چین

چین میں قیادت کی تبدیلی

October 1, 2017 // 0 Comments

چین میں جب موسم گرما اپنے جوبن پر آتا ہے، یعنی اگست کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو یہاں کی سیاسی اشرافیہ ساحل سمندر کا رخ کرتی ہے۔ جہاں وہ اپنے پسندیدہ موضوع حکومتی جماعت ’’کمیونسٹ پارٹی‘‘ کے مستقبل پر بحث و مباحثہ کرتی ہے۔ ماؤزے تنگ کے دور سے سالانہ بنیادوں پر ہونے والا یہ انتہائی خفیہ اجلاس اس سال بیجنگ سے تقریبا۱۷۵ میل کے فاصلے پرساحلی شہر Beidaihe میں منعقد کیا جا رہا ہے۔یہ سال پچھلے سالوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔کیوں کہ اس سال ملک کی طاقتور ترین سات رکنی’’پولٹ بیورو اسٹینڈنگ کمیٹی‘‘ کے پانچ ارکان ریٹائر ہونے جا رہے ہیں۔ اس بڑے پیمانے کی تبدیلیاں دس سال میں دو دفعہ ہوتی ہیں۔ صدر شی جن پنگ کے لیے یہ [مزید پڑھیے]

چین کے خلاف چُنی جانے والی دیوار

June 16, 2017 // 0 Comments

چین کی ابھرتی ہوئی قوت اگر کسی سے نہیں دیکھی جارہی تو وہ بھارت ہے۔ اِدھر چین چاہتا ہے کہ ایشیا کو کسی نہ کسی طور ایک بھرپور بلاک کی شکل میں عالمی معیشت کے بڑے عنصر کے طور پر سامنے لائے اور دوسری طرف نئی دہلی کے پالیسی ساز چاہتے ہیں کہ چین کی قوت میں اضافے کی رفتار روکی جائے۔ سوال چین کی ترقی روکنے کا ہے مگر اِس کے نتیجے میں خود بھارتی ترقی بھی متاثر ہوسکتی ہے مگر فی الحال اس کا خیال کسی کو نہیں۔ بھارت نے جنوب مشرقی ایشیا کے چند ممالک کے ساتھ مل کر چین کے خلاف اتحاد بنانے کی سمت پیش قدمی شروع کردی ہے۔ سنگا پور کے ساتھ حالیہ فوجی مشقیں اِسی سلسلے کی ایک [مزید پڑھیے]

’’چینی بیلٹ اور روڈ: نیا نام، وہی شبہات‘‘

June 16, 2017 // 0 Comments

بیجنگ شاہراہِ ریشم پر ہونے والے اقدامات پر نیا بیانیہ تیار کررہا ہے۔ مگر وہ شکوک و شبہات کو دور کرنے میں ناکام ہے۔ چین نے شاہراہ ریشم پر جب پہلی کانفرنس (Summit) کی میزبانی کی تو ۱۴،۱۵ مئی کو تومہمانوں کی فہرست میں اعلیٰ مناصب پر فائزحکام کے نام شامل تھے۔ ان میں اقوام متحدہ، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، یورپ کے صف اول کے ممالک اور یہاں تک کہ امریکا بھی۔ غرض ۱۰۰ ممالک کے ۱۰۰۰ مندوبین اس کانفرنس کا حصہ بنے۔ اس کانفرنس کا مقصد ان تمام معاملات پر گفتگو کرنا تھا جو شاہراہ ریشم کے حوالے سے ضروری تھے۔ ایشیا سے یورپ اور یورپ سے افریقا تک تمام ممالک اس پر تقسیم ہیں کہ چین کی جانب سے ۲۰۱۳ء میں نئی [مزید پڑھیے]

شاہراہِ ریشم کا احیاء: امکانات اور خدشات

May 1, 2017 // 0 Comments

ستمبر ۲۰۱۳ء میں قزاقستان کے دورے میں چین کے صدر شی جن پنگ نے قدیم سلک روٹ (شاہراہِ ریشم) کے احیاء سے متعلق خواب اور جذبے کو بے نقاب کیا۔ یہ خواب پورے وسط ایشیا کو ایک لڑی میں پرونے سے متعلق ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر سلک روڈ اکنامک بیلٹ SREB کی بات کہی۔ یہ آئیڈیا وسط ایشیا کے ممالک کو ایک لڑی میں پروکر ایشیا و بحرالکاہل کے خطے اور یورپ میں ابھرنے والے غیر معمولی معاشی امکانات کو حقیقت کی شکل دینے کے لیے تھا۔ اکتوبر ۲۰۱۳ء میں صدر شی جن پنگ نے اپنے انڈونیشیا کے دورے میں میری ٹائم سلک روڈ آف دی ٹوئنٹی فرسٹ سینچر MSR کا آئیڈیا پیش کیا۔ بیلٹ اور روڈ دونوں کا آئیڈیا ایک ہوکر پورے [مزید پڑھیے]

چین، جنوبی کوریا کے خلاف عوام کو مشتعل کر رہا ہے!

May 1, 2017 // 0 Comments

اس ہفتے کے آغاز سے ہی بیجنگ کی ڈسٹرکٹ ویجنگ کے شاپنگ مالز ’’لاٹے‘‘ میں ایک سکوت طاری ہے،مارکیٹ میں اکا دکا خریدار ہی نظر آرہے ہیں، خریدار اس وقت سے خوف کے حصار میں نظر آرہے ہیں جب سے انھوں نے سنا ہے کہ جنوبی کوریا نے ایک معاہدہ کے تحت امریکا کو میزائل مدافعتی نظام نصب کرنے کی اجازت دے دی ہے۔چین کی حکومت عوام کو جنوبی کوریا کے خلاف مشتعل کرنے کی ذمہ دار ہے، نہ صرف چین میں موجود جنوبی کوریا کی دکانوں کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے بلکہ جو کچھ بھی جنوبی کوریا کے خلاف کیاجاسکتا ہے وہ سب کچھ چین کررہا ہے۔ چین قوم پرستی کو اپنے مفادات پورے کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ۲۰۱۲ء میں صدر ژی [مزید پڑھیے]

چین کے رہنماؤں کی پریشانی کی، ۲۲۵ ملین وجوہات!

August 16, 2016 // 0 Comments

نوے کے عشرے میں چین میں متوسط طبقے پر مشتمل آبادی بہت کم تھی، ۲۰۱۱ء میں صرف ۵ملین گھرانوں کی ۱۱ ہزار ۵۰۰ ڈالر سے ۴۳ ہزار ڈالر کے درمیان سالانہ آمدنی تھی، آج ان گھرانوں کی تعداد ۲۲۵ملین تک پہنچ گئی ہے۔۲۰۲۰ء میں چین میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانوں کی تعداد یورپ کے متوسط طبقے کی آبادی سے زیادہ ہوگی۔اس شاندار ترقی نے پوری دنیا میں چین کی اہمیت واضح کردی ہے اور چین اب تبدیل ہوچکا ہے۔دھان کے کھیتوں کے درمیان بنے ہوئے راستے فلک بوس عمارتوں تک جاتے ہیں اورلاتعداد موٹر سائیکلیں ٹریفک جام کردیتی ہیں یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ مستقبل میں یہ قوم مزید ترقی کرے گی۔ ۲۰۱۵ء میں چین کے لوگوں نے بیرون ملک ۱۲۰ [مزید پڑھیے]

1 2 3