افغان طالبان

مستقبل کی افغان ریاست اور طالبان

March 16, 2017 // 0 Comments

یہ رپورٹ سینٹر آن انٹرنیشنل کوآپریشن (CIC) کی تیار شدہ ہے۔ CIC نیویارک یونیورسٹی کے شعبۂ سماجی اور سائنسی علوم کے تحت قائم تحقیقی مرکز ہے۔ CIC کی ویب گاہ کے مطابق اِس کا بنیادی مقصد عالمی تنازعات اور مسائل میں بین الاقوامی تعاون اور اشتراکِ عمل کو فروغ دینا ہے۔ CIC آسٹریلیا، برازیل، انڈیا، چائنا، قطر، دبئی، امریکا اور یورپ سمیت دنیا بھر کے تحقیقی مراکز اور مجلسِ دانش وراں (Think Tank) سے قریبی تعلقات رکھتی ہے۔ کس کا اسلام؟ ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ اسلام کی کون سی تعبیر و تشریح قبول کی جائے۔ کیا وہی اپروچ اپنائی جائے جو تحریک طالبان سے وابستہ افراد نے دورِ امارت میں اپنائی تھی؟ اسلام کی تعبیر و تشریح بنیادی مسئلہ ہے جس کا [مزید پڑھیے]

مستقبل کی افغان ریاست اور طالبان | 5

March 1, 2017 // 0 Comments

فی زمانہ اقتدار میں شراکت طالبان کا سیاسی ونگ کہتا ہے کہ اب حالات بہت مختلف ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ طالبان بارگیننگ پوزیشن میں نہیں رہے، اس لیے اپنے موقف سے ہٹ رہے ہیں۔ اگر طالبان اب بھی عسکری فتح سے ہمکنار ہوں تب بھی سیاسی اجارہ داری قائم کرنا کسی بھی قرینِ دانش نہ ہوگا کیونکہ ایسا کرنے سے صرف خرابیاں پیدا ہوں گی، معاملات مزید الجھیں گے۔ فی زمانہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی حکمتِ عملی ہی بہترین آپشن ہے۔ بی کے کہتے ہیں کہ ۱۹۹۰ء کے عشرے میں طالبان قائدین کی اکثریت سیاسی اجارہ داری کے حق میں تھی مگر اب ایسا نہیں۔ فی زمانہ سیاسی اجارہ داری کے حق میں بولنے والے خال خال ہیں۔ طالبان قیادت سے [مزید پڑھیے]

مستقبل کی افغان ریاست اور طالبان | 4

February 16, 2017 // 0 Comments

سیاسی ونگ سے جامع گفتگو طالبان کے سیاسی ونگ سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے خیالات اور نظریات جاننے کے لیے ۱۹ شخصیات سے انٹرویو کیے گئے۔ ان میں سے ایک شخصیت کا چونکہ طالبان سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں تھا اس لیے اس کے خیالات اس رپورٹ میں شامل نہیں کیے گئے۔ اسی طور جن دو دو شخصیات نے دوسروں کے خیالات کی محض تصدیق کی اور اپنے خیالات کے اظہار سے اجتناب برتا ان کی باتیں بھی اس رپورٹ کا حصہ نہیں بنائی گئیں۔ زیر نظر رپورٹ میں جن ۱۶ شخصیات سے کیے جانے والے انٹرویوز کے مندرجات پیش کیے جارہے ہیں ان کی شناخت پوشیدہ رکھی گئی ہے، تاہم انگریزی کے دو حروف پر مبنی نام ہر ایک کو [مزید پڑھیے]

مستقبل کی افغان ریاست اور طالبان | 3

February 1, 2017 // 0 Comments

اسلامی ریاست میں زندگی کس طور کی ہوگی؟ ٭ انٹرویوز سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ معاشرت کے حوالے سے طالبان کی سرکردہ شخصیات کے خیالات میں تبدیلی آئی ہے۔ یہ سب کچھ ۱۹۹۰ء کے عشرے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کا نتیجہ ہے۔ طالبان کے بیشتر قائدین ایک عشرے سے بھی زائد مدت سے پاکستان اور خلیج میں رہے ہیں۔ اس سے ان کی سوچ میں وسعت پیدا ہوئی ہے۔ معاملات کو سمجھنے اور اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرنے کی ان کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان کی بہت سی شخصیات نے مزید تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کا مطالعہ وسیع ہوا ہے جس کے نتیجے میں سوچ بھی گہری [مزید پڑھیے]

مستقبل کی افغان ریاست اور طالبان | 2

January 16, 2017 // 0 Comments

یہ رپورٹ سینٹر آن انٹرنیشنل کوآپریشن (CIC) کی تیار شدہ ہے۔ CIC نیویارک یونیورسٹی کے شعبۂ سماجی اور سائنسی علوم کے تحت قائم تحقیقی مرکز ہے۔ CIC کی ویب گاہ کے مطابق اِس کا بنیادی مقصد عالمی تنازعات اور مسائل میں بین الاقوامی تعاون اور اشتراکِ عمل کو فروغ دینا ہے۔ CIC آسٹریلیا، برازیل، انڈیا، چائنا، قطر، دبئی، امریکا اور یورپ سمیت دنیا بھر کے تحقیقی مراکز اور مجلسِ دانش وراں (Think Tank) سے قریبی تعلقات رکھتی ہے۔ زیرِ نظر مضمون کی پہلی قسط یکم دسمبر ۲۰۱۶ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔[مزید پڑھیے]

مستقبل کی افغان ریاست اور طالبان

December 1, 2016 // 0 Comments

یہ رپورٹ سینٹر آن انٹرنیشنل کوآپریشن (CIC) کی تیار شدہ ہے۔ CIC نیویارک یونیورسٹی کے شعبۂ سماجی اور سائنسی علوم کے تحت قائم تحقیقی مرکز ہے۔ CIC کی ویب گاہ کے مطابق اِس کا بنیادی مقصد عالمی تنازعات اور مسائل میں بین الاقوامی تعاون اور اشتراکِ عمل کو فروغ دینا ہے۔ CIC آسٹریلیا، برازیل، انڈیا، چائنا، قطر، دبئی، امریکا اور یورپ سمیت دنیا بھر کے تحقیقی مراکز اور مجلسِ دانش وراں (Think Tank) سے قریبی تعلقات رکھتی ہے۔ افغانستان میں مستقبل کے ریاستی ڈھانچے کے بارے میں طالبان کے سرکردہ ارکان اور رہنماؤں کے خیالات جاننے سے متعلق اس رپورٹ کے مصنفین بنیادی خیال کے لیے ایڈمنڈ ہیلے کے اور تعاون کے لیے فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس (یو کے) کے شکر گزار ہیں۔ نیو [مزید پڑھیے]

افغان طالبان سے مذاکرات

March 16, 2015 // 0 Comments

اگر کہیں اور ایسا ہوا ہوتا کہ برفانی تودے گرنے سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے کسی پڑوسی ملک نے امداد بھیجی ہوتی تو اِس عمل کو شکریے کے ساتھ قبول کیا جاتا تاہم زیادہ حیرت کا اظہار نہ کیا گیا ہوتا۔ مگر جب حال ہی میں پاکستان نے افغانستان کی وادیٔ پنجشیر میں برفانی تودے گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے لیے امدادی سامان سے لدے ہوئے طیارے بھیجے تو دنیا کو اندازہ ہوا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کس حد تک بہتر ہوئے ہیں۔ اب یہ امکان بھی موجود ہے کہ پاکستان کی حکومت طالبان کو افغان حکومت سے مذاکرات پر آمادہ کرے۔ یہ امکان اگرچہ اب تک محض ایک گمان ہے مگر [مزید پڑھیے]