Abd Add
 

ہندوستان

خود احتسابی کا عمل دیانتداری سے انجام دیں

July 1, 2005 // 0 Comments

ڈاکٹر محمد رفعت ہندوستان کے ایک ممتاز دانشور ہیں۔ اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (SIMI) کے صدر رہ چکے ہیں۔ آج کل بھارت کی مشہور و معروف یونیورسٹی جامعہ ملّیہ اسلامیہ دہلی میں علمِ طبیعیات کے پروفیسر ہیں۔ آپ نے فزکس میں ماسٹرز کی ڈگری علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھارت ہی کے ممتاز و نامور ادارے Indian Institute of Technology کانپور سے حاصل کی۔ ڈاکٹر محمد رفعت نے اسلامی طلبہ تنظیم میں فعال قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے بھی اپنے روشن تعلیمی کیریئر پر کبھی آنچ نہ آنے دی اور ہمیشہ امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوتے رہے۔ اس وقت آپ جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن اور دہلی و ہریانہ کی صوبائی جماعت کے امیر [مزید پڑھیے]

ہندوستان اور صیہونی حکومت کا بڑھتا ہوا تعاون

June 1, 2005 // 0 Comments

ہندوستان کی مخلوط حکومت میں شامل بائیں بازو کی جماعتوں اور رائے عامہ کی طرف سے صیہونی حکومت کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کی مخالفت کے باوجود صیہونی حکومت نے ہندوستان کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں کہ جس کے تحت وہ ہندوستان کی ریاست بہار میں گولہ بارود بنانے کے پانچ کارخانے قائم کرے گی۔ ہندوستان کی ’’نیکو‘‘ کمپنی نے ہندوستانی وزارتِ دفاع سے لائسنس حاصل کرنے کے بعد صیہونی حکومت کی پیٹ مین انجینئرنگ کمپنی سے یہ معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کی مالیت ایک سو چالیس ملین ڈالر ہے۔ کہا جارہا ہے کہ یہ کارخانے ویسے ہی ہوں گے جیسے صیہونی حکومت کی فوجی صنعتوں کے کارخانے ہیں‘ جو اسرائیلی فوج کی ضروریات اور برآمدات کو پورا کرتے ہیں۔ [مزید پڑھیے]

اسلامی تہذیب

February 1, 2005 // 0 Comments

یہاں ’’اسلامی تہذیب‘‘ کی منفرد امتیازی خصوصیات کے بارے میں منشی پریم چند کے ایک مضمون کی تلخیص پیش کی جارہی ہے جو ہفتہ وار ’’پرتاپ‘‘ کے دسمبر ۱۹۲۵ء کے شمارے میں چھپا تھا۔ منشی صاحب اردو اور ہندی کے بہت بڑے افسانہ نگار اور ناول نویس تھے۔ ابتدا میں وہ گاندھی جی کے نظریات کے زیرِ اثر بڑے کٹر ہندو پرست تھے اور اسلام کے خلاف مضامین لکھتے رہتے تھے۔ بعد میں جب اسلام اور رسولِ کریمﷺ کی حیاتِ طیبہ کا مطالعہ کیا تو اسلام دوست ہو گئے‘ جس کے ثبوت میں یہ مضمون بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔ یہ مضمون ہندی زبان میں ’’اسلامی سبھیتا‘‘ کے نام سے چھپا تھا۔ اب اس کا اردو ترجمہ محمد محی الدین خان صاحب نے کیا [مزید پڑھیے]

1 2 3