Abd Add
 

افغان حکومت

افغانستان کا مستقبل اور مفادات کی جنگ

July 1, 2019 // 0 Comments

افغانستان۱۹۷۰ء کے بعد سے تباہ کن جنگوں کی لپیٹ میں رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ خطہ تباہی کا شکار ہے۔۱۹۱۹ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد یہاں مختلف نظامِ حکومت آزمائے جا چکے ہیں۔ ان میں کمیونسٹ حمایت یافتہ جمہوریت سے لے کر آمرانہ طرز کی اسلامی امارات اور پھر امریکا سے درآمد شدہ جمہوریت بھی شامل ہے۔لیکن کوئی بھی نظامِ حکومت داخلی لڑائی اور جنگوں کے بغیر معاشرتی،نسلی اور ثقافتی حوالے سے متنوع اس ملک کو چلانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اب جب کہ موجودہ افغان جنگ کے تمام فریق ملک میں قیام امن کے لیے رضامند دکھائی دیتے ہیں،تو انھیں ماضی کی غلطیوں سے بچنے کے لیے ایک پر امن اور پائیدار نظام حکومت کی منصوبہ بندی کرنی [مزید پڑھیے]

افغانستان: وعدے اور عالمی امداد

August 1, 2012 // 0 Comments

عالمی برادری نے افغانستان کے لیے مزید امداد کا اعلان کیا ہے۔ مگر کیا امداد سے افغانستان کے تمام مسائل عمدگی سے حل ہو جائیں گے؟ یقینا نہیں۔ ۸ جولائی کو ٹوکیو میں افغانستان پر کانفرنس منعقد ہوئی جس میں عالمی برادری نے عہد کیا کہ وہ جنگ سے تباہ حال اس ملک کو چار برسوں میں مزید ۱۶؍ ارب ڈالر دے گی۔ افغان فوج اور پولیس کو سیکورٹی کی ذمہ داری مکمل طور پر سنبھالنے کے قابل بنانے کے لیے جو کچھ دیا اور کیا جائے گا وہ اس کے علاوہ ہے۔ امریکا میں یہ صدارتی انتخاب کا سال ہے۔ چند ایک اعلانات خاصے مبہم ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ امریکا نے جو رقم دینے کا اعلان کیا ہے وہ ساری کی ساری نئی نہ [مزید پڑھیے]

اچھا ہے کہ زخم مندمل ہوں!

July 16, 2011 // 0 Comments

محمد عمر داؤد زئی کو پاکستان میں افغانستان کا سفیر تین ماہ قبل مقرر کیا گیا تھا۔ وہ صدر حامد کرزئی کے چیف آف اسٹاف اور ایران میں سفیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ نیوز ویک کے سمیع یوسف زئی نے اسلام آباد میں عمر داؤد زئی سے پاک افغان تعلقات اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس انٹرویو سے اقتباسات پیش خدمت ہیں۔ ٭ آپ کا کہنا ہے کہ پاک افغان تعلقات کا ایک نیا باب شروع ہوا ہے۔ تجارت پر تو بات ہوئی ہے مگر حقانی نیٹ ورک اور دیگر حساس امور پر اب تک زیادہ بات نہیں ہوئی۔ ایسا کیوں ہے؟ عمر داؤد زئی: پاک افغان تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے ہر معاملے پر بات ہوئی [مزید پڑھیے]

افغان باشندے ملک کے مستقبل سے نا اُمید

December 16, 2010 // 0 Comments

افغانستان کے باشندوں میں وطن کے مستقبل کے حوالے سے مایوسی کا گراف بلند ہوتا جارہا ہے۔ دو سال کے دوران بیرونِ ملک سیاسی پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کی تعداد میں تیزی سے نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تعلیم یافتہ اور بظاہر خوش حال زندگی بسر کرنے والے افغان بھی بیرونِ ملک قیام کو ترجیح دے رہے ہیں۔ افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ بیرونِ ملک تعلیم اور روزگار کے مواقع تلاش کرنے والے افغانوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ دنیا بھر میں سیاسی پناہ کے خواہش مند افراد میں سب سے زیادہ تعداد افغانوں کی ہے۔ صومالیہ اور عراق جیسے تباہ حال ممالک کے لوگ بھی اپنے ملک سے اس حد تک مایوس نہیں جس قدر افغان [مزید پڑھیے]

افغانستان میں مزید نقصان اٹھانا پڑے گا!

March 1, 2010 // 0 Comments

افغانستان کے صوبے ہلمند میں غیر معمولی آپریشن جاری ہے۔ لڑائی شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ابتدائی مرحلے میں ہمیں شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ مگر یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ افغانستان میں نئے آپریشنز کا سلسلہ بارہ سے اٹھارہ ماہ تک چلے گا۔ صورت حال کو اسی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ جنرل میک کرسٹل اور ان کے ساتھیوں نے ڈیڑھ سال تک صورت حال کا جائزہ لے کر جو منصوبہ بندی کی ہے اسی کے مطابق کارروائی کی جارہی ہے۔ سول ملٹری سیٹ اپ کے لیے بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔ امریکا چاہتا ہے کہ افغان حکومت کو تمام امور جلد از جلد سونپ دیے جائیں۔ مگر اس کے لیے لیڈر شپ کی ضرورت ہے [مزید پڑھیے]

طالبان کو بلینک چیک؟

March 1, 2010 // 0 Comments

مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ افغانستان کی تحریک طالبان نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکا کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرنے سے روکا تھا۔ امریکا میں ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ ملا محمد عمر مجاہد نے ۱۹۹۸ء سے القاعدہ کے سربراہ کو اس بات کا پابند کیا تھا کہ وہ پیشگی اجازت کے بغیر میڈیا سے بات نہیں کریں گے اور امریکا کے خلاف کسی بھی نوعیت کے حملوں کی منصوبہ بندی نہیں کریں گے۔ امریکا کی ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات سے ملنے والے شواہد اوباما انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے اس دعوے سے متصادم ہیں جو انہوں نے ۱۱ ؍ستمبر ۲۰۰۱ء کے حملوں میں طالبان کے ملوث ہونے کے حوالے سے [مزید پڑھیے]

طالبان کو مرکزی دھارے میں لانا

February 16, 2010 // 0 Comments

سوال یہ ہے کہ جب طالبان اتحادی اور بالخصوص امریکی افواج سے انتقام لینے پر تلے ہوئے ہیں تو کیا انہیں مرکزی دھارے میں لایا جاسکتا ہے؟ برطانیہ کے میجر جنرل رچرڈ بیرنز کی رائے یہ ہے کہ افغانستان کے حالات درست کرنے کے لیے طالبان کو پولیس اور فوج میں بھرتی کرنا پڑے گا اور طالبان رہنمائوں کو حکومت کا حصہ بنانا پڑے گا۔ ہوسکتا ہے کہ مستقبل قریب میں طالبان رہنما بھی کرزئی کابینہ میں دکھائی دیں۔ میجر جنرل رچرڈ بیرنز نیٹو کی اس ٹاسک فورس کے سربراہ ہیں جسے طالبان کو مرکزی دھارے میں لانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ شمالی آئر لینڈ، بوسنیا اور عراق کے تجربے کو افغانستان میں کسی خوف کے بغیر اپنانا چاہیے۔ [مزید پڑھیے]

امریکی صدر کا ’’افپاک‘‘ پالیسی خطاب

December 16, 2009 // 0 Comments

میں نے ایک ہدف مقرر کیا جس کی محدود وضاحت ان الفاظ میں میں کی گئی تھی کہ ہمارا مقصد القاعدہ اور اس کے انتہا پسند اتحادیوں کو درہم برہم کرنا، اسے منتشر کرنا اور شکست دینا ہے۔ میں نے امریکا کی فوجی اور سویلین کارروائیوں کو بہتر طریقے سے مربوط کرنے کا عہد کیا۔ اس کے بعد سے اب تک، ہم نے بعض اہم مقاصد کے حصول میں پیش رفت کی ہے۔ القاعدہ اور طالبان کے اعلیٰ سطح کے لیڈر ہلاک کر دیے گئے ہیں اور ہم نے ساری دنیا میں القاعدہ پر دبائو بڑھا دیا ہے۔ پاکستان میں، اس ملک کی فوج نے، برسوں کے بعد اتنی بڑی کارروائی کی ہے۔ افغانستان میں ہم نے اور ہمارے اتحادیوں نے طالبان کی صدارتی انتخاب [مزید پڑھیے]