Abd Add
 

اکیسویں صدی

اکیسویں صدی کس کی ہے؟

July 1, 2011 // 0 Comments

دنیا دیکھ رہی ہے کہ تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتیں ایشیا سے تعلق رکھتی ہیں مگر اس کے باوجود مغرب اب تک اس خطے کے بنیادی خواص کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے اور اپنے ادراک کو درست کرنے پر توجہ بھی نہیں دے رہا۔ پیٹرک اسمتھ نے اپنی نئی کتاب ’’سمبڈی ایلسز سینچری: ایسٹ اینڈ ویسٹ اِن اے پوسٹ ویسٹرن ورلڈ‘‘ میں اِسی موضوع پر بحث کی ہے۔ زیر نظر ’’انٹرویو‘‘ اس کتاب کے اقتباسات کی مدد سے مرتب کیا گیا ہے۔ ٭ ایشیا کے بارے میں مغرب کے ادراک کے حوالے سے بنیادی پیچیدگی کیا ہے؟ پیٹرک اسمتھ: ہم مغرب کے لوگ مشرق کو سمجھنے کے معاملے میں خاصے ’’غیر معمولی‘‘ واقع ہوئے ہیں۔ ہم مشرق کو دیکھنے اور سمجھنے کے لیے اب [مزید پڑھیے]

’’چین اور عالم اسلام کا اتحاد‘‘ دنیا کا نقشہ بدل سکتا ہے!

December 16, 2010 // 0 Comments

گزشتہ صدی کی نویں دہائی میں ’’اکانومسٹ‘‘ میگزین نے ایک خصوصی سپلیمنٹ شائع کیا تھا، جس میں دنیا کی پالیسیوں اور بدلتے حالات کا گہرائی سے تجزیہ کرتے ہوئے پیش گوئی کی گئی تھی کہ اکیسویں صدی میں دنیا کا مستقبل کیا ہوگا۔ مختلف سیاسی نظریوں میں سے ایک کا تجزیہ کرتے ہوئے اس نے لکھا تھا کہ اس صدی کے وسط تک عالم اسلام اور چین کے درمیان ایک وسیع تر تاریخی اتحاد قائم ہوسکتا ہے اور یہ قوتیں مل کر مغربی طاقتوں کے مقابلہ کے لیے ایک زبردست فوج تیار کرسکتی ہیں۔ اس اتحاد کے اندر وسطی ایشیا کے ممالک اور ترکی و پاکستان کا اہم رول ہوگا اور چین ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہوگا، ان کی فوجی طاقت اتنی زبردست [مزید پڑھیے]