Abd Add
 

عرب

عرب ریاستیں اور عدم تحفظ

August 16, 2018 // 0 Comments

ہر تھوڑے دن بعد رات میں آگ برساتا ہوا دھماکا خیز راکٹ سعودی عرب میں آسمان پر نمودار ہو کر یمن کی جنگ کی یاد دلاتا ہے۔ یہ میزائل حوثی ملیشیا کی طرف سے داغے جاتے ہیں، جنھیں ۲۰۱۵ء میں یمن میں نظامِ حکومت سے الگ کردیا گیا تھا۔ یہ میزائل اک بے ضرر شے کی طرح سعودی صحر امیں جاگرتے ہیں، لیکن تین سال گزرنے کے بعد ان کا ملبہ یہ نشاندہی کرتا ہے کہ حوثی ناقابل شکست ہیں۔ ان میزائلوں کی رفتار اور حدود بڑھ چکی ہیں اور اب یہ سعودی شہر ریاض تک میں اپنے ہدف کو نشانہ بناتے ہیں۔ ریاض میں سعودی حکام نے فوجیوں کوایک تقریب میں مختصراً ان میزائلوں کے ملبے کے بارے میں آگاہ کیا۔ یہ ’’قیام‘‘ میزائل [مزید پڑھیے]

سعودی عرب: روشن خیالی کی راہ پر۔۔۔!

July 16, 2018 // 0 Comments

الہامی تعلیمات کو کیونکر تبدیل کیا جائے،یا ان قوانین کی تبدیلی کیسے ممکن ہے،جن کوخدائی تعلیمات سمجھا جاتا ہے۔یہ وہ سوالات ہیں جس کا شاہ محمد سلمان کواس وقت سامنا ہے۔ انھوں نے اصلاحات کے نام پربعض سماجی پابندیوں پرنرمی کا اعلان کیاہے۔شاہ سلمان ہر ’’برائی‘‘ اور ’’شر‘‘ کا ذمہ دار ایران کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہناہے۱۹۷۹ء میں ہمارا فیصلہ غلط تھا۔ یاد رہے یہی وہ سال ہے جب شیعہ اسلام پسندوں نے شاہ ایران کا تختہ الٹ دیاتھا اور سنی اسلام پسندوں نے سعودی عرب میں بادشاہت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے مسجد حرام پر قبضہ کر لیاتھا۔ اسی سال سوویت یونین کی افواج افغانستان میں داخل ہو گئی تھیں۔شاہ سلمان کے ان حالیہ اقدامات سے امید ہے سعودی عوام جلد محفل [مزید پڑھیے]

ناراض عرب نوجوان دنیا کے لیے خطرہ؟

September 16, 2016 // 0 Comments

بالوں میں جیل لگائے، ہاتھوں میں کافی کا مگ لیے لڑکیوں میں دلچسپی لیتے محمد فوزی جیسے یونیورسٹی کے طالبعلم دنیا بھر میں ہوتے ہیں۔ قاہرہ یونیورسٹی میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرتے ۲۱ سالہ فوزی کے سامنے تابناک مستقبل ہونا چاہیے کیونکہ دنیا ٹیکنیکل گریجویٹس کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔ لیکن فوزی مایوس ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ تعلیم کے بعد ملنے والی نوکری اس کے اپنے اخراجات پورے نہیں کرے گی چہ جائیکہ وہ اپنی بیوہ ماں کو بھی سنبھال سکے۔ اچھی تنخواہ کے بغیر وہ گھر نہیں لے سکتا، گھر لیے بغیر اس کی شادی نہیں ہوسکتی اور شادی کے بغیر اس کی جذباتی ضروریات ادھوری ہیں۔ فوزی کے بقول مذہبی عقائد اسے گرل فرینڈ بنانے سے روکتے ہیں اور ظاہر [مزید پڑھیے]

عرب دنیا کے مَلِک اور مملوک ریاستیں

July 16, 2016 // 0 Comments

قاہرہ کے دفتر میں بیٹھ کر نیل کے نظاروں سے لطف لیتا تاجر اپنا موبائل فون شیشے کے جار میں رکھتا ہے جبکہ شہر کے دیگر حصوں میں ایک لکھاری اپنا فون فرج میں رکھتی ہے۔ اگر اسمارٹ فون کبھی ساری عرب دنیا میں انقلابیوں کا ہتھیار تھے تو اب یہ خفیہ اداروں کا آلۂ کار بن گئے ہیں تاکہ مخالفین کے فون ہیک کرکے انہیں جاسوسی کے آلات میں بدل دیا جائے۔ ان دنوں عرب دنیا میں کام کرنے والے صحافی کو ایسے اسمارٹ فون کی ضرورت ہے جو روابط کی انتہائی محفوظ ایپس سے مزین ہو۔ مصری اس ضمن میں ’’سگنل‘‘ کو پسند کرتے ہیں، سعودیوں کی ترجیح ’’ٹیلی گرام‘‘ ہے اور لبنانی ابھی تک ’’واٹس ایپ‘‘ پر بھروسا کیے ہوئے ہیں۔ ۲۰۱۱ء [مزید پڑھیے]

عرب ممالک کے ۴۵ ارب پتی ۲۲۳ ارب ڈالر کے مالک

March 16, 2015 // 0 Comments

امریکی بزنس جریدے ’’فوربز‘‘ نے سال ۲۰۱۵ء کے ارب پتی صاحبِ ثروت کی ایک نئی فہرست جاری کی ہے جس میں گیارہ ممالک کے ایسے ۴۵ امراء بھی شامل ہیں، جو عرب پس منظر کے ساتھ امریکا اور مغربی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ فوربز کی تازہ فہرست میں رواں سال کے کُل ۱۸۲۶ ارب پتیوں میں سعودی عرب کے ۱۰ ارب پتی بھی شامل ہیں جن کی مجموعی دولت ۴۸ ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ دو ہزار کے لگ بھگ ارب پتی شخصیات مجموعی طور پر سات کھرب ۵۰ ارب ڈالر کے مالک ہیں۔ ارب پتی عالمی شخصیات میں سب سے کم عمر ایک امریکی ۲۴ سالہ ایفن اشپیگل بھی شامل ہے جو ایک ارب ۵۰۰ ملین ڈالر کا مالک ہے۔ اشپیگل لبنانی نژاد کارلوس [مزید پڑھیے]

1 2