Abd Add
 

چیچنیا

رمضان قادروف اور چیچنیا کا منظرنامہ

November 1, 2010 // 0 Comments

یہ منظر چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی کا ہے۔ ایک بڑی گاڑی گزر رہی ہے جس میں سے چند بڑی گنوں کی نالیاں جھانک رہی ہیں۔ سڑک پر چند خواتین چل رہی ہیں جنہوں نے اسکرٹس پہن رکھے ہیں اور سروں پر اسکارف بھی نہیں۔ اچانک فائر کھول دیا جاتا ہے۔ سڑک پر بھگدڑ مچ جاتی ہے۔ ہر طرف بدحواسی ہے۔ کیمرہ دکھاتا ہے کہ گاڑی جاچکی ہے اور خواتین تحفظ کے لیے ایک دکان میں داخل ہو رہی ہیں۔ چیچنیا میں اسلام کو بزور نافذ کرنے کے خواہش مند عناصر ایک بار پھر سرگرم دکھائی دہے رہے ہیں۔ چیچنیا کے صدر رمضان قادروف نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے نام پر غیراسلامی شعائر کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے۔ دی سینٹر فار مورل اینڈ [مزید پڑھیے]

اسلان مسخادوف: چیچنیا کی آزادی کا عظیم رہنما

March 16, 2005 // 0 Comments

چیچنیا کی آزادی اور اسے سابق سوویت یونین اور (اس کے ٹکڑے ہو جانے کے بعد) روس سے نجات دلانے کی تاریخ جب مرتب کی جائے گی تو اس میں اسلان مسخادوف کا نام سرفہرست ہو گا۔ برسوں سے جاری جدوجہدِ آزادی میں جو اور دو نام ابھرتے ہیں‘ وہ دوایف اور شامیل بسائیف کے ہیں۔ دودایف کو روسی فوجوں نے جو مسلسل اس کے تعاقب میں تھیں‘ ایک موبائل فون پر اس (دودایف) کی گفتگو کے دوران سٹیلائٹ سے پتا چلا کہ میزائل اور راکٹوں سے حملہ کیا اور اس کا خاتمہ کر دیا۔ چیچن عوام اپنے لیے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں‘ وہ سابق سوویت یونین اور موجودہ روس کی حکمرانی سے نالاں ہیں۔ انصاف سے محرومی اور عوام کو بے وطنی [مزید پڑھیے]

فلسطین‘ عراق اور افغانستان کا دشمن ایک ہی ہے!

November 1, 2004 // 0 Comments

اس وقت ساری دنیا کمزوری و بے بسی اور بزدلی و بے حمیتی کے طعنے خاموشی سے سنتے ہوئے الزامات کے کٹہرے میں سرجھکائے کھڑی ہے۔ اس کے تمام حواس کے احساسات جامد ہو گئے ہیں۔ گویا اس کی کیفیت یہ ہے کہ نہ میں سن سکتا ہوں‘ نہ دیکھ سکتا ہوں اور نہ بول سکتا ہوں۔ لاپتا ہو جانے اور اغوا کر لیے جانے والے بے بس انسانوں کی چیخیں بلند ہوتی ہیں‘ تشدد سے دوچار مجبوروں کی سسکیاں آسمانوں تک پہنچتی ہیں‘ مگر انہیں اپنی ہی صداے بازگشت کے سوا کہیں سے کوئی جواب نہیں ملتا۔ بدترین خاموشی اور مایوس کن نظروں نے زبانوں کو گنگ کر رکھا ہے۔ فلسطین کے شہر غزہ میں یہودیوں کے راکٹ گرجتے اور عراق و افغانستان میں [مزید پڑھیے]

چیچنیا جنگِ آزادی کی خونچکاں داستان

June 1, 2004 // 0 Comments

گزشتہ ۹ مئی کو چیچنیا کے صدر احمد قادروف کی بارودی سرنگ کے دھماکے میں ہلاکت نے ایک بار پھر چیچنیا کی جنگِ آزادی کو عالمی میڈیا کا موضوع بنا دیا ہے۔ قادروف کے قتل کے چند روز بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چیچنیا کا اچانک دورہ کر کے وہاں مزید روسی فوجی بھیجنے کی اپیل کی‘ جس کا مطلب صاف ہے کہ اس اسلامی جمہوریہ میں مسلمانوں کا مزید خون بہایا جائے گا۔ چیچنیا میں روسی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کی مسلح جدوجہد کا دوسرا دور پانچویں سال میں داخل ہو چکا ہے۔ اس لڑائی میں چیچن مسلم آبادی کے انسانی حقوق کی جس بڑے پیمانے پر پامالی کی گئی ہے‘ اس کی مثال حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ امریکی درندے تو [مزید پڑھیے]