Abd Add
 

چاہ بہار

چاہ بہار: غرق ہوتی بھارتی اُمیدیں!

January 1, 2019 // 0 Comments

ایران کو مزید بیلسٹک میزائل تجربات سے روکنے کے لیے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے جان سی سٹینس کی خلیج آمد سے امکان ہے کہ چاہ بہار بندرگاہ کو امریکی پابندیوں سے استثنیٰ دلانے کی بھارتی امیدیں دم توڑ جائیں گی۔ اس بندرگاہ نے وسط ایشیائی ریاستوں اور بھارت کے مربوط معاشی روابط میں معاون کا کردار ادا کرنا تھا یہ بحری بیڑہ ایسے وقت خلیج پہنچا جب ٹرمپ انتظامیہ ۲۰۱۵ء کی نیوکلیئر معاہدہ سے علیحدگی کے بعد ایران پر سخت معاشی پابندیاں عائد کر چکی ہے، جس سے ممکنہ فوجی محاذ آرائی کا خطرہ بہت بڑھ چکا ہے۔ بیڑے کی دو ماہ کے لیے آمد کے ساتھ ہی چاہ بہار میں پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ ہوا جس میں ۲؍افراد ہلاک ۴۰ [مزید پڑھیے]

چاہ بہار ۔ گوادر تقابل، تناظر کیا ہے؟

July 16, 2016 // 0 Comments

ایران،انڈیا اور افغانستان نے جس دن سے چاہ بہار معاہدے پر دستخط کیے ہیں،بھارتی،وسط ایشیائی اور پاکستانی میڈیا ایک ہذیانی کیفیت کا شکار ہے،کہیں خوف نے ڈیرا جمایا ہوا ہے تو کہیں خوشیوں کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ساری کہانی کو ایک رخ دے دیا گیا ہے کہ بھارت گوادر بندرگاہ کا مقابلہ چاہ بہار کی بندر گاہ سے کرے گا۔لیکن کوئی یہ سوال نہیں کرتا کہ مقابلہ کس تناظر میں ہو گا؟؟ چند سال قبل جب بھارت کی چاہ بہار میں دلچسپی کاغذات کی حد تک تھی اور چائنا پاکستان اقتصادری راہداری کا بھی کوئی وجود نہ تھا،دہلی کے انسٹی ٹیوٹ برائے دفاعی تجزیے ومطالعہ نے خبردار کیا تھا کہ’’گوادر کی بندرگاہ آبنائے ہرمز کے اتنا قریب ہے کہ اس کے اثرات بھارت پر [مزید پڑھیے]