Abd Add
 

نائن الیون

نائن الیون، القاعدہ اور امریکی پروپیگنڈا مشینری

September 1, 2010 // 0 Comments

نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر جس مقام پر تعمیر کیا گیا تھا اس کے نزدیک مسجد تعمیر کرنے کے منصوبے کی مخالفت امریکا بھر میں تجزیاتی فیشن کا درجہ اختیار کرگیا ہے۔ جو لوگ اظہار رائے کی آزادی کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور ہر وقت اس کی وکالت میں رطب اللسان رہتے ہیں وہ بھی گراؤنڈ زیرو مسجد کے خلاف میدان میں نکل آئے ہیں۔ مرکزی میڈیا میں اس قدر پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ ساتھ ہی ساتھ یہ ڈھول بھی پیٹا جارہا ہے کہ القاعدہ ایک بار پھر منظم ہوچکی ہے اور نائن الیون جیسا ایک اور واقعہ کسی بھی وقت رونما ہوسکتا ہے۔ جارج واکر بش، ڈک چینی اور ان کے رفقا نے نو [مزید پڑھیے]

برطانوی مسلمانوں پر عتاب

July 16, 2005 // 0 Comments

برطانیہ سے موصول ہونے والی اور برطانوی اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹوں نیز مضامین کے مطالعہ سے اگر کوئی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے تو یہ کہ ٹونی بلیئر کے ملک کی صورتحال اس وقت بالکل ویسی ہے جیسی ’’نائن الیون‘‘ کے بعد جارج بش کے امریکا کی تھی۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی لہر نے پورے برطانیہ کو دبوچ لیا ہے اور اسی لہر کے زیرِ اثر ہر مکتبِ فکر اپنے زاویۂ نگاہ سے سوچ رہا ہے۔ کسی کا خیال ہے کہ مدارس میں دی جانے والی تعلیم اور مساجد میں دورانِ خطبہ استعمال کیے جانے والے الفاظ کا تنقیدی جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کون سے الفاظ نوجوان ذہنوں پر کس طرح اثرانداز ہو رہے ہیں [مزید پڑھیے]

الجزیرہ ٹی وی سے متعلق کچھ حقائق

May 16, 2005 // 0 Comments

الجزیرہ ٹی وی کے حوالے سے بعض سٹیلائٹ ٹی وی اور انٹر نیٹ ذرائع نے ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے۔ ان کے مطابق ان رپورٹوں میں الجزیرہ نیٹ ورک کے علاقائی و بین الاقوامی نیٹ ورک قطری حکومت کی ملکیت ہے۔ یہ پہلے بی بی سی عربی نشریات کی ملکیت تھا اور سعودی عربیہ اس کے اخراجات برداشت کرتا تھا۔ جب الجزیرہ نے ایک سعودی منحرف کا انٹرویو نشر کیا تو سعودی عرب نے اس پر اعتراض کیا لیکن بی بی سی نے اس طرح کے پروگرام کو روکنے سے انکار کر دیا۔ لہٰذا سعودی حکومت اس بات پر راضی ہو گئی کہ اس ٹی وی نیٹ ورک کو فروخت کر دیا جائے اور قطری شہزادہ (ولی عہد) نے اسے ۱۵ کروڑ ڈالر کے [مزید پڑھیے]