Abd Add
 

چین امریکا تعلقات

نریندر مودی اور زی جن پنگ کا دورۂ امریکا

November 1, 2015 // 0 Comments

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی خود کو یہ باور کراچکے ہیں کہ ’’جو کچھ زی جِن پِنگ کرسکتے ہیں، وہ سب مَیں اُن سے بہتر کر سکتا ہوں‘‘۔ اور اسی یقین کے زیرِ اثر وہ بھی چینی صدر کے پیچھے پیچھے رواں برس ستمبر میں امریکا جا پہنچے۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے دورۂ امریکا کا آغاز مغربی ساحلی ریاستوں سے کیا، جہاں وہ صفِ اول کی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے مختلف اجلاسوں سے خطاب کیے اور امریکا کے صدر براک اوباما سے ملاقاتیں کی۔ لیکن دونوں رہنماؤں کے اس دورے کی خاص بات یہ تھی کہ دونوں نے اپنے ان دوروں کو اپنے اور امریکا، دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان [مزید پڑھیے]

ویتنام جنگ: ۴۰ سال بعد خطہ میں ’’امریکی آرڈر‘‘ کو خطرہ

May 16, 2015 // 0 Comments

اپریل اور مئی ۱۹۷۵ء میں انڈو چائنا میں رونما ہونے والے واقعات کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا کہ ایشیا اور پیسیفک میں ناقابلِ چیلنج امریکی اجارہ داری کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ کمبوڈیا خمیری گوریلا فوج کے ہاتھوں میں چلا گیا تھا، جنوبی ویتنام کو شمالی ویتنام نے اپنے اندر سمو لیا تھا اور لاؤس میں طاقت کمیونسٹوں کے پاس چلی گئی تھی۔ سائیگون (موجودہ ہو چن من سٹی) میں امریکی سفارت خانے کی چھت سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے عملے کے انخلا کی مقبولِ عام تصاویر دنیا میں قیامت خیز تبدیلی کو ظاہر کرتی تھیں۔ سپرپاور کو ہزیمت اٹھانا پڑی تھی اور وہ خستہ سامانی کی حالت میں اس خطہ سے پسپا ہو رہی تھی۔ البتہ آج چالیس سال بعد جب ویتنام اپنی [مزید پڑھیے]

تبت چین اور امریکا ۔۔۔ اُجالوں کی طرف؟

August 1, 2011 // 0 Comments

چین کے ممکنہ لیڈر شی جنپنگ نے حال ہی میں تبت کے دارالحکومت لہاسہ میں دلائی لامہ کی سابق سرکاری رہائش پوٹالا پیلیس کے باہر ایک شاندار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین نے تبت کو اندھیروں سے نکال کر اجالوں تک پہنچایا ہے۔ اگر مادی اعتبار سے دیکھا جائے تو بات غلط نہیں۔ ۱۹۵۱ء میں دلائی لامہ نے چین سے ایک سترہ نکاتی معاہدہ کیا جس کے تحت تبت پر چین کا اختیار قائم ہوا۔ تب سے اب تک تبت کے باشندوں نے مجموعی طور پر بہتر انداز کی زندگی بسر کی ہے۔ تبت ایک پیچیدہ معاشرہ تھا جس میں سب کچھ آسان نہ تھا۔ پورے علاقے میں خانقاہوں کا جال بچھا ہوا تھا اور ہر طرف روایت پرستی کا راج تھا۔ [مزید پڑھیے]

افریقا کی غربت

July 16, 2005 // 0 Comments

افریقا کی غربت ٭ G-8 ممالک کے سربراہوں کے حالیہ اجلاس نے بالآخر افریقا کی غربت دور کرنے کے لیے دی جانے والی امدادی رقم کو دوگنا کر کے ۵۰ بلین ڈالر سالانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٭ اس اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ایک ’’آزاد فلسطینی ریاست‘‘ کی تشکیل کے لیے ۳ بلین ڈالر دیے جائیں گے۔ (بِلین کا مطلب پورا ایک ارب ہے)۔ ٭ چین کے سرکاری پریس کے مطابق چین امریکا باہمی تجارت میں امسال ۱۰۰ بلین ڈالر کی اضافی آمدنی (Surplus) چین کے حصے میں آئے گی۔ ٭ امریکا کے نیشنل کائونٹر ٹیرراِزم سینٹر کے مطابق سال ۲۰۰۴ء میں ’’دہشت گردانہ حملوں‘‘ کی تعداد ۳۱۹۲ تھی۔ ٭ اس رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں ۴۳۳,۲۸ افراد زخمی‘ اغوا یا ہلاک [مزید پڑھیے]