Abd Add
 

عرب دنیا

ہم جمہوریت اور استحکام چاہتے ہیں!

October 1, 2011 // 0 Comments

تیونس کی النہضہ پارٹی الیکشن جیتنے کی صورت میں صرف حکومت کرنا نہیں چاہتی بلکہ ملک کو بہتر انداز سے چلانے اور اس کی تعمیر نو سے متعلق سرگرمیوں میں تمام شہریوں کو شریک کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ تیونس کے عوام نے سال رواں کے اوائل میں زین العابدین بن علی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ (پہلے جمہوری الیکشن ۲۳؍اکتوبر ۲۰۱۱ء کو منعقد ہونے جارہے ہیں)۔ النہضہ پارٹی کے قائد راشد الغنوشی کہتے ہیں کہ اگر عام انتخابات میں ان کی پارٹی واضح اکثریت سے کامیاب ہو جائے تب بھی وہ قومی اتفاق رائے پر مبنی حکومت قائم کرنا چاہیں گے۔ وہ کہتے ہیں ’’ہم اپنی اجتماعی شناخت کے ایک بڑے حصے (اسلام) کو حکومتی امور سے الگ تھلگ [مزید پڑھیے]

چینی خارجہ پالیسی اور لیبیا

October 1, 2011 // 0 Comments

لیبیا کا بحران چین کے لیے ایک بڑی آزمائش کی شکل میں ابھرا ہے۔ اس نے اب تک بظاہر عدم مداخلت کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ مگر جہاں مفادات داؤ پر لگے ہوں وہاں کوئی نہ کوئی فیصلہ ضرور کرنا پڑتا ہے۔ چین کے لیے اس اعتبار سے لیبیا کا بحران خاصا پریشان کن ہے کیونکہ تیل اور گیس کے شعبے میں اس کی سرمایہ کاری اچھی خاصی ہے اور لیبیا میں حکومت یا نظام حکومت کی تبدیلی اس کے لیے بہت معنی خیز ہے۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں چین واحد ہے جس نے اب تک لیبیا میں حکومت کے خاتمے اور عبوری قومی کونسل کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عرب دنیا میں [مزید پڑھیے]

ترکی کی تقلید آسان نہیں!

September 1, 2011 // 0 Comments

بہت سے معاملات میں محسوس ہوتا ہے کہ ترکی کے اسلام پسند عناصر اپنی بات منوانے اور سب کچھ درست کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ فوج کی مشاورت سے تقویت پانے والے سیکولر ازم کے سائے سے الگ ہوکر ابھرنے میں انہیں خاصا وقت لگا۔ استنبول کی کامرس یونیورسٹی کے جواں سال پروفیسر باقر بیرت اوزیپیک کو مصر میں عوامی انقلاب کی لہر نے بہت متاثر کیا ہے۔ انہوں نے دو ساتھیوں کے ساتھ حال ہی میں قاہرہ یونیورسٹی کے تحت منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت کی جس میں سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے ان کے خیالات کا خیر مقدم کیا گیا۔ ایک رات وہ قاہرہ کے مشہور زمانہ تحریر اسکوائر گئے اور وہاں انہوں نے دیکھا کہ نوجوان ٹریفک کنٹرول کر رہے ہیں۔ [مزید پڑھیے]

اسلام اور جمہوریت

September 1, 2011 // 0 Comments

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک خاتون نے انگریزی، عربی اور فرانسیسی کے ملغوبے سے تیار کردہ زبان میں بتایا کہ آج کل یہ لوگ بہت اچھی باتیں کر رہے ہیں مگر ان کی باتوں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ مصر، تیونس، لیبیا، مراکش رام اللہ (غزہ) میں بیداری کی جو لہر اٹھی ہے اور جس طور آمروں کی حکومتیں ختم ہو رہی ہیں اس کے تناظر میں ان ممالک کے سیکولر اور لبرل حلقوں میں اسلامی تحاریک کے بارے میں طرح طرح کے انتباہی کلمات عوام کی زبان سے سننے کو ملتے ہیں۔ اسلامی تحاریک کے قائدین اور ترجمان اور مرکزی دھارے کی تنظیموں مثلاً اخوان المسلمون کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی جارہی ہے کہ اقتدار میں آکر وہ حقیقی امن کے [مزید پڑھیے]

امریکا کو چین سے ڈرنا نہیں چاہیے!

June 1, 2011 // 0 Comments

سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کہتے ہیں کہ طویل سیاسی کیریئر میں انہوں نے بہت سے دوست اور ان سے کہیں زیادہ دشمن بنائے ہیں۔ زیر نظر دس سالوں میں ہنری کسنجر چین، عراق اور دیگر امور پر اپنی آراء پیش کر رہے ہیں۔ ٭ کیا امریکا کو چین سے ڈرنا چاہیے؟ ہنری کسنجر: چین کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس سے ڈرنا لازم نہیں۔ ٭ چین سے کیوں نہیں ڈرنا چاہیے؟ ہنری کسنجر: چین اور امریکا دونوں ایک دوسرے سے بعض امور میں اور بعض رجحانات کے باعث ڈرتے ہیں۔ چین کو یہ خوف ہے کہ امریکا اسے عسکری طور پر حصار میں لینا چاہتا ہے۔ امریکیوں کو یہ خوف ہے کہ چین پورے ایشیا پر متصرف ہونا چاہتا ہے اور یقیناً اِس [مزید پڑھیے]

1 2 3