عرب

ناراض عرب نوجوان دنیا کے لیے خطرہ؟

September 16, 2016 // 0 Comments

بالوں میں جیل لگائے، ہاتھوں میں کافی کا مگ لیے لڑکیوں میں دلچسپی لیتے محمد فوزی جیسے یونیورسٹی کے طالبعلم دنیا بھر میں ہوتے ہیں۔ قاہرہ یونیورسٹی میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرتے ۲۱ سالہ فوزی کے سامنے تابناک مستقبل ہونا چاہیے کیونکہ دنیا ٹیکنیکل گریجویٹس کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔ لیکن فوزی مایوس ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ تعلیم کے بعد ملنے والی نوکری اس کے اپنے اخراجات پورے نہیں کرے گی چہ جائیکہ وہ اپنی بیوہ ماں کو بھی سنبھال سکے۔ اچھی تنخواہ کے بغیر وہ گھر نہیں لے سکتا، گھر لیے بغیر اس کی شادی نہیں ہوسکتی اور شادی کے بغیر اس کی جذباتی ضروریات ادھوری ہیں۔ فوزی کے بقول مذہبی عقائد اسے گرل فرینڈ بنانے سے روکتے ہیں اور ظاہر [مزید پڑھیے]

عرب دنیا کے مَلِک اور مملوک ریاستیں

July 16, 2016 // 0 Comments

قاہرہ کے دفتر میں بیٹھ کر نیل کے نظاروں سے لطف لیتا تاجر اپنا موبائل فون شیشے کے جار میں رکھتا ہے جبکہ شہر کے دیگر حصوں میں ایک لکھاری اپنا فون فرج میں رکھتی ہے۔ اگر اسمارٹ فون کبھی ساری عرب دنیا میں انقلابیوں کا ہتھیار تھے تو اب یہ خفیہ اداروں کا آلۂ کار بن گئے ہیں تاکہ مخالفین کے فون ہیک کرکے انہیں جاسوسی کے آلات میں بدل دیا جائے۔ ان دنوں عرب دنیا میں کام کرنے والے صحافی کو ایسے اسمارٹ فون کی ضرورت ہے جو روابط کی انتہائی محفوظ ایپس سے مزین ہو۔ مصری اس ضمن میں ’’سگنل‘‘ کو پسند کرتے ہیں، سعودیوں کی ترجیح ’’ٹیلی گرام‘‘ ہے اور لبنانی ابھی تک ’’واٹس ایپ‘‘ پر بھروسا کیے ہوئے ہیں۔ ۲۰۱۱ء [مزید پڑھیے]

عرب ممالک کے ۴۵ ارب پتی ۲۲۳ ارب ڈالر کے مالک

March 16, 2015 // 0 Comments

امریکی بزنس جریدے ’’فوربز‘‘ نے سال ۲۰۱۵ء کے ارب پتی صاحبِ ثروت کی ایک نئی فہرست جاری کی ہے جس میں گیارہ ممالک کے ایسے ۴۵ امراء بھی شامل ہیں، جو عرب پس منظر کے ساتھ امریکا اور مغربی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ فوربز کی تازہ فہرست میں رواں سال کے کُل ۱۸۲۶ ارب پتیوں میں سعودی عرب کے ۱۰ ارب پتی بھی شامل ہیں جن کی مجموعی دولت ۴۸ ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ دو ہزار کے لگ بھگ ارب پتی شخصیات مجموعی طور پر سات کھرب ۵۰ ارب ڈالر کے مالک ہیں۔ ارب پتی عالمی شخصیات میں سب سے کم عمر ایک امریکی ۲۴ سالہ ایفن اشپیگل بھی شامل ہے جو ایک ارب ۵۰۰ ملین ڈالر کا مالک ہے۔ اشپیگل لبنانی نژاد کارلوس [مزید پڑھیے]

اہلِ عرب کا المیہ

July 16, 2014 // 0 Comments

ایک ہزار سال قبل بغداد، دمشق اور قاہرہ نے دنیا کی رہنمائی کے لیے کمر کَسی اور تحقیق و ترقی کی شاہراہ پر وہ سفر شروع کیا جس نے دنیا کو جدت اور ندرت کی کئی منازل سے ہمکنار کیا۔ ایک زمانہ تھا جب اسلام اور جدت جڑوا تھے۔ عرب دنیا کی متعدد خلافتیں متحرک سپر پاور تھیں۔ انہوں نے دنیا کو ترقی، رواداری اور تعلیم سے آشنا کیا۔ آج عرب دنیا شدید کس مپرسی کے عالم میں ہے۔ علم اور تحقیق و ترقی کا اس خطے سے جیسے کوئی واسطہ ہی نہیں رہا