Abd Add
 

عرب دنیا

قطر کی جمہوریت؟۔۔۔ دوسروں کے لیے!

June 16, 2013 // 0 Comments

قطر خطے میں سب سے بڑی مالیاتی حقیقت اور اصلاحات کا علمبردار بن کر ابھرا ہے مگر قطریوں کو اُس وقت خفت کا سامنا ہوسکتا ہے، جب کوئی پوچھے کہ تمہارے اپنے ملک میں جمہوریت کیوں نہیں ہے؟ جبکہ تمہارے قائدین دیگر ممالک میں سیاسی اصلاحات اور بالخصوص جمہوریت پر زور دیتے رہتے ہیں۔ قطر میں صرف سیاسی جماعتوں ہی پر نہیں بلکہ مظاہروں، مزدور انجمنوں اور عوامی امور کی نگرانی کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں پر بھی پابندی عائد ہے۔ مجلس شوریٰ نے اعلان کیا تھا کہ انتخابات ۲۰۰۴ء میں ہوں گے۔ پھر یہ ہوا کہ معاملات ٹلتے رہے۔ شاید قطر میں کوئی ایک بھی نہیں جو یہ مشورہ دے کہ مجلسِ شوریٰ کے پاس قانون سازی کا اختیار بھی ہونا چاہیے۔ قطر سے [مزید پڑھیے]

فلسطین کی آزادی اور حماس کا وژن

April 16, 2013 // 0 Comments

الزیتونہ سینٹر فار اسٹڈیز اینڈ کنسلٹیشنز نے حماس کے سیاسی بازو کے سربراہ خالد مشعل کے ایک مقالے پر مبنی دستاویز شائع کی ہے جس سے عرب دنیا میں عوامی بیداری کی لہر کے تناظر میں حماس کے سیاسی فکر کی از سرِ نو تشکیل کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بیروت میں ۲۸ اور ۲۹ نومبر ۲۰۱۲ء کو الزیتونہ سینٹر کے زیراہتمام عرب دنیا میں عوامی بیداری کی لہر کے تناظر میں ’’اسلامی تحاریک اور فلسطینی کاز‘‘ کے زیر عنوان ایک کانفرنس ہوئی، جس میں خالد مشعل نے مقالہ پیش کیا۔ کانفرنس کے بعد خالد مشعل نے خود اس مقالے کی نئے سِرے سے تدوین کی اور اشاعت کے لیے الزیتونہ سینٹر کو بھیجا۔ اس مقالے کو حماس کے سیاسی فکر کے حوالے سے ایک [مزید پڑھیے]

مصر کو نظرانداز کر کے خطے میں حقیقی امن و استحکام ممکن نہیں!

October 1, 2012 // 0 Comments

کسی بھی مملکت کے سربراہ سے انٹرویو آسان نہیں ہوتا اور خاص طور پر ایسے سربراہِ مملکت سے جسے منصب سنبھالے ہوئے زیادہ مدت نہ گزری ہو۔ مصر کے صدر محمد مرسی کا معاملہ تھوڑا سا مختلف تھا۔ وہ انگریزی اچھی جانتے اور بولتے ہیں۔ کسی سوال کو سمجھنا ان کے لیے مشکل نہ تھا۔ بعض مواقع پر ان کے ترجمان نے جواب دیے جیسا کہ مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں عام بات ہے۔ تھوڑا سا انتظار کرنا پڑا مگر خیر، صدر مرسی نے ہمیں ۹۰ منٹ دیے جو کھل کر گفتگو کے لیے اچھا خاصا وقت تھا۔ پہلا سرکاری مترجم خاصا محتاط تھا اور بہت سے معاملات میں ہچکچاہٹ کے ساتھ بات کرتا تھا۔ بعد میں صدر نے ایک اور مترجم بلایا جو [مزید پڑھیے]

اسلامی عناصر اور عرب دنیا کے آئین

April 16, 2012 // 0 Comments

عرب دنیا میں ۲۰۱۱ء میں بیداری کی لہر اٹھی اور نئی حکومتوں کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔ مگر ایک خوف بھی پیدا ہوا کہ اگر کہیں پرانی آمریتیں چلی گئیں اور اسلامی عناصر کی شکل میں نئی آمریتیں اٹھ کھڑی ہوئیں تو؟ شام میں اقلیتیں اس قدر خوفزدہ ہیں کہ انہوں نے اکثریت پر مظالم ڈھانے کو بھی برداشت کرلیا ہے۔ سیکولر ازم کو بچانے کے نام پر سبھی کچھ روا سمجھ لیا گیا ہے۔ مصر اور تیونس میں کچھ کچھ ایسا ہی خوف پایا جاتا ہے۔ ان دونوں ممالک میں نئے آئین کی تشکیل پر زور دیا جارہا ہے تاکہ کوئی بھی نیا نظام من مانی نہ کرسکے۔ ان تینوں ممالک میں اسلامی عناصر نے خاصے مختلف انداز سے معاملات کو نپٹایا اور [مزید پڑھیے]

1 2 3