Abd Add
 

شاہراہِ ریشم

’’چینی بیلٹ اور روڈ: نیا نام، وہی شبہات‘‘

June 16, 2017 // 0 Comments

بیجنگ شاہراہِ ریشم پر ہونے والے اقدامات پر نیا بیانیہ تیار کررہا ہے۔ مگر وہ شکوک و شبہات کو دور کرنے میں ناکام ہے۔ چین نے شاہراہ ریشم پر جب پہلی کانفرنس (Summit) کی میزبانی کی تو ۱۴،۱۵ مئی کو تومہمانوں کی فہرست میں اعلیٰ مناصب پر فائزحکام کے نام شامل تھے۔ ان میں اقوام متحدہ، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، یورپ کے صف اول کے ممالک اور یہاں تک کہ امریکا بھی۔ غرض ۱۰۰ ممالک کے ۱۰۰۰ مندوبین اس کانفرنس کا حصہ بنے۔ اس کانفرنس کا مقصد ان تمام معاملات پر گفتگو کرنا تھا جو شاہراہ ریشم کے حوالے سے ضروری تھے۔ ایشیا سے یورپ اور یورپ سے افریقا تک تمام ممالک اس پر تقسیم ہیں کہ چین کی جانب سے ۲۰۱۳ء میں نئی [مزید پڑھیے]

شاہراہِ ریشم کا احیاء: امکانات اور خدشات

May 1, 2017 // 0 Comments

ستمبر ۲۰۱۳ء میں قزاقستان کے دورے میں چین کے صدر شی جن پنگ نے قدیم سلک روٹ (شاہراہِ ریشم) کے احیاء سے متعلق خواب اور جذبے کو بے نقاب کیا۔ یہ خواب پورے وسط ایشیا کو ایک لڑی میں پرونے سے متعلق ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر سلک روڈ اکنامک بیلٹ SREB کی بات کہی۔ یہ آئیڈیا وسط ایشیا کے ممالک کو ایک لڑی میں پروکر ایشیا و بحرالکاہل کے خطے اور یورپ میں ابھرنے والے غیر معمولی معاشی امکانات کو حقیقت کی شکل دینے کے لیے تھا۔ اکتوبر ۲۰۱۳ء میں صدر شی جن پنگ نے اپنے انڈونیشیا کے دورے میں میری ٹائم سلک روڈ آف دی ٹوئنٹی فرسٹ سینچر MSR کا آئیڈیا پیش کیا۔ بیلٹ اور روڈ دونوں کا آئیڈیا ایک ہوکر پورے [مزید پڑھیے]