عبدالقادر ملّا

عبدالقادر مُلّا شہید کا آخری خط

February 16, 2016 // 0 Comments

جماعت اسلامی بنگلا دیش کے رہنما عبدالقادر مُلّا کو ۱۲؍دسمبر ۲۰۱۳ء کو ۱۹۷۱ء کی جنگ میں نظریہ پاکستان کی حمایت پر سزائے موت دی گئی۔ عبدالقادر مُلا نے تختہ دار پر جانے سے قبل اپنی اہلیہ کے نام ایک مفصل خط لکھا تھا، جو درج ذیل ہے: پیاری رفیق حیات السلام علیکم! میری پھانسی کا مکمل فیصلہ لکھا جا چُکا ہے۔ قوی امکان ہے کہ کاغذ کا وہ ٹکڑا کل رات یا اس کے بعد جیل کے دروازے تک پہنچ جائے۔ جس کے بعد اصولاً مجھے کال کوٹھری میں منتقل کردیا جائے گا۔ شاید یہ حکومت کا آخری عمل ہے، اس لیے وہ اس غیر منصفانہ عمل کو بہت تیزی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچائے گی۔ میرا خیال ہے کہ وہ نظر ثانی کی [مزید پڑھیے]

’’ عبدالقادر ملا کو حکومت نے جلد بازی میں پھانسی دی! ‘‘

December 16, 2014 // 0 Comments

میرے والد یہ تک نہ جان سکے کہ ان کی نظرثانی کی درخواست کو کس بنیاد پر مسترد کیا گیا ہے۔ درخواست رد کیے جانے کے فوراً بعد حکومت نے میرے والد کو رات دس بج کر ایک منٹ پر پھانسی دینے کے فیصلے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد انہیں پھانسی دے دی گئی۔

شہید عبدالقادر مُلّا کی اہلِ خانہ کو وصیت

December 16, 2013 // 0 Comments

شہیدِ وطن عبدالقادر مُلاّ کے اہلِ خانہ جب آخری دفعہ جیل میں اُن سے ملے تو انہوں نے وصیت کی:
’’میری شہادت کے بعد تحریکِ اسلامی کے سارے لوگوں کو چاہیے کہ وہ حتی الامکان صبر و استقامت کے ساتھ میرے خون کو اقامتِ دین کے کام پر لگائیں۔ کسی طرح کے بگاڑ یا فساد میں ہمارے وسائل ضائع نہیں ہونے چاہئیں۔

شہید عبد القادر مُلّا کی مثالی زندگی

December 16, 2013 // 0 Comments

عبد القادر مُلّا ۱۹۴۸ء میں جوری یا دونگی گاؤں میں پیدا ہوئے، یہ ضلع فریدپور کے تھانہ صدر پور کا حصہ ہے۔ اُن کا خاندان ممتاز مذہبی حیثیت کا حامل تھا ۔ شہید نے جوری یا دونگی پرائمری اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اُن کا شمار انتہائی ذہین طلبہ میں ہوتا تھا