Abd Add
 

چین

چین کے رہنماؤں کی پریشانی کی، ۲۲۵ ملین وجوہات!

August 16, 2016 // 0 Comments

نوے کے عشرے میں چین میں متوسط طبقے پر مشتمل آبادی بہت کم تھی، ۲۰۱۱ء میں صرف ۵ملین گھرانوں کی ۱۱ ہزار ۵۰۰ ڈالر سے ۴۳ ہزار ڈالر کے درمیان سالانہ آمدنی تھی، آج ان گھرانوں کی تعداد ۲۲۵ملین تک پہنچ گئی ہے۔۲۰۲۰ء میں چین میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانوں کی تعداد یورپ کے متوسط طبقے کی آبادی سے زیادہ ہوگی۔اس شاندار ترقی نے پوری دنیا میں چین کی اہمیت واضح کردی ہے اور چین اب تبدیل ہوچکا ہے۔دھان کے کھیتوں کے درمیان بنے ہوئے راستے فلک بوس عمارتوں تک جاتے ہیں اورلاتعداد موٹر سائیکلیں ٹریفک جام کردیتی ہیں یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ مستقبل میں یہ قوم مزید ترقی کرے گی۔ ۲۰۱۵ء میں چین کے لوگوں نے بیرون ملک ۱۲۰ [مزید پڑھیے]

نریندر مودی اور زی جن پنگ کا دورۂ امریکا

November 1, 2015 // 0 Comments

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی خود کو یہ باور کراچکے ہیں کہ ’’جو کچھ زی جِن پِنگ کرسکتے ہیں، وہ سب مَیں اُن سے بہتر کر سکتا ہوں‘‘۔ اور اسی یقین کے زیرِ اثر وہ بھی چینی صدر کے پیچھے پیچھے رواں برس ستمبر میں امریکا جا پہنچے۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے دورۂ امریکا کا آغاز مغربی ساحلی ریاستوں سے کیا، جہاں وہ صفِ اول کی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے مختلف اجلاسوں سے خطاب کیے اور امریکا کے صدر براک اوباما سے ملاقاتیں کی۔ لیکن دونوں رہنماؤں کے اس دورے کی خاص بات یہ تھی کہ دونوں نے اپنے ان دوروں کو اپنے اور امریکا، دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان [مزید پڑھیے]

غیر سرکاری تنظیمیں: غیر مہذب معاشرہ

October 16, 2015 // 0 Comments

حال ہی میں اشتراکی جماعت تجاویز کا ایک پلندہ سامنے لائی ہے، جس کا مقصد اقتدار پر اپنی اجارہ داری کو درپیش چیلنجوں کی روک تھام کرنا ہے۔ یکم جولائی کو قومی سلامتی سے متعلق ایک قانون منظور ہوا، جس نے دشمن عناصر سے ملک کو بچانے کے لیے ’ہر ممکن اقدام‘ اٹھانے کی منظوری دی۔ اب غیر حکومتی تنظیموں (این جی اوز) کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے آئندہ چند ہفتوں میں چین میں اپنی نوعیت کے پہلے قانون کا مسودہ لایا جا رہا ہے۔ اس قانون کو غیر حکومتی تنظیموں کی طرف سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری خیال کیا جارہا ہے۔ مجوزہ قانون محدود پیش رفت اور ایک حساس مسئلے پر جماعت کی پالیسی میں تخفیف کو ظاہر [مزید پڑھیے]

چین اور مشرقِ وسطیٰ

July 16, 2015 // 0 Comments

سیکڑوں برسوں تک مسافر قاہرہ کے روایتی بازار خان الخلیلی کی چکر دار گلیوں میں قالینوں، زیورات، مسالوں اور تانبے کی بنی اشیاء پر بھاؤ تاؤ کرتے رہے۔ آج ان اشیاء کا دستکاری کے کسی مقامی کارخانے کی بہ نسبت چین کی کسی فیکٹری میں بڑے پیمانے پر تیار ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ چین اور مشرقِ وسطیٰ کے بڑھتے تعلقات میں تجارت کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ گزری دہائی میں اس میں ۶۰۰ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور ۲۰۱۴ء میں یہ ۲۳۰؍ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ بحرین، مصر، ایران اور سعودی عرب سب سے زیادہ چین سے مال درآمد کرتے ہیں۔ ایران، عمان اور سعودی عرب سمیت خطے کے کئی ممالک کی سب سے بڑی برآمدی منڈی بھی چین ہے۔ اپریل [مزید پڑھیے]

1 2 3 4 5 6