Abd Add
 

بنگلا دیش

بنگلادیش: جمہوری اشاریے کی پست ترین سطح پر!

March 1, 2018 // 0 Comments

اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق آزادی اظہار رائے پر پابندی، انسانی اور جمہوری حقوق پر قدغن اور ان معیارات کی تنزلی کی وجہ سے بنگلادیش عالمی جمہوری اشاریہ بندی میں گزشتہ دس سال کے پست ترین درجے میں موجود ہے۔ حالیہ درجہ بندی میں ۱۶۷؍ممالک میں بنگلادیش کا نمبر۹۲ ہے۔ جبکہ گزشتہ سال ۸۴ تھا۔ EIU کے مطابق دنیا کی آبادی کے صرف ۵ فیصد انسانوں کو مکمل جمہوری حقوق حاصل ہیں۔ رپورٹ میں صرف ۸ ویں درجے سے اوپر ممالک کو مکمل جمہوری نظام کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال امریکی ووٹروں کے اپنی حکومت، منتخب نمائندوں اور سیاسی جماعتوں پر عدم اعتماد کے باعث، امریکا مکمل جمہوری آزادی کے حامل ملک [مزید پڑھیے]

بنگلادیش: جابرانہ آمریت کی طرف ایک اور قدم

March 1, 2018 // 0 Comments

خالدہ ضیاء گزشتہ ایک دہائی سے عدالتوں کا سامنا کرر ہی ہیں۔ ان کے خلاف ۳۷ مختلف مقدمات تھے، جن میں سے ایک اہم مقدمہ ۱۹۹۱ء سے ۱۹۹۶ء اور ۲۰۰۱ء سے ۲۰۰۶ء تک بحیثیت وزیراعظم اختیارات کا غلط استعمال اور بد عنوانی کے الزام کے حوالے سے ہے۔ ۸ فروری کو سنایا جانے والا یہ عدالتی فیصلہ تاریخی ہے۔ خالدہ ضیا، جو بنگلادیش نیشنل پارٹی (BNP) کی سربراہ ہیں، کو ۱۹۹۱ء میں اپنے مرحوم شوہر ضیاء الرحمٰن (جوشیخ مجیب کے خلاف ہونے والی بغاوت کے قا ئدتھے اور شیخ مجیب کو صدارت سے ہٹانے کے بعد ملک کے صدر بنے اوربعد میں خود بھی ایک بغاوت کے نتیجے میں قتل ہوئے) کی یاد میں قائم یتیموں کے ایک ٹرسٹ سے رقم خوردبردکرنے کے الزام میں۵ [مزید پڑھیے]

بنگلادیش گلوبل راڈار سے غائب

November 16, 2016 // 0 Comments

بنگلادیش کو قائم ہوئے کم و بیش ۴۴ سال ہوچکے ہیں مگر اب تک اس کی معیشت اور معاشرت نے مجموعی طور پر وہ کیفیت اختیار نہیں کی ہے، جس کی بنیاد پر کہا جاسکے کہ وہ ایک بھرپور اور کامیاب ملک ہے۔ آیے، شرحِ پیدائش، انسانی وسائل اور میڈیا کی آزادی کے حوالے سے بنگلادیش کے اب تک کے سفر کا جائزہ لیں۔

بنگلادیش کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ایک طرف معیشت کی خرابی ہے اور دوسری طرف معاشرت کی بگڑتی ہوئی کیفیت۔[مزید پڑھیے]

مولانا مطیع الرحمن نظامی شہید سے اہلِ خانہ کی آخری ملاقات

June 1, 2016 // 1 Comment

بنگلادیش کی پارلیمنٹ کے سابق رکن، سابق مرکزی وزیر زراعت، بندرگاہ اور صنعت، بنگلادیش جماعت اسلامی کے امیر، مولانا مطیع الر حمن نظامی کو شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی شیخ حسینہ کی سیکولر حکومت نے ۱۰مئی ۲۰۱۶ء کو پھانسی دے دی۔ شہید کے گھر والوں سے الوداعی ملاقات کی تفصیل ملاحظہ کیجیے۔ یہ ملاقات ڈھاکا سینٹرل جیل میں ۱۰مئی کو آٹھ بجے شب کروائی گئی۔ یہ تحریر مولانا کے تیسرے بیٹے ڈاکٹر نعیم الرحمن کی ہے، جو خود اس ملاقات میں موجود تھے۔ ملاقات کے کچھ ہی دیر بعدمولانا کو پھانسی دے دی گئی۔ (ادارہ)[مزید پڑھیے]

1 2 3 8