہیں۔ اگر سطح سے ذرا بھی نیچے جاکر دیکھا جائے تو تعلقات کی نوعیت سب پر بے نقاب ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں جو سیاست دان خود کو جمہوریت کا سب سے بڑا علم بردار قرار دیتے ہیں ان کا یہ حال ہے کہ کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہیں۔ ان کی لائی ہوئی جمہوریت بہت سے نئے سیاست دانوں کے لیے ذرا بھی قابل قبول دکھائی نہیں دیتی۔ ناقدین کہتے ہیں کہ پاکستان پر [مزید پڑھیے]

کیا فوج سیاست کو الوداع کہہ رہی ہے؟

April 1, 2008 // 0 Comments

عام پاکستانی اس لیے بہت خوش ہیں کیونکہ ۱۹۸۸ء کے بعد انھیں پہلی بار حکومت اور اس کی پارٹی کے خلاف ووٹ ڈالنے کا موقع ملا ہے جو جی ایچ کیو کے سہارے بوٹوں کی دھمک کے ساتھ ایوانِ اقتدار میں داخل ہو گئے تھے۔ پاکستانیوں کو ایسا موقع شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔ عام طور سے ہوتا یہ ہے کہ حکومتیں ووٹوں کے ذریعے تشکیل پاتی ہیں لیکن انھیں بوٹوں کی ٹھوکروں سے باہر کر دیا جاتا ہے۔ اس بار نسبتاً آزاد اور منصفانہ انتخابات ہوئے ہیں، اس لیے کہ فوج پیچھے ہٹ گئی اور سیاسی قوتوں کو معمول سے زیادہ کردار ادا کرنے کی اجازت دے دی۔ بہرحال اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فوج اپنے کردار کی ازسرِ نو شیرازہ [مزید پڑھیے]

جنرل پرویز مشرف کا ’’ امریکن جیوش کانگریس‘‘ سے خطاب

October 1, 2005 // 0 Comments

صدر جنرل پرویز مشرف نے فلسطینیوں کی خواہشات کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اس دیرینہ تنازعے کے خاتمہ کیلئے جرات کا مظاہرہ کرے۔فلسطین میں امن سے مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں المناک باب بند ہوگا۔ دہشت گردی کے بنیادی اسباب کو نظر انداز کرنا حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان سوچی سمجھی اور جامع الگ الگ حکمت عملی کے ذریعہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹ رہا ہے۔ ہم نے دہشت گرد اور انتہاپسند عناصر پر مکمل غلبہ پانے تک اس کوشش کو جاری و ساری رکھنے کا عزم کر رکھا ہے۔ انہوں [مزید پڑھیے]

گیس پائپ لائن۔۔۔ پاکستان پر امریکا کا دباؤ

June 16, 2005 // 0 Comments

پاکستان کے راستے ایرانی گیس پائپ لائن کی ہندوستان تک رسائی کے پروجیکٹ پر ہندوستان اور ایران کے درمیان مذاکرات کی شروعات ہی میں پاکستان نے اپنی طرف سے اس پروجیکٹ میں تعاون کرنے کی رضاکارانہ پیشکش کی تھی اور جنرل مشرف نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اس پروجیکٹ میں پاکستان کی شمولیت کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہو سکے گی۔ اس وقت تک امریکا کو شاید اس پروجیکٹ کی اہمیت اور اس کے اس علاقہ کی اقتصادیات اور حقیقی ترقی پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ نہیں تھا۔ لیکن اب جبکہ امریکا کو پتا چل چکا ہے کہ اس پروجیکٹ کی وجہ سے اس خطہ کی توانائی کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہو جائے گا۔ پاکستان اور چین کو بھی [مزید پڑھیے]

1 2