Abd Add
 

چین

شی جن پنگ چین کے نئے صدر منتخب

March 16, 2013 // 0 Comments

چین کی پارلیمان نے ۵۹ سالہ شی جن پنگ (Xi Jin Ping) کو دس سال کے لیے نیا چینی صدر منتخب کرلیا ہے۔ شی جن پنگ نے ۴ ماہ قبل کمیونسٹ پارٹی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ چین کے عوامی ’’کورونوس گریٹ ہال‘‘ میں ۳۰۰۰ افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ یہ لوگ سرخ رنگ کا بیلٹ پیپر، سرخ رنگ کے جھنڈے کے سامنے رکھے سرخ بیلٹ باکس میں ڈال رہے تھے۔ نتائج غیر یقینی نہیں تھے، یعنی شی جن پنگ نے ۲۹۵۲ ووٹ حاصل کیے، صرف ایک ووٹ ہی مخالفت میں ڈالا گیا۔ اس طرح نتائج کی شرح ۸۶ء۹۹ فیصد تھی۔ لی ین شان (Liu Yunshan) جو پارلیمان کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، نے شی جن پنگ کی صدارت کا اعلان [مزید پڑھیے]

چین میں خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی پر نظرثانی

November 16, 2012 // 0 Comments

دی کرسچین سائنس مانیٹر (۲ نومبر ۲۰۱۲ئ) کی ایک رپورٹ کے مطابق چین میں خاندانی منصوبہ بندی کے تحت برسوں پہلے اختیار کی جانے والی ’ایک ہی بچہ بس‘ کی پالیسی پر نظرثانی کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ چین کے پالیسی ساز اس پر نہایت سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور سرکاری رجحان ساز ادارے (تھنک ٹینکس) حکومت کو یہ مشورہ دے رہے ہیں اُس کو اب اس پالیسی کی حمایت و سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لینا چاہیے۔ اس ادارے کی طرف سے یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ حکومت کو اس معاملے میں اب نرمی سے کام لینا شروع کر دینا چاہیے، انہیں اس کا احساس ہے کہ یکبارگی اسے ختم کرنا تو مشکل ہے لیکن اس سے پہلوتہی یا اسے نظرانداز [مزید پڑھیے]

بحیرۂ جنوبی چین کا تنازع

March 16, 2012 // 0 Comments

پہلی جنگ عظیم میں جرمنی میدان جنگ بنا تھا۔ کئی ممالک کی افواج نے جرمن سرزمین پر اپنا ہنر آزمایا اور پھر یہ لڑائی کئی ملکوں پر پھیلی۔ یہی حال بحیرہ جنوبی چین کا بھی ہے۔ اس خطے میں کئی ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہو رہے ہیں۔ سمندری حدود کے تنازعے سے لے کر سمندر کی تہہ میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر پر ملکیت کے دعوے تک کئی ممالک بظاہر جنگ لڑنے تک پہنچ چکے ہیں۔

واحد اور تنہا

August 1, 2011 // 0 Comments

چین کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے نے فی گھرانا ایک بچے کی سرکاری پالیسی پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں آبادی کا توازن بگڑ رہا ہے۔ ایک طرف تو شرح پیدائش کم ہو رہی ہے اور کام کرنے والوں کی کمی واقعی ہو رہی ہے اور دوسری طرف معمر افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس سے معیشت پر دباؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ چین میں فی گھرانا ایک بچے کی پالیسی ایک نسل قبل نافذ کی گئی تھی اور تب سے اب تک اس پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ اب تک یہ تنقید علمی سطح پر ماہرین کے بیانات تک محدود رہی ہے مگر اب سرکاری اور عوامی [مزید پڑھیے]

’’چینی ین‘‘ عالمی کرنسی بننے کے قریب

April 16, 2011 // 0 Comments

یہ الفاظ ’’ڈالر بطور عالمی کرنسی ماضی کا حصہ ہے!‘‘ چین کے صدر ہوجن تائو نے ’’وال اسٹریٹ جنرل‘‘ کو ایک انٹرویو میں کہے تھے۔ کسی بھی ملک کا کسی دوسرے بلکہ اپنے حریف ملک کے بارے میں کھلے انداز میں ایسی بات کرنا معنی رکھتی ہے۔ دنیا میں سپر پاور کے لیے دفاعی صلاحیت کا مضبوط ہونا ضروری تو ہے مگر سب سے اہم نہیں، کیونکہ معاشی ترقی و استحکام کے بغیر کوئی بھی ریاست سپر پاور کی حیثیت حاصل نہیں کر سکتی اس کی وجہ اس کی دفاعی طاقت نہیں بلکہ اس کی مضبوط اقتصادیات ہوتی ہیں۔ جب سوویت جنگ کی وجہ سے روس کی معیشت تباہ ہوئی تو نہ صرف روس کمزور ہوا بلکہ تحلیل بھی ہوگیا۔ چین ہر لحاظ سے دنیا [مزید پڑھیے]

شی جن پنگ: چین کے ممکنہ نئے قائد!

December 16, 2010 // 0 Comments

شی جن پنگ (Xi Jinping) تیزی سے ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ وہ جب ایک صوبے کے گورنر تھے اور کم ہی لوگ ان سے واقف تھے تب انہوں نے ایک میٹنگ کے دوران کہا تھا کہ کبھی کبھی سنجیدگی ظاہر کرنے کے لیے ’’میز بجانا، نہ بجانے سے بہتر ثابت ہوتا ہے‘‘۔ اب وہ چین کے نائب صدر ہیں۔ ان کی مقبولیت میں مستحکم رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے تاہم اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے انہیں محض میز بجانے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ۱۸؍اکتوبر کو اعلان کیا گیا کہ شی جن پنگ ملک کے نئے سربراہ ہوں گے۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی اس تجویز پر غور کرتی رہی ہے کہ لیڈر کے انتخاب کے لیے کھلی مسابقت اپنائی جائے تاہم شی [مزید پڑھیے]

1 2 3 4 5 6