Abd Add
 

القاعدہ

القاعدہ نے حکمت عملی تبدیل کرلی!

October 16, 2010 // 0 Comments

ایک بار پھر القاعدہ خبروں میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ القاعدہ خبروں میں کب نہیں تھی؟ نائن الیون کے بعد سے القاعدہ متواتر خبروں میں رہی ہے۔ اور اس کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ مغربی میڈیا سے القاعدہ کا بھوت اترتا ہی نہیں۔ کیا واقعی القاعدہ اتنا بڑا خطرہ ہے کہ اس کا راگ ہر وقت الاپا جائے؟ یہ سوال بحث طلب ہے۔ القاعدہ کے نام پر مغربی حکومتوں نے سیکورٹی کے اقدامات کی مد میں بڑے بجٹ اِدھر سے اْدھر کردیے ہیں۔ اور اب تک کیے جارہی ہیں۔ حال ہی میں القاعدہ کی جانب سے دی جانے والی حملوں کی دھمکیوں نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں ہائی الرٹ کی کیفیت پیدا کی ہے اور متعلقہ حکومتیں سیکورٹی بڑھانے پر مجبور [مزید پڑھیے]

نائن الیون، القاعدہ اور امریکی پروپیگنڈا مشینری

September 1, 2010 // 0 Comments

نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر جس مقام پر تعمیر کیا گیا تھا اس کے نزدیک مسجد تعمیر کرنے کے منصوبے کی مخالفت امریکا بھر میں تجزیاتی فیشن کا درجہ اختیار کرگیا ہے۔ جو لوگ اظہار رائے کی آزادی کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور ہر وقت اس کی وکالت میں رطب اللسان رہتے ہیں وہ بھی گراؤنڈ زیرو مسجد کے خلاف میدان میں نکل آئے ہیں۔ مرکزی میڈیا میں اس قدر پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ ساتھ ہی ساتھ یہ ڈھول بھی پیٹا جارہا ہے کہ القاعدہ ایک بار پھر منظم ہوچکی ہے اور نائن الیون جیسا ایک اور واقعہ کسی بھی وقت رونما ہوسکتا ہے۔ جارج واکر بش، ڈک چینی اور ان کے رفقا نے نو [مزید پڑھیے]

کیا خودکش حملے مذہبی جنون کی پیداوار ہیں؟

May 16, 2010 // 0 Comments

امریکیوں کی اکثریت اب یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ دہشت گردی ان کے گھروں تک آ پہنچی ہے اور اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی میں توازن نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شرکت سے ہزاروں ارب ڈالر ضائع ہوئے ہیں اور ہوم لینڈ سیکوریٹی کے نام پر بھی سیکڑوں ارب ڈالر ٹھکانے لگائے گئے ہیں۔ قومی سلامتی یقینی بنانے کے نام پر لوگوں سے ان کی آزادی تک چھین لی گئی ہے۔ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد سے جہادی عناصر کو ایسے عفریت کے روپ میں پیش کیا جاتا رہا ہے جو شہری آزادی اور جمہوریت کا مخالف ہے۔ اس تاثر کو پروان چڑھایا گیا ہے کہ امریکا نے غیر معمولی جدوجہد اور سماجی انقلاب کے ذریعے جو [مزید پڑھیے]

القاعدہ ۔۔۔سوچ کی تین لہریں

August 1, 2008 // 0 Comments

مارک سیج مین نے ایک غیرامکانی راستہ نقش کیا ہے۔ یہ نیویارک سٹی پولیس ڈپارٹمنٹ میں پہلا وزیٹنگ اسکالر ہے جو ہالوکاسٹ کے دوران زندہ بچ گیا اور پھر ماہر علومِ عمرانیات اور ماہرِ امراض دماغی ہونے کے ساتھ سی آئی اے میں کیس افسر بھی بنا۔ اس سال کے اوائل میں “Leaderless Jihad” (جہاد، بغیر رہنما) کی اشاعت کے وقت سے سیج مین القاعدہ کی اندرونی سرگرمیوں سے متعلق مباحث کے محور رہے ہیں۔ کیا یہ تنظیم بکھر چکی ہے یا غیرمنظم ہو گئی ہے جیسا کہ سیج مین کا خیال ہے یا یہ پھر سے قوت پکڑ رہی ہے جیسا کہ سی آئی اے کے تجزیہ نگاروں کی رپورٹ ہے؟ سیج مین نے نیویارک میں ’’نیوزویک‘‘ کے صحافی کرسٹوفر ڈِکّی سے گفتگو کی [مزید پڑھیے]

CIA چیف سے دس سوالات

July 1, 2005 // 0 Comments

پورٹر گوس صرف سات ماہ کے لیے اس وقت سی آئی اے ڈائریکٹر رہے تھے جب اس سی آئی اے کے جاسوس کو اپنا زیادہ تر اختیار امریکی نیشنل انٹیلی جینس کے نئے ڈائریکٹر John Negroponte کو سونپنا پڑا تھا۔ لیکن ۶۶ سالہ پورٹر گوس کا کہنا ہے کہ اب ان کے پاس امریکا کی سب سے بڑی خفیہ Human ایجنسی کو چلانے کا زیادہ موقع ہے۔ وہ اپنے اپنے انٹرویو کے لیے ’’ٹائم‘‘ کے نمائندے Timotly J. Burgoo کے ساتھ ہم کلام ہوئے: س: امریکا اسامہ کو تلاش کرنے میں کب کامیاب ہو گا؟ ج: اس سوال کی گہرائی اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا کہ آپ واقف ہیں۔ اس تسلسل میں کہ آپ کو کامیابی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو [مزید پڑھیے]

۱۰۵ فلسطینی جاں بحق

November 1, 2004 // 0 Comments

اسلحہ واپس لینے کی مہم ☼ اسلحہ واپس لینے کی امریکی فوج اور عراقی حکومت کی ۵ روزہ مشترکہ مہم کے دوران ایک مارٹر گولے کے عوض عراقیوں کو گیارہ امریکی ڈالر ادا کیے گئے۔ ☼ خودکشی کے دو معاہدے جن کے تحت جاپان میں گذشتہ ہفتے ۹ اشخاص نے اپنے آپ کو ہلاک کر لیا وہ انٹرنیٹ کے ذریعہ طے پائے تھے۔ ☼ سنگاپور کے ۴۰ ہزار ٹیکسی ڈرائیوروں کو پولیس نے دہشت گردوں پر نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ ☼ سنگاپور میں ۲۰۰۲ء سے اب تک ۴۰ ایسے جنگجو گرفتار کیے جاچکے ہیں جن کا مبینہ تعلق القاعدہ سے ہے۔ ☼ ایک تازہ سرکاری رپورٹ کے مطابق چین میں سال ۲۰۰۲ء میں ۶ کروڑ بالغ افراد موٹاپے کے مرض میں مبتلا ہیں۔ [مزید پڑھیے]

1 2