Abd Add
 

چین

چین اور مشرقِ وسطیٰ

July 16, 2015 // 0 Comments

سیکڑوں برسوں تک مسافر قاہرہ کے روایتی بازار خان الخلیلی کی چکر دار گلیوں میں قالینوں، زیورات، مسالوں اور تانبے کی بنی اشیاء پر بھاؤ تاؤ کرتے رہے۔ آج ان اشیاء کا دستکاری کے کسی مقامی کارخانے کی بہ نسبت چین کی کسی فیکٹری میں بڑے پیمانے پر تیار ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ چین اور مشرقِ وسطیٰ کے بڑھتے تعلقات میں تجارت کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ گزری دہائی میں اس میں ۶۰۰ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور ۲۰۱۴ء میں یہ ۲۳۰؍ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ بحرین، مصر، ایران اور سعودی عرب سب سے زیادہ چین سے مال درآمد کرتے ہیں۔ ایران، عمان اور سعودی عرب سمیت خطے کے کئی ممالک کی سب سے بڑی برآمدی منڈی بھی چین ہے۔ اپریل [مزید پڑھیے]

اقتصادی شعبے میں چین امریکا محاذ آرائی

May 16, 2015 // 0 Comments

ترقیاتی شعبے میں سرمایہ کاری سے چین کے دوستوں میں اضافہ اور امریکی اتحادیوں پر بیجنگ کا اثر و رسوخ بڑھنے لگا ہے۔ امریکا اور چین کے درمیان رقابت نے کئی صورتیں اختیار کی ہیں۔ کبھی کبھار ہی کسی کو واضح برتری حاصل ہوتی ہے۔ لیکن نئے ایشین انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ (اے آئی آئی) بینک کے قیام کے لیے چین کی کوششوں سے ایک بار پھر تصادم کی فضا پیدا ہوئی ہے۔ چین ایشیا ہی نہیں، یورپ میں بھی امریکا کے اتحادیوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ ایسے میں امریکا کا رویہ نامناسب اور غیر متاثرکن رہا۔ برطانیہ اور پھر فرانس، جرمنی اور اٹلی نے گزشتہ ماہ اعلان کیا کہ وہ بانی شراکت دار کی حیثیت سے اس بینک کا حصہ بنیں گے۔ [مزید پڑھیے]

چین کی نیشنل پیپلز کانگریس ۔۲۰۱۵ء

April 1, 2015 // 0 Comments

چین میں بارہویں نیشنل پیپلز کانگریس کا تیسرا اجلاس پانچ مارچ ۲۰۱۵ء کو بیجنگ میں ہوا۔ حکومت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ اس اجلاس میں پیش کی گئی۔ وزیراعظم لی کی چیانگ نے کانگریس سے خطاب میں کہا کہ چین نئے معیارات کے مطابق آگے بڑھے گا۔ جس کا مطلب ہے چین کی سست رفتار ترقی کو معمول پر لانا۔ چین کی حکومت کا منصوبہ یہ ہے کہ شرحِ نمو (جی ڈی پی) کو کم کر کے سات فی صد کی سطح پر لایا جائے۔ (دوہزار چودہ کے منصوبے میں جی ڈی پی سات اعشاریہ پانچ فی صد تھا)۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت ملک میں ماحولیاتی آلودگی جیسے بڑے مسائل سے نمٹنے پر توجہ دے رہی ہے۔ حکومت کی سالانہ رپورٹ میں لفظ بدعنوانی آٹھ [مزید پڑھیے]

کیا چین قدامت پسند ہو رہا ہے؟

March 1, 2015 // 0 Comments

چین نئے قمری سال کا جشن منا رہا ہے اور اس سال بھی عالمی معیشت پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی جانب اپنا سفر جاری رکھ سکتا ہے۔ لیکن ملک کی قیادت کے لیے ایک اہم بحث یہ ہے کہ دنیا چین کو کس قدر متاثر کر رہی ہے۔ ایسے اشاروں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین مزید قدامت پرست ہو رہا ہے۔ ۲۰۱۲ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے صدر شی جن پنگ ملک کے انتظامات چلانے کے معاملے میں اختیارات اپنے ہاتھ میں قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اپنے ’چین کا خواب‘ کا تصور پیش کر چکے ہیں، انہوں نے کرپشن کے خلاف لگاتار مہم چلائی اور اس بات پر زور دیا [مزید پڑھیے]

چین کی نئی شاہراہِ ریشم

January 1, 2015 // 0 Comments

چین کے صدر شی جن پنگ نے چین کی پرانی شاہراہِ ریشم کو بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سڑکوں کا نیا جال بچھانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ نئی تجارتی سہولتوں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ ہائی اسپیڈ ریل روڈ کے علاوہ نئی پائپ لائنیں ڈالی جارہی ہیں، نئی بندرگاہیں تعمیر کی جارہی ہیں۔ وسطی ایشیا سے وسطی چین اور مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ساحل سے بحری راستہ اور یُنان سے بیرونی راستہ بحال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

چین میں مذہب کا بڑھتا رجحان

December 16, 2014 // 0 Comments

چین میں عیسائیت کا فروغ اس قدر تیز ہے کہ حکومت اسے کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ کل تک عیسائی خوفزدہ تھے مگر اب نہیں۔ اب وہ اپنی مذہبی وابستگی کا کھل کر اظہار کرتے ہیں۔ سرکاری گرجا گھروں کے مقابلے میں گھروں میں قائم گرجا گھروں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ عیسائی اب معاشرے میں اپنی شناخت کھل کر ظاہر کرتے ہیں اور زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چین میں عیسائیت کا معاملہ اب اتنا بڑھ گیا ہے کہ مرکزی کمیونسٹ پارٹی کی صفیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

ہانگ کانگ: کمیونسٹ پارٹی اور عوام، مدمقابل

November 1, 2014 // 0 Comments

ہانگ کانگ کی احتجاجی تحریک،جسے چھتریوں والے انقلاب کا نام دیا جارہا ہے،اس وقت شروع ہوئی جب اگست کے آخر میں چین نے فیصلہ کیا کہ ہانگ کانگ کے لیے چیف ایگزیکٹو کا انتخاب کمیونسٹ پارٹی کے حامیوں پرمشتمل ایک کمیٹی کرے گی۔مظاہرین کا موقف ہے کہ ہانگ کانگ میں حقیقی جمہوریت کا وعدہ پورا کیا جائے، جو حکمراں کمیونسٹ جماعت نے ۱۹۹۷ء میں برطانیہ سے ہانگ کانگ کے حصول کے وقت کیا تھا۔

جنوبی ایشیا میں چین کی پیش قدمی!

October 1, 2014 // 0 Comments

مالدیپ کے بعد شی جن پنگ سری لنکا گئے۔ وہاں ان کا شاندار خیرمقدم کیا گیا۔ ۱۶ ستمبر کو کولمبو میں اسکول کے ہزاروں طلبا و طالبات نے سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر چینی صدر کو خوش آمدید کہا۔ چینی صدر کے استقبال کی تیاریوں کے وقت یہ بات ملحوظ رکھی گئی تھی کہ ہاتھی اُن کا پسندیدہ جانور ہے، اِس لیے ۴۰ ہاتھیوں کو سجاکر سڑکوں پر لایا گیا تھا۔

1 2 3 4 5