Abd Add
 

پناہ گزین

افغان باشندے ملک کے مستقبل سے نا اُمید

December 16, 2010 // 0 Comments

افغانستان کے باشندوں میں وطن کے مستقبل کے حوالے سے مایوسی کا گراف بلند ہوتا جارہا ہے۔ دو سال کے دوران بیرونِ ملک سیاسی پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کی تعداد میں تیزی سے نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تعلیم یافتہ اور بظاہر خوش حال زندگی بسر کرنے والے افغان بھی بیرونِ ملک قیام کو ترجیح دے رہے ہیں۔ افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ بیرونِ ملک تعلیم اور روزگار کے مواقع تلاش کرنے والے افغانوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ دنیا بھر میں سیاسی پناہ کے خواہش مند افراد میں سب سے زیادہ تعداد افغانوں کی ہے۔ صومالیہ اور عراق جیسے تباہ حال ممالک کے لوگ بھی اپنے ملک سے اس حد تک مایوس نہیں جس قدر افغان [مزید پڑھیے]

بوسنیا سے وابستہ وحشتناک یادیں

September 1, 2005 // 0 Comments

نورا السفیک اور اسکی بالغ بیٹی مقبولا (Magbula) Tuzla میں واقع اپنے گھر سے سربرانیکا مہینے میں دو بار بذریعہ بس بوسنیا کے پہاڑیوں میں واقع معدنیات سے مالا مال شہر کو جاتی ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں نازی موت کے کیمپوں کے بعد یورپ کا بدترین قتلِ عام دیکھنے میں آیا تھا۔ ۱۱ جولائی ۱۹۹۵ء کو سربیائی فوجیں جن کی قیادت جنرل راٹکو ملادک (Ratko Mladic) کر رہے تھے‘ نے سربرانیکا میں کم و بیش ۷۸۰۰ مسلمان مردوں اور بچوں کو قید کر کے ذبح کر دیا۔ انہی کی طرح اور بھی بہت ساری عورتیں۔ بیوہ‘ یتیم اور بھائیوں سے محروم ہو گئیں۔ وہ قصبہ جہاں صرف ۳۵۰۰ مکین رہتے ہیں‘ وہاں روزانہ چار بسیں Tuzla اور سراجیو کے لیے چلتی ہیں‘ جو [مزید پڑھیے]