Abd Add
 

کراچی

کراچی حالتِ جنگ میں!

June 1, 2012 // 0 Comments

دنیا کے کسی بھی بڑے شہر میں اور بالخصوص ان شہروں میں جو تجارتی اعتبار سے بہت بلند ہیں، آپ کو شہری بھاری ہتھیاروں سے مسلح ہوکر پولیس پر حملے کرتے دکھائی نہیں دیں گے۔ مگر خیر، کراچی کوئی معمولی شہر نہیں۔ گزشتہ ماہ کراچی کے علاقے لیاری میں ایک مضبوط گینگ اور پولیس کے درمیان سخت مقابلہ ہوا اور بظاہر پولیس نے شکست تسلیم کرتے ہوئے لڑائی ختم کی۔ ایک بکتر بند کے ٹائر لوگوں نے گولیاں مار کر چھلنی کردیے اور اس میں بیٹھے ہوئے ایک پولیس افسر کو ہلاک کر ڈالا۔ لیاری میں سات سالہ بچی سمیت ۳۱ شہری اور ۵ پولیس اہلکار مارے گئے۔ بیشتر ہلاک شدگان وہ تھے جو فائرنگ کی زد میں آکر موت کا لقمہ بنے۔ لیاری کی [مزید پڑھیے]

کراچی: آلودگی‘ مہنگائی اور منشیات کی زد میں!

June 1, 2005 // 0 Comments

ماحولیات ماحولیاتی آلودگی ویسے تو اب ایک عالمگیر مسئلہ بن چکا ہے جس سے دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح ہمارا ملک بھی متاثر ہو رہا ہے۔ ملک کا سب سے بڑا شہر اور صنعتی و تجارتی مرکز ہونے کے باعث کراچی کا ماحولیاتی آلودگی سے متاثر ہونا ایک یقینی امر ہے جس کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ اس شہر کو صحت و صفائی کا قابلِ اعتماد نظام اب تک میسر نہیں آسکا ہے۔ گاڑیوں کا دھواں‘ ٹریفک کا شور‘ نکاسیٔ آب کے نظام کی خرابی کے باعث اکثر علاقوں میں گٹروں کا آئے دن ابلنا اور گلیوں اور سڑکوں میں جمع شدہ پانی نہ صرف پورے پورے علاقوں کے ماحول کو تعفن زدہ بنائے رکھتا ہے بلکہ اس سے مکھیوں اور مچھروں [مزید پڑھیے]

پاکستان میں ٹرک پینٹنگ آرٹ

May 1, 2005 // 0 Comments

کراچی کا ایک ٹرک پینٹر ۲۲ سالہ حیدر علی ایک گھنے سایہ دار برگد کے نیچے اپنی ایک تازہ تخلیق (پینٹنگ) کو آخری شکل دے رہا تھا‘ جس میں ہرکولَس کے ذریعہ ایک شیر کو قابو کرتے دکھایا گیا تھا۔ اس پینٹنگ میں لال‘ پیلے‘ نیلے‘ ہرے‘ شوخ اور چمکتے رنگوں کا بے دریغ استعمال تھا۔ ان کا دس سالہ بھتیجا فرید خالد تاج محل کی پینٹنگ کے لیے آگے کے اوپری حصے پر سفید رنگ پھیر رہا تھا تاکہ یہ حصہ ٹرک میں تاج کی مانند معلوم ہو۔ حیدر علی کے والد کی مانند جنہوں نے ۸ سال کی عمر سے ہی اپنے بیٹے کو ہاتھ میں برش پکڑا دیا تھا‘ حیدر بھی اپنے بھتیجے فرید کے ساتھ استادی کی روایت جاری رکھے ہوئے [مزید پڑھیے]